بریسٹ کینسر کی نشاندہی میں گوگل کی مصنوعی ذہانت زیادہ بہتر

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق گوگل کا مصنوعی ذہانت سے لیس نظام ماہر ریڈیالوجسٹس کے مقابلے میں چھاتی کے سرطان کی زیادہ بہتر انداز میں نشاندہی کر سکتا ہے۔

ایک کنسلٹنٹ میموگرام کا معائنہ کرتے ہوئے۔ (تصویر: پی اے)

ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ گوگل کا مصنوعی ذہانت سے لیس نظام ماہر ریڈیالوجسٹس کے مقابلے میں چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) کی زیادہ بہتر انداز میں نشاندہی کر سکتا ہے۔

یہ تحقیق طبی ماہرین کے مقابلے میں گوگل کے مصنوعی ذہانت کے ماہرین کے تیار کردہ نظام کے تحت کی گئی۔ دونوں نے چھاتی کے تفصیلی ایکسرے (میموگرامز) کا معائنہ کیا جس سے پتہ چلا کہ مصنوعی ذہانت کے نتائج بہتر تھے۔

تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت زیادہ تر اتنے ہی اچھے طریقے سے چھاتی کے سرطان کی نشاندہی کرتی ہے جتنی اچھے طریقے سے انسان کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت چھاتی کے سرطان کی غلط تشخیص سے بچنے میں زیادہ بہتر صلاحیت کی مالک ہے۔

یہی وجہ ہے کہ صحت کے ماہرین کو اب امید ہو گئی ہے کہ چھاتی کے سرطان کی تشخیص کی شرح میں اضافے کے لیے اسی قسم کی ٹیکنالوجی استعمال کی جا سکتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر آٹھ میں سے ایک خاتون چھاتی کے سرطان اور صحت کے دوسرے مسائل کا شکار ہوتی ہے۔

چھاتی کے سرطان کی تشخیص میں مصنوعی ذہانت اور طبی ماہرین کی صلاحیت کا موازنہ امریکی اور برطانوی محققین نے کیا ہے۔ تحقیق کے نتائج نیچر نامی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔ یہ ایک جدید ترین تحقیق ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ مصنوعی ذہانت صحت کے نظام میں ڈرامائی تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

امریکی کینسر سوسائٹی نے کہا ہے کہ ریڈیالوجسٹ میموگرامز کے ذریعے کے چھاتی کے سرطان کے تقریباً 20 فیصد کیسوں کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے اور10  سال سے زیادہ کے عرصے میں جن خواتین کی سکریننگ کی گئی ان میں سے نصف میں غلط طور پر سرطان کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرطان کی تشخیص کے حوالے سے تحقیق کے نتائج الفابیٹ اِن کارپوریشن کے ڈیپ مائنڈ مصنوعی ذہانت یونٹ نے تیار کیے ہیں۔ یہ یونٹ ستمبر میں گوگل ہیلتھ میں ضم ہو گیا تھا۔

شکاگو میں نارتھ ویسٹرن میڈیسن سے وابستہ اور تحقیقی رپورٹ لکھنے میں شامل موزیار اتمادی کا کہنا ہے کہ چھاتی کے سرطان کی جلد نشاندہی کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں بڑی پیش رفت میں یونٹ کا کردار اہم ہے۔

تحقیق کرنے والی ٹیم میں شامل امپیریل کالج لندن اور نیشنل ہیلتھ سروسز کے محققین نے مصنوعی ذہانت کے نظام کو لاکھوں میموگرامز میں چھاتی کے سرطان کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اس نظام کی کارکردگی کا برطانیہ میں 25 ہزار 856 اور امریکہ میں تین ہزار 97 میموگرامز کے سیٹس کے ساتھ موازنہ کیا۔

تحقیق سے سامنے آیا کہ مصنوعی ذہانت کا نظام بھی اتنی ہی درستگی کے ساتھ چھاتی کے سرطان کی نشاندہی کرسکتا ہے جتنی درستگی سے ماہر ریڈیالوجسٹ کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کے میموگرامز میں مرض کی نشاندہی میں غلطی کا تناسب 5.7 فیصد اور برطانوی میموگرامز میں 1.2 فیصد کم تھا۔

اس طرح مصنوعی نظام کے تحت سرطان کے مرض کی تشخیص میں ناکامی کے واقعات میں امریکی گروپ میں 9.4 اور برطانوی گروپ میں 2.7 فیصد کمی ہوئی۔ اس سے پہلے ان گروپوں میں شامل میموگرامز کو غلط طور نارمل قرار دیا گیا تھا۔

اس طرح ان طریقوں کے فرق کا پتہ چلتا ہے جن کے تحت میموگرامز پڑھے جاتے ہیں۔ امریکہ میں صرف ریڈیالوجسٹ ہی میموگرام کے نتائج کا مطالعہ کرتے ہیں اور ہر ایک سے دو سال میں ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ برطانیہ میں ہر تین سال میں ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور ہرمیموگرام کو دو ریڈیالوجسٹ پڑھتے ہیں۔ دونوں کے درمیان اختلاف کی صورت میں تیسرے کی رائے لی جاتی ہے۔

ایک الگ ٹیسٹ میں مصنوعی ذہانت کے نظام کو چھ ریڈیالوجسٹوں کے مقابلے میں رکھا گیا جس سے پتہ چلا کہ چھاتی کے سرطان کی درست تشخیص میں اس نظام کی کارکردگی ریڈیالوجسٹوں کے مقابلے میں بہتر تھی۔

امریکہ میں ہارورڈ کے میساچوسٹس جنرل ہسپتال کے شعبہ امیجنگ کی سربراہ کونی لیمن کا کہنا ہے کہ ان کے اپنے کام سمیت میموگرامز میں سرطان کی نشاندہی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے متعدد گروپوں کے نتائج دوسرے نتائج سے مطابقت رکھتے ہیں۔

سرطان کی تشخیص کا عمل بہتر بنانے کے لیے کمپیوٹر کے استعمال کا خیال کئی عشرے پرانا ہے۔ کمپیوٹر کی مدد سے سرطان کی تشخیص کا نظام (سی اے ڈی) میموگرافی کرنے والے کلینکوں میں عام ہے۔ اس کے باوجود اسے علاج کے لیے بہتر نہیں بنایا گیا۔

ڈاکٹر لیمن کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ سی اے ڈی ان پروگرامز چیزوں کی مدد سے تیار کیے گئے جنہیں ریڈیالوجسٹ دیکھ سکتے جبکہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ کمپیوٹر ہزاروں میموگرامز کے حقیقی نتائج کی بنیاد پر سرطان کی نشاندہی کرنا سیکھتے ہیں۔ اس عمل میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ ’ان باریک علامات کی نشاندہی میں انسانی صلاحیت سے آگے نکل جائیں جن کا انسانی آنکھ اور دماغ احاطہ نہیں کر پاتے۔‘

ڈاکٹر اتمادی کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی تک کمپیوٹر’بہت زیادہ مددگار‘ ثابت نہیں ہوئے ’جیسا کہ ہم نے کم ازکم ہزاروں میموگرامز میں دکھایا ہے لیکن یہ ایسا آلہ ہیں جو بہت اچھی معلومات کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کر سکتا ہے۔‘

تاہم اس مطالعے کی کچھ خامیاں بھی ہیں۔ جو ٹیسٹ کیے گئے وہ زیادہ تر امیجنگ کا ایک ہی طرح کا آلہ استعمال کرکے کیے گئے جب کہ امریکی گروپ میں شامل میموگرام بہت سے ایسے مریضوں کے تھے جن میں چھاتی کے سرطان کی تصدیق ہو چکی تھی۔

کیورمیٹرکس کی چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر لیزا وتنابے نے کہا ہے کہ سب سے اہم بات محققین کی ٹیم کی جانب سے یہ دکھانا ہے کہ سرطان کی تشخیص کا نیا نظام مریض کی دیکھ بھال کے عمل میں بہتری لا سکتا ہے۔ لیزا کے مصنوعی ذہانت کے میموگرام پروگرام کو گذشتہ برس امریکہ میں اجازت دی گئی تھی۔

ڈاکٹر لیزا نے کہا: ’مصنوعی ذہانت کا سافٹ ویئر صرف اسی صورت میں مدد گار ہوگا جب اس سے ریڈیالوجسٹ کو مدد ملے۔‘

ڈاکٹر اتمادی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سرطان کی تشخیص میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے باضابطہ اجازت کی خاطر تحقیق کی ضرورت ہے اور اس عمل کو مکمل ہونے میں کئی برس لگیں گے۔

(اضافی رپورٹنگ: روئٹرز کی جانب سے)

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق