سام سنگ ’ڈیجیٹل انسان‘ بنانے جا رہا ہے

توقع کی جا رہی ہے کہ اس مصنوعی انسان کو ہوٹلوں میں بطور ڈیجیٹل ریسپشنسٹ اور کسٹمر سروس، یا پھر ٹی وی پر بطور نیوز اینکر اور فلموں میں اداکار کے طور پر دیکھا جاسکے گا۔

نیون پراجیکٹ کی سربراہ پرانو مستری  ڈیجیٹل انسانوں کو2020 کی نئی دہائی کی سب سے اہم ٹیکنالوجی قرار دیتی ہیں (پرانو مستری/سام سنگ)

دنیا کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی میلے سی ای ایس 2020 (CES2020) کا آغاز لاس ویگاس میں ہوا چاہتا ہے۔

سات سے 10 جنوری تک جاری رہنے والے اس میلے میں ساڑھے چار ہزار سے زائد ٹیکنالوجی کمپنیاں اور سٹارٹ اپس پونے دو لاکھ حاضرین کے سامنے اپنی نئی مصنوعات پیش کریں گی۔

بڑی کمپنیاں عموماً اپنی بہترین مصنوعات مثلاً فلیگ شپ سمارٹ فونز، ٹی وی، کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس وغیرہ اسی میلے میں متعارف کرتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس میلے میں منفرد ڈیوائسز اور ٹیکنالوجیز بھی نظر آتی ہیں، جیسے اس مرتبہ ’ڈیجیٹل انسان‘ کی بڑی دھوم ہے۔ یہ ڈیجیٹل انسان سام سنگ کے نئے پراجیکٹ ’نیون‘ کا حصہ ہے۔

فی الحال سام سنگ نے نیون کے بارے میں باضابطہ طور زیادہ معلومات جاری نہیں کیں لیکن جنوبی کورین کمپنی کی ذیلی اور اس منصوبے کی روح رواں لیب ’سٹار‘ کچھ ہفتوں سے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس حوالے سے ٹیزر جاری کر رہی تھی۔

تاہم، اب میلہ شروع ہونے سے قبل اس منصوبے کی کچھ  مزید معلومات شیئر کی گئی ہیں۔

نیون پراجیکٹ کی سربراہ پرانو مستری نے کچھ ٹویٹس کی ہیں جن میں نیون ایکشن میں نظر آتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مصنوعی انسان یا اواتار ایک جیتے جاگتے انسان کی طرح خود ساختہ جذبات اور احساسات کا حامل اور مکالمے بولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ آپ اس مصنوعی انسان کو ہوٹلوں میں بطور ڈیجیٹل ریسپشنسٹ اور کسٹمر سروس، یا پھر ٹی وی پر بطور نیوز اینکر اور فلموں میں اداکار کے طور پر دیکھ سکیں گے۔

یہ اواتار آپ کے مشکل سوالوں کے جواب بھی دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مستری نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں ڈیجیٹل انسانوں کو2020 کی نئی دہائی کی سب سے اہم ٹیکنالوجی قرار دیا تھا۔ امید ہے سام سنگ اس میلے میں نیون سے متعلق مزید تفصیلات بھی جاری کرے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی