شاہین باغ: خواتین کا چھوٹا سا دھرنا بڑی مزاحمتی تحریک میں تبدیل

پرتشدد واقعات، گرفتاریوں اور حکومت کی جانب سے کئی ریاستوں میں مواصلات اور انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مزاحمت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

بھارت میں متازع شہریت کے ترمیمی قانون (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے خلاف پورے ملک میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور دارالحکومت نئی دہلی میں شاہین باغ اور اطراف کی خواتین کئی ہفتوں سے اس احتجاج کو نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ ان نقاب پوش خواتین کے حوصلے اور عزم کو دیکھ کر دیگر برادریوں کے افراد بھی ان کی حوصلہ افزائی کے لیے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔

بھارتی ٹی وی ’نیوز 18‘ کے مطابق شاہین باغ میں جاری اس احتجاج نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔

بھارت کے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکھ برادری کے افراد احتجاج میں شامل افراد کے لیے لنگر تیار کر رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لبرل اور جمہوریت پسند ہندو برادری کے افراد اور طلبہ بھی شاہین باغ کے احتجاج میں اپنی آواز شامل کر رہے ہیں۔

شہریت کے متنازع قانون کے خلاف کئی ریاستوں میں جاری احتجاجی مظاہروں کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے اور اب تک ان مظاہروں میں پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں جب کہ ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔   

پرتشدد واقعات، گرفتاریوں اور حکومت کی جانب سے کئی ریاستوں میں مواصلات اور انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود شہریت کے متنازع  قانون کے خلاف مزاحمت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس قانون کے تحت ہمسایہ ممالک کی اقلیتی برادریوں کو تو بھارتی شہریت کی پیش کش کی گئی ہے لیکن مسلمانوں کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ناقدین نے اس قانون کو مسلمانوں کے خلاف امتیازی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی ہندو قوم پرستی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں تاہم ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی پر حملے سے اس تحریک میں مزید شدت پیدا ہو گئی ہے اور بالی وڈ سٹارز سمیت کئی اعلیٰ شخصیات شاہین باغ اور جامعہ ملیہ کے طلبہ کے ہم آواز بن گئے ہیں۔ امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک نے بھی اس متنازع قانون پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب پولیس کی کارروائیوں اور شدید سرد موسم میں بھی شاہین باغ میں مظاہرین خاص طور پر خواتین کے حوصلے ٹھنڈے نہیں پڑ رہے بلکہ روز بروز وہ نئے حوصلے، ہمت اور عزم کے ساتھ احتجاج میں شریک ہو رہی ہیں۔

’نیوز 18‘ کے مطابق جہاں شاہین باغ میں مختلف سیاسی، سماجی اور قومی سطح کے رہنما شرکت کر رہے ہیں، وہیں مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے بھی یہاں آ کر مظاہرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ یہ احتجاج ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی اتحاد کی مثال پیش کر رہا ہے۔

جب سے مودی سرکار نے پارلیمنٹ کے ذریعے شہریت ایکٹ کو آگے بڑھایا ہے، تب سے شاہین باغ میں ہر شب ’انقلاب زندہ باد‘ اور فاشزم سے آزادی کے نعرے سنائی دے رہے ہیں۔

امریکی میگزین ’ٹائم‘ کے مطابق دسمبر کے آغاز میں مسلم اکثریتی علاقے کے قریب شاہین باغ میں محنت کش طبقے کی مقامی خواتین کی طرف سے ایک چھوٹا اور پرامن دھرنا دیا گیا، جو 32 دن گزرنے کے بعد ہزاروں کا مجمع بن چکا ہے۔ مظاہرین نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی اور صنعتی شہر نوئیڈا کو ملانے والی بڑی شاہراہ بند کردی ہے۔ ہر شام یہاں تقریباً دس سے 20 ہزار مظاہرین جمع ہوتے ہیں جب کہ مقامی خواتین یہاں دھرنا برقرار رکھے ہوئی ہیں۔ گذشتہ اتوار کو ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد شاہین باغ احتجاج میں شامل ہوئے۔

نئی دہلی کے شاہین باغ کی نڈر خواتین سے متاثر ہو کر مزاحمت کی لہر اتر پردیش تک جا پہنچی ہے، جہاں پریاگ راج (آلہ آباد) کے روشن باغ میں بھی خواتین نے دھرنا دے دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا