’جب کوما سے جاگی تو معلوم ہوا کہ ماں بن چکی ہوں‘

برطانوی نوعمر خاتون کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہیں پتہ چلا کہ وہ بچے کی ماں بن چکی ہیں۔

کریڈٹ: SWNS

برطانیہ کے گریٹر مانچسٹر کے علاقے اولڈہم سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ ای بونی سٹیونسن جب رات کو سوئی تو انہیں صرف درد محسوس ہو رہا تھا لیکن اگلی صبح وہ اٹھ نہ سکیں، چار دن بعد جب وہ کومے سے جاگیں تو ان پر انکشاف ہوا کہ وہ حمل سے تھیں اور اب ماں بن چکی ہیں۔

ای بونی سٹیونسن کو دو دسمبر کو اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کی بہت سی سرجریاں ہوئیں اور انہیں بےہوشی کی دوا دے دی گئی۔

حمل کی کوئی علامات نہ ہونے اور حیض نہ رکنے کے باوجود بھی ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ سٹیونسن امید سے تھیں۔

حمل کی مخصوص پیچیدگی پری ایکلمپسیا کی وجہ سے سٹیونسن کا آپریشن کرنا پڑا۔ پری ایکلمپسیا ایک ایسی صورتحال ہوتی ہے، جہاں ماں اور بچے کی صحت کو خطرات لاحق ہوتے ہیں اور آپریشن کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔

 پیر تین دسمبر کو سٹیونسن کی بیٹی ایلوڈی کی پیدائش ہوئی، لیکن وہ اسے چار دن بعد اُس وقت پہلی مرتبہ دیکھ سکیں جب انہیں کوما سے باہر لایا گیا۔

سٹیونسن کے مطابق، ’کوما سے جاگنے کے بعد جب مجھے بتایا گیا کہ میں حمل سے تھی اور میری ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے تو یہ میرے لیے بہت جذباتی لمحہ تھا۔‘

'اپنی بیٹی سے ملنا، میرے لیے ایک نہایت اچھا احساس تھا، مجھے یہ ایک بہت انوکھا تجربہ محسوس ہوا۔'

اسپورٹس فزیوتھراپی کی طالبہ سٹیونسن ایک انوکھی طبی صورتحال یوٹرس ڈائیڈلفس کے ساتھ پیدا ہوئی تھیں، جو تین ہزار خواتین میں سے کسی ایک خاتون میں پائی جاتی ہے، یعنی وہ دو رحم ( یوٹرس) کے ساتھ پیدا ہوئی تھیں۔

اس بات کی وضاحت نہایت مشکل ہے کہ سٹیونسن کا حمل اتنا پوشیدہ کیوں تھا اور یوٹرس میں جنین کی موجودگی کے باوجود اسے حیض آتے رہے۔

دوسری جانب ایلوڈی کی پیدائش اس لحاظ سے بھی معجزاتی قرار دی جاسکتی ہے، کیونکہ صرف ایک ہی یوٹرس، فیلوپیئن ٹیوب کی مدد سے بچہ دانی سے منسلک ہوتا ہے۔

سٹیونسن نے بتایا، 'میں پریشان تھی کہ میرا اپنی بیٹی سے اس طرح کا تعلق نہیں بن پائے گا، جیسا کہ ایک ماں کا ہونا چاہیے کیونکہ میں اس کی آمد کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی، لیکن میرا خیال ہے کہ وہ شاندار ہے۔‘

سٹیونسن کے مطابق سننے میں یہ عجیب سا لگتا ہے، لیکن جب میں جاگی تو میں انہیں کہا کہ اسے (میری بیٹی) کو دور لے جاؤ کیونکہ میں بہت کنفیوژ تھی اور مجھے اس بات کا یقین تھا کہ ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے۔

لیکن میری والدہ نے مجھے ساری بات سمجھائی اور پھر نرسوں نے اس چھوٹی سی بچی کو میرے ہاتھ میں دے دیا تاکہ میں پہلی مرتبہ اسے تھام سکوں۔

سٹیونسن کی 'معجزاتی' بچی ایلوڈی پیدائش کے وقت بالکل صحت مند تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس نے حمل کا وقت پورا کیا ہے جبکہ اس کی ماں کو اس کا علم ہی نہیں ہوا۔

ای بونی سٹیونسن کی والدہ شیری سٹیونسن نے بتایا، 'ڈاکٹروں نے کہا کہ ایلوڈی ایک معجزاتی بچی ہے، کیونکہ اس طرح کی طبی صورتحال والی خواتین میں یا تو حمل ٹھہرتا ہی نہیں یا پھر وہ حمل کی مدت مکمل نہیں کر پاتیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت