سنگین غداری کیس: ’تیاری کے ساتھ آئیں، ایزی نہ لیں‘

لاہور ہائی کورٹ میں پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے پرویز مشرف کے وکلا سے کہا ہے کہ ہم صرف یہ دیکھیں گے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل قانون کے مطابق ہوئی ہے یا نہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ فوجداری مقدمہ چلانے کے لیے مدعی ضروری ہوتا ہے اس مقدمہ میں کسی کو مدعی بنایا گیا؟ (اے ایف پی)

لاہور ہائی کورٹ میں پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے پرویز مشرف کے وکلا سے کہا ہے کہ ہم صرف یہ دیکھیں گے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل قانون کے مطابق ہوئی ہے یا نہیں۔

سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست پر سماعت جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں فل بنچ نے کی۔

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل خواجہ احمد طارق رحیم کا موقف تھا کہ سابق صدر پرویزمشرف کے خلاف سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ذاتی رنجش پر کیس دائر کیا اور خصوصی عدالت کی تشکیل بھی غیر قانونی تھی نیز جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ان کا موقف سنے بغیر ہی سنگین غداری کا مرتکب قرار دے کر سزائے موت سنادی گئی ہے اس عمل کو کالعدم قرار دیا جائے۔

جس پر عدالت نے درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرلی اور رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کر دیا جب کہ مزید سماعت کل، بروز جمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔

عدالتی کارروائی اور وکلا کے دلائل

سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے ان کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے مصطفی ایمپکیس کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس کیس کے مطابق آئینی ترمیم کا اطلاق ماضی سے نہیں ہو سکتا۔‘ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے خواجہ طارق رحیم کو ہدایت دی کہ ’مصطفی ایمپکیس کیس کو چھوڑیں اور اپنے کیس پر دلائل دیں، دائیں بائیں نہ جائیں۔‘

خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ ’میں نے اس درخواست خصوصی عدالت کی تشکیل کو چیلنج کیا ہے،پرویز مشرف کا کیس بالکل سیدھا سا ہے۔ خصوصی عدالت کی تشکیل غیر قانونی ہے۔پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کی تشکیل اور انکوائری شروع کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا ہے۔‘

جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ’کیا آپ نے اپنا کیس پڑھا ہے؟ کیا آپ نے تیاری کی ہے کیس کی؟ آپ وقت لے لیں اور تیاری کے ساتھ آئیں۔ یہ اہم معاملہ ہے آپ اسے ایزی نہ لیں۔‘

عدالت کی درست معاونت نہ کرنے پر عدالت کا اظہار ناراضگی

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم صرف یہ دیکھیں گے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل قانون کے مطابق ہوئی ہے یا نہیں اور یہ بھی بتائیں کہ قانونی طور قابل سماعت کیسے ہے؟

پرویز مشرف کے دوسرے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کے روبرو کہا کہ سپریم کورٹ میں کسی ملزم کی غیر موجودگی میں کیس کا فیصلہ ہونے کا نکتہ طے نہیں ہوا۔ سنگین غداری ایکٹ میں 2010 میں ترمیم کی گئی اور ایمرجنسی کو نافذ کرنے کے عمل کو بھی شامل کیا گیا۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ عدالت نے سوال پوچھے تھے کہ آئین معطلی اور ایمرجنسی لگانا دو مختلف چیزیں ہیں؟ جسٹس محمد امیر بھٹی نے استفسار کیا کہ ایمرجنسی کیا صدر نے لگانی ہے یا جنرل نے؟ کیا 12 اکتوبر اور تین نومبر کے اقدامات دو مختلف چیزیں نہیں؟

اس پر وکیل اظہر صدیق نے جواب دیا کہ لفظ چیف ایگزیکٹیو کا استعمال کیا گیا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ غداری کے معاملے کا اطلاق 18ویں ترمیم سے پہلے ہو سکتا ہے یا نہیں۔ عدالت نے پوچھا  کہ پرویز مشرف پر کس قانون کے تحت فرد جرم عائد کی گئی؟  کیا ان تمام معاملات کو عبدالحمید ڈوگر کیس میں کالعدم نہیں کر دیا گیا تھا؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 1973 اور 1976 کے سنگین غداری کیس کا ٹرائل کیا جاسکتا ہے، 18ویں ترمیم کے بعد سنگین غداری قانون میں طریقہ کار شامل کرنا تھا جو نہیں بنایا گیا۔ 24 جون 2013 کو کابینہ میٹنگ میں اٹارنی جنرل کو مفاد عامہ میں یہ کیس دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس دوران صرف ایک میٹنگ کابینہ کی ہوئی۔

عدالت نے قرار دیا کہ قانون یہ ہے کہ شکایت کے بعد انکوائری ہوتی ہے اس میں انکوائری پہلے ہوئی ہے اور شکایت بعد میں درج ہوئی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کے خلاف شکایت کب درج ہوئی؟ وکلا نے بتایا 12 اکتوبر 2013 کو شکایت درج ہوئی، اور اٹارنی جنرل کی جانب سے کابینہ کو لکھے گئے خط کی بنیاد پر ہی خصوصی عدالت قائم کر کے کیس چلایا گیا، ریکارڈ پر کابینہ کی میٹنگ کا کوئی ذکر نہیں ہے، اس کیس میں نہ کابینہ کی منظوری ہے اور نہ حکومت نے انکوائری کا کہا ہے، جبکہ 18 نومبر 2013 کو خصوصی عدالت تشکیل دے دی گئی۔

اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ فوجداری مقدمہ چلانے کے لیے مدعی ضروری ہوتا ہے اس مقدمہ میں کسی کو مدعی بنایا گیا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سیکرٹری داخلہ کو مجاز افسر بنایا کیونکہ ایس آر او کے تحت سیکرٹری داخلہ ہی شکایت کے مجاز تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان اور ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے اس کیس کے لیے خصوصی عدالت قائم کرنے کی منظوری دی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان