’ہم دیکھیں گے‘ کہ ’یہ فیض ہے کون؟‘

بھارت کے شہر کانپور میں فیض احمد فیض کی مشہور نظم ’ہم دیکھیں گے‘ پڑھنے والے طلبہ کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

فیض  بےحد سیکیولر انسان تھے اور ان کے ہاں کہیں بھی مذہبی تفرقے کا شائبہ نظر نہیں آتا(تصویر سوشل میڈیا)

بھارت کے شہر کانپور میں فیض احمد فیض کی مشہور نظم ’ہم دیکھیں گے‘ پڑھنے والے طلبہ کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کانپور نے ایک پینل تشکیل دیا ہے جو اس بات کی تفتیش کرے گا کہ آیا فیض کی یہ نظم ہندو مت کے خلاف ہے۔

یہ نظم 17 اگست کو یونیورسٹی کے طلبہ نے دہلی کی جامعہ ملیہ کے طلبہ سے یکجہتی کے اظہار میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران پڑھی تھی۔

بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبر وشیمنت شرما سمیت سمیت 16 دوسرے افراد نے یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کو درخواست درج کروائی تھی کہ اس نظم کے الفاظ سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہو سکتے ہیں۔

اس کے بعد سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور اس سلسلے میں مظاہرے میں شریک طلبہ سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

تحقیقات میں دیکھا جائے گا کہ آیا واقعی یہ نظم ہندو مخالف ہے اور یہ کہ آیا اسے پڑھ کر طلبہ نے انسٹی ٹیوٹ کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انسٹی ٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر اگروال نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ’بظاہر یہ نظم ہندو مخالف جذبات کو فروغ دیتی ہے۔ فیض احمد فیض کون ہے؟‘

یہ نظم فیض احمد فیض کی کتاب ’مرے دل مرے مسافر‘ میں شامل ہے اور اس نظم کا نام ’و یبقیٰ وجہ ربک‘ ہے۔ فیض نے یہ نظم جنوری 1979 میں اس وقت لکھی تھی جب وہ امریکہ میں رہائش پذیر تھے۔ اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا تھا اور صرف تین ماہ بعد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی جانے والی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فیض کی اس نظم پر پاکستان میں بھی تنازع کھڑا ہو چکا ہے۔ مشہور گلوکارہ اقبال بانو نے ضیاء الحق کے دور میں 1985 میں لاہور میں اقبال بانو نے یہ نظم گائی تو انہیں سننے کے لیے 50 ہزار کا مجمع اکٹھا ہو گیا جو نظم کے بیچ میں بار بار نعرے لگاتا رہا۔

اس دوران اقبال بانو نے سیاہ رنگ کی ساڑھی پہن رکھی تھی حالانکہ اس دور میں عورتوں کو تاکید کی جاتی تھی کہ وہ شلوار قمیص اور دوپٹہ اوڑھیں۔

نظم میں ایسا ہے کیا؟

نظم کا عنوان ’و یبقیٰ وجہ ربک‘ قرآن کی سورۂ رحمٰن سے لیا گیا ہے جس مطلب ہے ’صرف تمہارے رب کی ذات باقی جائے گی۔‘ اسے اگر پچھلے والی آیت كُلُّ مَنْ عَلَيْـهَا فَان سے ملا کر پڑھا جائے تو مطلب سمجھ میں آتا ہے: جو کوئی زمین پر ہے فنا ہوجانے والا ہے، صرف تمہارے رب کی ذات باقی رہ جائے گی۔‘

نظم کے اندر قرآن سے لیے گئے کئی مناظر پیش کیے گئے ہیں، جن میں یومِ قیامت کی منظر کشی کی گئی ہے۔

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے

۔ ۔ ۔

جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی

۔ ۔ ۔
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

تاہم بظاہر نظم کی جس سطر پر اعتراض کیا گیا ہے وہ یہ ہے:

جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے

کانپور انسٹی ٹیوٹ کے کرتا دھرتاؤں نے غالباً اس سے مراد اصل بت لیے ہیں جن کی بھارت میں پوجا کی جاتی ہے، اور نظم کا مطلب یہ نکالا گیا ہے کہ شاید فیض بت پرستی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن اگر فیض کے کلام کو سرسری نظر سے بھی دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فیض بےحد سیکیولر انسان تھے اور ان کے ہاں کہیں بھی مذہبی تفرقے کا شائبہ تک نظر نہیں آتا۔

فیض ترقی پسند تحریک کے اہم رکن تھے جن کا مشن دنیا سے سرمایہ داری نظام کا خاتمہ اور عوام دوست حکومتوں کا قیام تھا۔ یہ نظم بھی فیض کی اسی آئیڈیالوجی سے ہم آہنگ ہے۔ وہ نظم میں دنیا کے جابر حکمران کا ذکر کر رہے ہیں، اور اس دن کے منتظر ہیں جب ان حکمرانوں کا تختہ الٹ دیا جائے گا۔۔

اس نظم کی انفرادیت یہی ہے کہ اس میں فیض نے مذہبی علامات ضرور استعمال کی ہیں لیکن وہ ان سے مراد کچھ اور لے رہے ہیں۔ نظم کے اندر موجود مذہبی لفظیات صرف ایک پرت ہیں، اس پرت کو ہٹا کر نظم کے اندر دیکھا جائے تو اشتراکی انقلاب کا نظریہ صاف نظر آتا ہے۔

نظم میں فیض وہ قیامت اور قیامت کے دوران ہونے والی تباہی کا ذکر ضرور کر رہے ہیں، لیکن یہ قیامت مذہبی نہیں بلکہ اشتراکی انقلاب کی ہے جب دنیا کا موجودہ زر پر مبنی نظام کا ڈھانچہ زمیں بوس ہو جائے گا۔

یہ وہ قیامت نہیں جب کائنات تباہ ہو جائے گی اور آخرت کی زندگی کا آغاز ہو گا، بلکہ وہ ایک نئے نظام کی ابتدا کی نوید سنا رہے ہیں، کہ جب یہ قیامت بپا ہو گی تو ’ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم مسند پہ بٹھائے جائیں گے،‘ اور ’جب راج کرے گی خلقِ خدا۔‘

فیض کی شاعری سے واجبی واقفیت رکھنے والوں کو بھی معلوم ہو گا کہ اس نظم میں وہ بتوں سے مراد ہندو مت کے بت نہیں لے رہے بلکہ اس سے مراد جابر حکمران ہیں اور وہ انقلاب کے ذریعے ان کی خاتمے کا خواب دکھا رہے ہیں۔ نظم کا کمال یہی ہے کہ اس میں آئرنی سے کام لیا گیا ہے کہ اوپری سطح پر اور کچھ ہے اور اندر کچھ اور۔ 

لیکن فیض کی شاعری سے واقفیت تو دور کی بات، آئی آئی ٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اگروال تو پوچھ رہے ہیں کہ ’یہ فیض کون ہے؟‘

شاید فیض نے اسی موقعے کے لیے کہا تھا:

ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے
بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا

لیکن اس شعر کو بین کرنے سے پہلے غور کر لیجیے کہ یہاں بت سے کیا مراد ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ادب