پشاور بی آر ٹی میں تاخیر کی وجہ اضافی سہولیات ہیں: وزیر بلدیات

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات کامران بنگش کا کہنا ہے کہ جب ایسے منصوبے کا سکوپ بڑھانا ہو جیسا کہ بی آرٹی میں کیا گیا تو اس کی لاگت بڑھنا لازمی تھا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات کامران خان بنگش کا کہنا ہے کہ پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کی لاگت میں اضافہ معیار اور اضافی سہولیات شامل کرنے سے بڑھا ہے نہ کہ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر سے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کامران بنگش کا منصوبے کے دفاع میں کہنا تھا کہ عموماً ایسے پراجیکٹس پر جب کام شروع کیا جائے اور اس کا سکوپ بڑھانا ہو جیسا کہ بی آرٹی کاریڈور میں تین کلومیٹر کا اضافہ کیا گیا اور اس میں مزید سہولیات کو شامل کیا گیا ہے تو اس کی لاگت 44 سے بڑھ کر 67 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

انھوں نے کہا: ’پراجیکٹ کے ڈیزائن میں تبدیلی کی گئی ہے اور ساتھ میں ہم نے پیڈسٹرین (پیدل چلنے والوں کے لیے) پل بھی شامل کیے ہیں۔‘

منصوبے کے مکمل ہونے میں تاخیر کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ اتنا بڑا پراجیکٹ بن رہا ہے اور تاجروں کی تجاویز کی روشنی میں نظرثانی بھی کی گئی ہے اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بھی بات ہوئی ہے۔ ’وقت اہم نہیں لیکن کوالٹی ضروری ہے۔‘

وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کے لیے تمام ڈویژن کو دوبارہ حلقہ بندیوں کے لیے ہدایات جاری  کی گئی ہیں اور مکمل ہونے کے بعد انتخابات کا انعقاد کرایا جائے گا۔

 انھوں نے کہا: ’جس طرح 2015 کے بلدیاتی انتخابات کامیابی سے پاکستان تحریک انصاف نے کرائے تھے اسی طرح اگلا الیکشن بھی کامیابی سے ہوں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کامران نے بتایا کہ وہاں پہلے ہم آگاہی مہمات چلا رہے ہیں اور ابھی حال ہی ہم میں ہم نے ’بلدیاتی سفیر’ کے نام سے ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے جو مقامی حکومتوں کے حوالے سے آگاہی مہم میں حصہ لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ضم شدہ اضلاع میں ہم نے لوکل سطح پر افسران جیسا کہ تحصیل میونسپل آفیسرز اور بلدیات کے دفاتر وہاں پر کھول دیے ہیں تو جیسے ہی انتخبات کا اعلان ہوگا تو  انتظامات پہلے سے موجود ہوں گے اور انتخابات کرائے جائیں گے۔‘ تاہم انہوں نے بلدیاتی انتخابات کی کوئی تاریخ نہیں دی۔

کامران بنگش کون ہیں؟

کامران خان بنگش کا شمار پاکستان کے نوجوان سیاستدانوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ طالب علمی کے زمانے میں پی ٹی آئی یوتھ ونگ اور پارٹی کے سوشل میڈیا ٹیم کے سرگرم رکن رہ چکے ہیں۔ وہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں 1987 میں پیدا ہوئے اور 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں وہ پشاور میں تحصیل ممبر کے رکن بنے۔ اس کے بعد 2018 کے عام انتخابات میں وہ پشاور کے حلقہ پی کے77 سے پی ٹی آئی کے انتخاباتی امیدوار بنے اور الیکشن جیت گئے۔

انتخابات کے بعد ان کو مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی بنایا گیا اور 2020 میں جب صوبائی حکومت نے کابینہ میں ردوبدل کی تو ان کو وزیر برائے بلدیات بنایا گیا۔ کامران بنگش نے 2008 میں کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ بعد میں وہ کمیشن کا امتحان پاس کر کے تحصیل میونسپل آفیسر بنے تھے لیکن انھوں نے نوکری نہیں کی اور سیاست کو ترجیح دی۔

پسند ناپسند

خیبر پختونخوا میں وزارت بلدیات بڑی وزارتوں میں سے ایک ہے۔ تینتیس سالہ کامران بنگش جن کا تعلق ہنگو سے ہے ماہرہ خان کے مداح ہیں جبکہ مردوں میں ہمایوں خان ان کے پسندیدہ ہیں۔

پوچھا کہ فراغت میں کیا کرتے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ فارغ وقت زیادہ نہیں ملتا لیکن اگر ملتا ہے تو زیادہ تر حلقے کے لوگوں کے ساتھ گزارتا ہوں۔ ’رات کو گھنٹے دو ملتے ہیں تو وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ گزارتا ہوں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ ٹی وی سیریل جب وقت ہو دیکھنا چاہیں گے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت