ٹرمپ کا ایران سے مظاہرین کو ہلاک نہ کرنے کا مطالبہ

ایران کی جانب سے گذشتہ ہفتے تہران میں ایک یوکرینی مسافر طیارے کو مار گرانے کے اعتراف کے بعد  ایرانی شہریوں کا احتجاج  اتوار کو دوسرے روز بھی جاری رہا۔

11 جنوری کو تہران میں یوکرینی طیارے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تاد میں ایک تقریب کے بعد مظاہرنے میں شامل ایک خاتون پولیس سے بات کر رہی ہیں۔(اے ایف پی) 

ایران کے گذشتہ ہفتے تہران میں ایک یوکرینی مسافر طیارے کو مار گرانے کے اعتراف کے بعد شہریوں کا احتجاج اتوار کو دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ مظاہرین کو ہلاک کرنے سے باز رہے۔

رواں ماہ امریکی حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے مارے جانے کے ردعمل میں ایران نے آٹھ جنوری کو عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے بعد تہران کے امام خمینی ہوائی اڈے سے اڑنے والے ایک یوکرینی طیارے کو ’غلطی‘ سے مار گرایا تھا، جس میں عملے کے ارکان سمیت تمام 176 مسافر ہلاک ہوئے تھے۔

تہران پہلے پہل واقعے کو حادثہ قرار دیتا رہا تاہم عالمی دباؤ پر تسلیم کیا کہ اس نے غیر ارادی طور پرغلطی سے طیارے کو امریکی کروز میزائل سمجھ کر نشانہ بنایا تھا۔

ایرانی حکومت کے اعتراف کے بعد ملک میں ہزاروں طلبہ اعلیٰ عہدے داروں کی برطرفی اور ان کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے سٹرکوں پر نکل آئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور مظاہرین کے علاوہ برطانوی سفیر کو بھی گرفتار کر لیا تھا تاہم انھیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر نے اس صورت حال کے تناظر میں اتوار کی رات اپنی ٹویٹ میں کہا: ’ایران کے رہنماؤں کے لیے میرا پیغام ہے کہ وہ اپنے مظاہرین کو ہلاک نہ کریں۔‘

انھوں نے تہران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اور خاص طور پر امریکہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب ایران کے ساتھ کشیدگی کے پسِ منظر میں امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا کہ ایران کے ساتھ  غیر مشروط مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی نشریاتی ادارے’ سی بی ایس‘ کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ میں دیے گئے انٹرویو میں ایسپر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اب بھی ایرانی قیادت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ’ہم غیر مشروط  آگے بڑھنے کے لیے نیا راستہ تلاش کرنے لیے تیار ہیں۔ یہ ایسے اقدام ہوں گے جس سے ایران کو ایک نارمل ملک بنایا جا سکتا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر مظاہرین کو کچھ ہوا تو ایسپر نے جواب دیا: ’صدر نے (مذاکرات کے لیے) کوئی شرط نہیں رکھی اور ہم ایرانی حکومت سے ملنے کے لیے تیار ہیں۔‘

تین جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ ایران کے یوکرینی طیارے مار گرانے کے اعتراف کے بعد ملک میں جاری مظاہروں کے بارے میں ایسپر نے کہا: ’مجھے صرف ایران میں ایک بدعنوان حکومت نظر آ رہی ہے اور ایرانی عوام اب ان کے احتساب کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔‘

اتوار کے ایک اور ٹاک شو میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائین نے کہا کہ ایرانی حکومت زیادہ سے زیادہ دباؤ میں نظر آرہی ہے۔ انھوں نے ’اے بی سی‘ کو بتایا: ’انھیں (ایرانی حکومت کو) اس صورت حال میں اپنی نااہلی کا سامنا ہے اور ایران کے عوام ان سے تنگ آچکے ہیں۔ ایران کو دبایا جارہا ہے اور ایران کے پاس میز پر آنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا۔‘

 

اتوار کو صدر ٹرمپ نے او برائین سے اختلاف کرتے ہوئے کہا: ’دراصل اگر وہ مذاکرات کرتے ہیں تو مجھے اس کی کم پرواہ نہیں ہوسکتی۔ اس کا مکمل طور پر انحصار ان پر ہو گا۔‘

’ہمارا دشمن یہاں ہے‘

ادھر اتوار کو ایران بھر میں دوسرے روز بھی مظاہرے جاری رہے۔

روئٹرز کے مطابق ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں مظاہرین کے ایک گروپ کو تہران کی ایک یونیورسٹی کے باہر حکومت مخالف نعرے باری کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ مظاہرین نعروں میں کہہ رہے تھے کہ ’ہم سے جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ ہمارا دشمن امریکہ ہے لیکن ہمارا دشمن تو یہاں ہے۔‘

دوسری پوسٹوں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین ایک دوسری یونیورسٹی کے باہر اور تہران کے آزادی چوک کی جانب مارچ کر رہے ہیں۔ دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔

تہران کے رہائشیوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اتوار کو پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔

آئی ایل این اے  نیوز ایجنسی نے بتایا کہ پولیس نے 3000 سے زیادہ مظاہرین کو منتشر کیا۔ آن لائن ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیوں اور آنسو گیس کا استعمال کر رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا