صدر نے ذاتی مفاد کے لیے قوم کو دھوکا دیا: ہاؤس تحقیقاتی رپورٹ

ہاؤس جوڈیشری کمیٹی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے حوالے سے جاری سماعت کے بعد پیر کو 650 صفحات کی رپورٹ شائع ہوئی جس میں کہا گیا کہ صدر نےعہدے کا غلط استعمال کیا۔

14 دسمبر کو فیلڈیلفیا میں  امریکیآرمی اور نیوی کے درمیان امریکی  فٹ بال گیم سے پہلے صدر ٹرمپ ٹاس کے لیے سکہ اچھالتے ہوئے (اے ایف پی) 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے حوالے سے جاری  سماعت کے بعد پیر کو ایوان نمائندگان کی ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ میں ہاؤس کمیٹی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اپنا ذاتی مفاد حاصل کرنے کے لیے’قوم کو دھوکا دینے‘  کا الزام لگایا جبکہ امریکی ایوان اب صدر ٹرمپ کے مواخذے پر تاریخی ووٹنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ 

ہاؤس جوڈیشری کمیٹی نے 650 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جاری کی  جس میں کہا گیا کہ  صدر ٹرمپ نے ـ’اپنے اعلیٰ عہدے کا غلط استعمال کر کے  ایک غیر ملکی طاقت کو  جمہوری انتخابات میں داخل اندازی  کرنے کا کہہ کر قوم کو دھوکا دیا۔‘

صدر ٹرمپ کو ایوان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندگان کی جانب سے لائے گئے مواخذے کی دو شقوں کا سامنا ہے، اختیارات کا غلط استعمال اور کانگریس کے کام میں رکاوٹ ڈالنا۔ یہ شقیں صدر ٹرمپ کی جانب سے فوجی امداد روک کر یوکرین پر 2020 کے صدراتی انتخابات میں ٹرمپ کے ممکنہ حریف جوبائیڈن کی تحقیقات کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے اور ہاؤس کی اس معاملے کی تحقیقات کو روکنے کی کوششوں کے حوالے سے لائی گئی ہیں۔

پیر کو اس پیش رفت پر ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا: ’ٹرانسکریپٹس کو پڑھیں!‘

ان کا کہنا تھا: ’مواخذے کا جھانسا  امریکی سیاست کی تاریخ میں سب سے بڑا دھوکا ہے۔ جعلی خبروں کا میڈیا اور اس  کی پارٹنر ڈیموکریٹک پارٹی ایک ساتھ  کام کر رہے ہیں تاکہ متحد ری پبلکن پارٹی کی زندگی مشکل بنا سکیں۔‘

گذشتہ ہفتے ہاؤس جوڈیشری پینل سے منظوری حاصل کرنے والی مواخذے کی شقوں پر امریکی ایوان نمائندگان بدھ کو ووٹ کریں گے۔ اس ووٹنگ سے صدر ٹرمپ کا مواخذہ ممکن ہے تاہم یہ توقع کی جارہی ہے کہ سینٹ میں ان کی بریت ممکن ہے۔

رپورٹ میں جوڈیشری کمیٹی نے مواخذے کے لیے ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی کے جمع شدہ ثبوتوں کی سمری پیش کی اور کہا کہ صدر ٹرمپ نے ’یہ دکھایا ہے کہ اگر انہیں صدارتی عہدے پر رہنے دیا جائے تو وہ قومی سلامتی اور آئین کو ایک خطرہ رہیں گے۔‘

رپورٹ کے مطابق مواخذے کی تحقیقات کے دوران ہاؤس کمیٹی کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کرنے سے  صدر ٹرمپ نے امریکی آئین کے چیک اینڈ بیلنس سسٹم کی خلاف ورزی کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم  اس رپورٹ سے اختلاف کرتے ہوئے  تحقیقاتی ہاؤس کمیٹی میں شامل ری پبلکن اراکین نے   ڈیموکریٹس کی جانب سے جمع کروائے گئے ثبوتوں کو’  معمولی‘ قرار دیا۔

کمیٹی میں شامل  ٹاپ ری پبلکن  جارجیا کے ڈگ کولنز نے کہا : ’یہ معمولی ریکارڈ  جس پر  زیادہ پر اراکین انحصار کر رہے  ہیں مواخذے کے آئینی عمل  کی توہین ہے اور  آنے والے صدروں کے لیے اس کے گمبھیر نتائج ہوں گے۔ جتنا جلدی اکثریت کی رپورٹ اور اس کے عوامل کو بھلائے جائے اتنا اچھا ہوگا۔‘

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری نے پیر کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ مواخذے کی رپورٹ کا ’رات گئے‘ ریلیزز کیا جانا یہ دکھاتا ہے کہ مواخذے کی کوشش ایک ’یک طرفہ دھوکا ہے۔‘

صدر ٹرمپ، جو امریکی تاریخ میں مواخذے کے لیے فرد جرم عائد کیے جانے والے چوتھے صدر ہیں، نے مسلسل اصرار کیا ہے کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔

پیر کو وہ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کئی ایسی ٹویٹ اور ری ٹویٹ پوسٹ کرتے رہے جو ان کے خلاف الزامات پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے اس ہفتے ہونے والی ’سٹاک مارکیٹ میں تیزی‘ کے بارے میں دعوے بھی ٹویٹ کیے اور کہا: ’میں آپ کو یہ بتا بتا کر بور نہیں ہوں گا اور ہم جیتنے سے کبھی نہیں تھکیں گے۔‘

 

اس رپورٹ میں ایسوسی اٹٹد پریس کی معاونت شامل ہے

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ