ملہار راٹھور نے ’کاسٹنگ کاؤچ‘ کا مقابلہ کیسے کیا؟

بھارت کی شوبز انڈسٹری کی چکاچوند اور کشش کا فائدہ اٹھا کر پروڈیوسر کیا کیا گل کھلاتے ہیں؟

املہار راٹھور اکیلی نہیں ہیں، ان جیسے تجربات سے کئی نوجوان اداکاراؤں کو گزرنا پڑتا ہے (اے ایف پی)

نوجوان اداکارہ ملہار راٹھور دل میں کئی آرزوئیں لیے رول ملنے کا خواب دیکھتے ہوئے ایک پروڈیوسر کے پاس پہنچیں۔

لیکن اس کے بعد انہیں یہ سمجھنے میں ایک منٹ لگا کہ 65 سالہ بھارتی فلم پروڈیوسر انہیں کیا کرنے اور کوئی فیصلہ کرنے کے بعد جانے کے لیے کہہ رہے تھے۔

راٹھور جو اس وقت ٹیلی ویژن کی ابھرتی ہوئی سٹار ہیں، انہوں نے ممبی میں خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پروڈیوسر کا ’دعویٰ تھا کہ ان کے پاس میرے لیے کوئی کردار ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے قمیص اتارنے کے لیے کہا۔‘

راٹھور کا تجربہ جسے بالی وڈ کے ’کاسٹنگ کاؤچ‘ کلچر کا خوش نما نام دیا جاتا ہے، اس کی بدولت ان لوگوں کی مشکلات نمایاں ہوتی ہیں جو بھارت کی بڑی فلمی صنعت میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ فلم انڈسٹری اس میں موجود لوگوں کے لیے مخصوص ہے جہاں ’می ٹو‘ تحریک کو بہت کم پذیرائی ملی ہے۔

می ٹو تحریک کے نتیجے میں ہالی وڈ کے ہاروی وائن سٹائن اور کیون سپیسی جیسے طاقتور پروڈیوسروں کے زوال کا شکار ہونے کے بعد بالی وڈ میں بہت سی خواتین نے طویل عرصے سے لگی خاموشی کی مہر توڑتے ہوئے اپنے جنسی ہراسانی کے تجربے پر بات کرنا شروع کی ہے۔

بھارتی فلمی صنعت میں اس معاملے کو کسی اور طرح سے دیکھا گیا۔ مبینہ ہراسانی میں ملوث بہت سی شخصیات کچھ عرصے تک دُبکے رہنے کے بعد اپنا کیریئر بچانے میں کامیاب رہیں۔

بھارتی فلموں کے دیوانے ہیں۔ یہاں دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بنتی ہیں اور یہاں ہر سال مختلف زبانوں کی تقریباً 18 سو فلمیں ریلیز کی جاتی ہیں۔ اس طرح بھارتی فلمی صنعت ہالی وڈ سے آسانی سے آگے نکل جاتی ہے۔ لیکن اقربا پروری کی شکار فلمی صنعت میں کیریئر بنانا ایک چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

مشہور شخصیات کے بچوں کے برعکس جنہیں سٹار بننے کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور فلمی دنیا میں ان کی پہلی انٹری پہلے سے طے ہوتی ہے، بیرونی دنیا کے لوگوں کو عیاش مردوں سے بچنا پڑتا ہے۔ انہیں آڈیشن اور مسترد کر دیے جانے کے معمول کے تلخ عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خواب حقیقت بنتا ہے

اداکار پارس ٹھکرال نے اے ایف پی کو بتایا، ’اگر آپ کے تعلقات نہیں ہیں تو بالی وڈ میں داخلہ بہت مشکل ہے۔ کوئی آپ کو کھانے کی پیش کش نہیں کرے گا۔ آپ کو چھوٹے چھوٹے کام کر کے اوپر جانا پڑتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’میں نے بقا کے لیے ہر قسم کا کام کیا ہے۔ میں نے کال سنٹر، مارکیٹنگ اور لوگوں کو کمپنیوں کی طرف متوجہ کرنے کے شعبوں میں کام کیا۔‘ ٹھکرال 2008 میں ممبئی منتقل ہوئے اور اس وقت سے اب تک دو ٹیلی ویژن شوز اور چند فلموں میں ہی کام کیا۔

وہ کہتے ہیں: ’متبادل کیریئر یقینی طور پر آسان ہوتا لیکن ایک اداکار بننا خواب تھا جو پورا ہو گیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملہار خوش قسمت افراد میں سے ایک ہیں۔ ابتدا میں کاسٹنگ کاؤچ کی مشکل کا سامنا کرنے کے بعد اب بھارتی ناظرین کے لیے ایک جانا پہچانا چہرہ ہیں۔ وہ کریمیں بنانے والی بین الاقوامی کمپنیوں کے اشتہارات میں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کمپنیوں میں گارنیئر اور ڈوّ شامل ہیں۔

ملہار پانچ افراد مشتمل خاندان کی واحد کفیل ہیں۔ خاندان میں ان کی دو چھوٹی بہنیں بھی شامل ہیں۔ راٹھور نے ٹیلی ویژن تک راستہ بنانے میں کامیاب رہیں۔ انہوں نے ڈزنی کی ملکیت سٹریمنگ پلیٹ فارم کے مقبول کرائم تھرلر’ہوسٹیجز‘میں کام کیا۔

25 سالہ ملہار کو یہ کامیابی اداکارہ پریتی زنٹا اور دپیکا پادوکون کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سلور سکرین پر نمودار ہونے کی صورت میں ظاہر ہونے کی امید ہے۔ ان اداکاراؤں نے بالی وڈ کیریئر کا آغاز اشتہارات ہی سے کیا تھا۔

لیکن ملہار کو اچھی طرح علم کے سب کچھ ایک لمحے میں ختم ہو سکتا تھا۔

انہوں نے کہا، ’کردار ملنے کی خبر سننے کے انتظار میں وہ راتوں کو جاگتی رہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ذہنی سکون کے لیے حال ہی میں پوجا اور مراقبے کر طرف رجوع کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’آپ بہت زیادہ امیدیں نہیں لگا سکتے ورنہ آپ کو مستقل مایوسی ہو گی۔‘

کامیابی کی ہر کہانی کے ساتھ خواہشات رکھنے والے ہزاروں ایسے ادارکار بھی ہیں جو بڑی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ یہاں تک کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کی صفوں کا حصہ بن کر ممبئی کے شمالی مضافات جہاں بالی وڈ کے بڑے سٹوڈیوز قائم ہیں، آڈیشن کے لیے قطاریں بنا رہے ہیں۔

اداکاری کی کشش

کاسٹنگ ڈائریکٹر گریش ہیول نے اے ایف پی کو بتایا کہ اشتہارات میں کردار ادا کرنے کی خواہش رکھنے والے بہت سے اداکار جن سے ان کا واسطہ پڑتا ہے 2014 سے ان کی تعداد دگنی ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرا ایسے ڈاکٹروں اور انجینیئروں سے بھی واسطہ پڑا ہے جنہوں نے لگائی لگائی ملازمت چھوڑ دی کیونکہ وہ اداکاری کرنا چاہتے تھے۔ بڑی کامیابی کے انتظار میں سال گزرتے رہتے ہیں۔ لوگ گھر واپس چلے جاتے ہیں یا وہ صنعت میں کوئی اور کام شروع کر دیتے ہیں۔ وہ لباس تیار کرنے کے کام میں لگ جاتے ہیں یا اسسٹنٹ ڈائریکٹر بن جاتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ پانچ سو کے قریب آڈیشنز کے لیے پانچ برس صرف کر دیتے ہیں لیکن انہیں کبھی کام نہیں ملتا۔‘

اس کے باجود چکاچوند اور بالی وڈ میں کامیابی کے لیے بہت سی مشکلات کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔ ان مشکلات میں جنسی ہراساںی سے لے کر کئی ماہ تک کام کے بغیر رہنا ہے۔

ملہار کہتی ہیں، ’شروع میں، میں اتنی خوف زدہ ہوتی تھی کہ اپنی ساتھ ہونے والی کسی بدسلوکی کا والدہ سے ذکر نہیں کر سکتی تھیں کیونکہ میرا خیال تھا کہ گھر والے مجھے اداکارہ بننے کے راستے پر چلنے سے روک دیں گے۔‘

بھارتی فلمی صنعت میں جنسی ہراسانی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’میں یہاں می ٹو تحریک سے بہت خوش ہوں۔ اس سے پہلے سب ہو رہا تھا اور کوئی اس بارے میں بات نہیں کرتا تھا۔‘

ٹھکرال کے لیے، جو معاملے کی اونچ نیچ سے اچھی طرح واقف ہیں، اداکاری کے شوق کے مقابلے میں خطرات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اداکاری کا موازنہ نشے سے کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’میرے والد یہ نہیں سمجھتے کہ میری زندگی کیسے گزر رہی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں گھر بساؤں اور ان کا کاروبار سنبھالوں۔

اس سال موسم سرما میں نئی دہلی کے آبائی شہر واپس آنے والے 34 سالہ ٹھکرال کہتے ہیں کہ ’کسی حد تک میں بھی ایسا چاہتا ہوں۔ یہ زندگی آسان ہو گی۔‘

لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں اس وقت واپس آؤں گا جب میرے پاس کچھ پیسے ہوں گے۔ میری کچھ حیثیت ہو گی۔ میں نہیں جانتا کہ یہ کب ہو گا لیکن یہ ہو گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فلم