میرا مواخذہ بلا وجہ اور ایک دھوکہ ہے: ٹرمپ

امریکی سینیٹ میں مواخذے کی کارروئی کے عمل کے آغاز کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس سے دھویں دار ردعمل دیا ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ اسے (مواخذے کو) بہت جلدی نمٹ جانا چاہیے، یہ ایک دھوکہ ہے۔ یہ ایک دھوکہ ہے۔ ہر کوئی یہ جانتا ہے: صدر ٹرمپ (اے ایف پی)

امریکی سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی کے آغاز کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں ریزولٹ ڈیسک کے پیچھے سے دھویں دار ردعمل دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا: ’میرا مواخذہ بلا وجہ کیا گیا۔‘

ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب کچھ ہی گھنٹوں قبل سینیٹ میں ان کے خلاف لگائے گئے الزامات پر غور کرنے کے لیے پریزائیڈنگ آفیسر اور جیوری ارکان سے حلف لیا گیا۔

اوول آفس میں ایک بیان میں ٹرمپ نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس بارے میں شکایت کی اور کم از کم نو بار انکار کیا وہ لیو پارنز کو جانتے ہیں۔

لیو پارنز وہ شخص ہیں جنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدے دار یوکرین کو ٹرمپ کے سیاسی حریف کے خلاف تفتیش شروع کرنے پر مجبور کرنے کے لیے امریکی فوجی امداد کو استعمال کرنے کی کوشش سے بخوبی واقف ہیں۔

صدر ٹرمپ کے حوالے سے یہ پیش رفت امریکی سیاست میں مصروف دن کے بعد سامنے آئی جب سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی شروع کرنے سے قبل امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا (یو ایس ایم سی اے) کے درمیان تجارتی معاہدے کی منظوری کے لیے ووٹنگ ہوئی۔

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے مواخذے کا مقدمہ تیزی سے چلنا چاہیے، وہ بار بار اصرار کرتے رہے کہ جولائی میں انھوں نے یوکرین کے صدر وولڈیمیر زیلنسکی کے ساتھ جو فون پر بات چیت کی تھی وہ ’بالکل ٹھیک‘ تھی۔ ’مجھے لگتا ہے کہ اسے بہت جلدی نمٹ جانا چاہیے، یہ ایک دھوکہ ہے۔ یہ ایک دھوکہ ہے۔ ہر کوئی یہ جانتا ہے۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا: ’یوکرین کے حوالے سے یہ ایک مکمل دھوکہ ہے۔ یہ ایک بہترین فون کال تھی۔ دراصل یہ دو فون کالز تھیں۔ آپ لوگ اس (دوسری فون کال) کے بارے میں رپورٹ نہیں کرتے۔ وہ دونوں فون کالز بالکل ٹھیک تھیں۔ در حقیقت یہ کسی بھی غیر ملکی رہنما سے میری بہترین بات چیت تھی۔‘

انھوں نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب سب کچھ بالکل ٹھیک تھا تو پھر بھی ان کا مواخذہ ہوا۔

یو ایس ایم سی اے کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ ہوسکتا ہے حالانکہ یہ معاہدہ تقریباً 30 سال قبل مذاکرات کے بعد طے پا گیا تھا، شمالی امریکہ کے درمیان آزاد تجارت کے اس معاہدے (این اے ایف ٹی اے) میں اب محض چند تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

جمعرات کو سینیٹ میں فوری اور ممکنہ مواخذے کی کارروائی سے ہٹ کر صدر ٹرمپ کو ایک اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس میں سرکاری احتساب آفس کی ایک رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ صدر کی ٹیم نے یوکرین کے ساتھ معاملات میں قانون شکنی کی اور ایف بی آئی نے رابرٹ ہائیڈ کے دفتر اور گھر پر چھاپا مارا ہے۔

 رابرٹ ہائیڈ صدر ٹرمپ کے ڈونر ہیں جنھوں نے مبینہ طور پر یوکرین میں امریکہ کی سابق سفیر مری یووانوویچ کو ان کے عہدے سے بے دخل کرنے کی سازش کے ایک حصے کے طور پر کام کیا تھا۔

’یہ سب ایک بڑا دھوکہ ہے،‘ صدر ٹرمپ نے جمعرات کو سکولوں میں دعا کرنے کی آزادی کے بارے میں ہدایت نامے پر دستخط کرنے کے بعد لیو پارنز کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔

لیو پارنز نے الزام لگایا تھا کہ وہ صدر کی جانب سے ذاتی طور پر جو بائیڈن پر گندگی اچھالنے کی کوششوں سے آگاہ ہیں۔

لیو پارنز نے، جو صدر ٹرمپ کے ذاتی وکیل روڈی جیولیانی (جن کو صدر ٹرمپ نے جرائم کے خلاف لڑنے والا عظیم سپاہی قرار دیا تھا) کے ایک ساتھی ہیں، بدھ کی شب قومی ٹیلی ویژن پر کہا: ’صدر ٹرمپ کو بالکل معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے لیو پارنز کے حوالے سے کہا: ’میں انھیں نہیں جانتا۔ شاید وہ ایک عمدہ آدمی ہے۔ شاید وہ ایسے نہیں ہیں۔۔۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ میں نے کبھی ان سے بات کی ہے۔ مجھے اس  شخص سے مدد لینے کی ضرورت نہیں جسے میں پہلے کبھی نہیں ملا، سوائے ایک تصویر لینے کے لیے۔‘

صدر ٹرمپ کے خلاف سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی آئندہ ہفتے سے پوری دل جمعی کے ساتھ شروع ہو گی تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کہ یہ کارروائی کب تک چل سکتی ہے۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے مقدمے کی فوری سماعت کا مطالبہ کیا ہے لیکن لیو پارنز کے دعوؤں جیسی پیش رفت سے ری پبلیکنز کے لیے کارروائی تیزی سے آگے بڑھنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

سینیٹ میں مٹھی بھر ری پبلکنز نے کہا ہے کہ وہ ان گواہوں کی مزید شہادت کو سننے کے لیے تیار ہیں جنھیں ایوان کے سامنے اس سے قبل نہیں بلایا گیا تھا اور وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر ان گواہوں کو خود ایوان کے سامنے پیش ہونے پر مجبور کرنے پر اتر سکتے ہیں۔

اوول آفس میں اس بیان کے فوراً بعد ہی صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا: ’میرا ایک بالکل درست فون کال کرنے پر مواخذہ کیا جا رہا ہے!‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ