ٹرمپ کا امن منصوبہ فلسطین نہیں بلکہ اسرائیل نواز ہے: ماہرین

مشرق وسطیٰ کے لیے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی سابق ماہر مشیل ڈن کے مطابق: ’فلسطینیوں کو اس منصوبے میں جو کچھ دیا گیا ہے وہ سب مشروط اور طویل المیعاد ہے، دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو شاید ایسا کبھی نہیں ہو پائے گا۔‘

منگل کو وائٹ ہاؤس میں صدر  ڈونلڈ ٹرمپ  نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے ساتھ کھڑے ہو کر مشرق وسطیٰ کے لیے  امن  منصوبے کا اعلان کیا۔ (تصویر: اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے ان کے لیے امن منصوبہ پیش کیا ہے جو ان کے بقول ’ڈیل آف دی سنچری‘ ہے۔ ان کا دعویٰ ہے ان کا یہ منصوبہ نہ صرف اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دائمی امن کی بنیاد رکھے گا بلکہ اس سے فلسطینیوں کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ امن اور ترقی بھی نصیب ہو گی۔ تاہم مشرق وسطیٰ پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ فلسطین نہیں بلکہ اسرائیل نواز ہے۔  

اسلام آباد میں مقیم العربیہ کے ایڈیٹر اور فلسطینی امور کے ماہر منصور جعفر کے مطابق ’صدر ٹرمپ کا یہ منصوبہ جسے ترقی اور امن کا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے یہ دراصل اسرائیل کے لیے امن اور ترقی کا منصوبہ ہے اور اس کا فائدہ صرف اسرائیل کو ہو گا۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا: ’اس منصوبے میں صرف اسرائیلی عوام کی سکیورٹی کو ہی مد نظر رکھا گیا ہے۔ اس میں فلسطینیوں کی نمائندگی شامل نہیں ہے جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ فلسطینیوں کو اس منصوبے سے باہر رکھا گیا کیونکہ اس کا مقصد صرف اسرائیل کو فائدہ دینا تھا۔‘

ماضی کے امن معاہدوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے منصور جعفر کا کہنا تھا: ’امریکی انتظامیہ اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی کے باعث ماضی کے امن معاہدوں پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔‘

موجودہ وقت میں اس منصوبے کے سامنے آنے کی اہمیت پر پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’خطے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ نے خلیجی ممالک کو ایران کا خطرہ دکھا کر اس منصوبے کی حمایت پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے یہ منصوبہ بہت غور و فکر کے بعد بنایا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کو مواخذے کی تحریک کا سامنا ہے جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کو بھی کرپشن کے مقدمات کا سامنا ہے۔ اس منصوبے کو سامنے لانے سے ان دونوں رہنماوں کو سیاسی فائدہ پہنچنے کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے کی صورت حال کے باعث اس منصوبے کی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئے گی۔ اس حوالے سے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی برہم ہیں کہ انہیں دیوار سے لگایا جا چکا ہے۔

امریکی صدر کے امن منصوبے میں شامل اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے مجوزہ نقشے پر بات کرتے ہوئے منصور جعفر کا کہنا تھا: ’اسرائیل بیت المقدس میں موجود اپنے مذہبی مقامات پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا۔ اسرائیل حرم القدس کی تقسیم چاہتا ہے اس وجہ سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا گیا ہے اور امریکہ نے بھی اسی مقصد کے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا ہے۔‘

فلسطینی علاقوں کی تقسیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں گذشتہ معاہدوں کی نسبت فلسطینی علاقہ اور کم کر دیا گیا ہے۔ فلسطینی علاقوں کی نہ کوئی اپنی کرنسی ہو گی نہ ہی کوئی دفاعی نظام ہو گا۔ اس سب کے لیے وہ اسرائیل کے رحم و کرم پر ہوں گے۔

’شروعات ہی ممکن نہیں‘

دوسری جانب ماہرین کو یہ بھی خدشہ ہے کہ یہ منصوبہ یہود نواز ہے اور فلسطین کی ریاست کے قیام کے لیے مشکل شرائط سے یہ مجوزہ پلان ناکام ثابت ہو گا۔

کونسل آف فارن ریلیشنز کے سینیئر فیلو سٹیون کُک نے اس منصوبے کو ’نان سٹارٹر‘ قرار دیا، یعنی ایسا منصوبہ جس کی شروعات ہی ممکن نہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے سٹیون کُک کا کہنا تھا: ’ایک طرف فلسطینیوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ مسترد کر دیا ہے تو دوسری جانب اسرائیلی آباد کاروں، جو فلسطین کو کسی بھی قسم کی خودمختاری دینے کے مخالف ہیں، نے بھی اس کو رد کر دیا ہے۔‘

کُک نے کہا کہ فلسطینی صدر محمود عباس بظاہر مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہوں گے جبکہ منگل کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کے پہلو میں کھڑے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو فلسطینی صدر کی جانب سے اس منصوبے کو مسترد کیے جانے کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس منصوبے کی تیاری میں وائٹ ہاؤس اسرائیل سے رابطے میں رہا ہے اور اس سے نتن یاہو کو مغربی کنارے کے ان زیادہ تر حصے کو ہڑپنے کا موقع مل گیا ہے، جس کا اشارہ ان کی کابینہ پہلے ہی دے چکی ہے کہ یہودی آباد کاری کے اس توسیعی منصوبے پر جلد عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

مشرق وسطیٰ کے لیے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی سابق ماہر مشیل ڈن کا اس بارے میں کہنا ہے: ’اس منصوبے کے ذریعے صدر ٹرمپ کے دو مقاصد ہیں۔ ایک تو موجودہ سیاسی اور قانونی مشکلات میں گھرے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کی مدد کرنا اور دوسرا امریکہ میں صدارتی انتخابات کے لیے اسرائیل نواز ووٹروں کی حمایت حاصل کرنا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ اس منصوبے سے بات چیت کا سلسلہ شروع ہو سکے۔

ٹرمپ انتظامیہ تین سال سے 80 صفحات پر مشتمل اس منصوبے کی تیاری کر رہی تھی جبکہ فلسطینی قیادت نے ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے جیسے اقدامات اٹھانے پر امریکی صدر کو جانبدار قرار دیتے ہوئے اس منصوبے کی تیاری کا بائیکاٹ کیا تھا۔

منصوبے میں ہے کیا؟

توقعات کے برخلاف اس منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام اور مقبوضہ بیت المقدس کے آس پاس فلسطینی دارالحکومت کی بات کی گئی ہے۔

لیکن یہ دارالحکومت شہر کے مشرقی علاقوں سے ملحقہ فلسطینی گاؤں ابو دیس میں تجویز کیا گیا ہے جبکہ اسرائیل پورے مقدس شہر پر اپنا تسلط برقرار رکھے گا۔

ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر کی قیادت میں تیار کیے گئے اس منصوبے کے تحت اسرائیل مجوزہ فلسطینی ریاست کے علاقوں میں یہودی بستیوں کے منصوبوں کو چار سال کے لیے روک دے گا جبکہ مغربی کنارے اور غزہ کو ایک تیز رفتار راہداری کے ذریعے جوڑ دیا جائے گا۔ اس میں فلسطین کے لیے معاشی ترقی کے وعدے بھی کیے گئے ہیں۔

کُک نے اس بارے میں کہا: ’اس منصوبے میں حکمت عملی کی سطح پر کچھ اچھے نکات موجود ہیں تاہم فلسطینیوں کے لیے ریاست کا وعدہ کیے بغیر یہ سب بے معنی ہے۔‘

تاہم مشرقی وسطیٰ کی پالیسی کے لیے واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ رابرٹ سیٹلوف نے اس منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے طویل اور پیچیدہ تصادم میں ’حقیقت پسندانہ‘ منصوبہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا: ’دریائے اردن کا اسرائیل کی سلامتی کے لیے قدرتی سرحد ہونا حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ امر بھی حقیقت پسندانہ ہے کہ مغربی کنارے میں مقیم لاکھوں یہودی آباد کاروں کو دوبارہ نقل مکانی پر مجبور نہ کیا جائے۔‘

مشیل ڈن کا اس بارے میں ماننا ہے کہ اس منصوبے کی بنیادی اہمیت یہ ہے کہ اس میں اردن کے ساتھ اسرائیل کی مشرقی سرحد کا مکمل تعین کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا: ’منصوبے میں شامل باقی نکات محض تفصیلات ہیں۔ فلسطینیوں کو اس منصوبے میں جو کچھ دیا گیا ہے وہ سب مشروط اور طویل المیعاد ہے، دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو شاید ایسا کبھی نہیں ہو پائے گا۔‘

’فلسطینیوں کے لیے دھچکا‘

کچھ مبصرین کے نزدیک ’ٹرمپ پلان‘ کا بنیادی مقصد اسرائیل کے طویل المیعاد مفادات کے تحفظ کے لیے کسی سمجھوتے کے پیرامیٹرز میں تبدیلی کرنا ہے۔

اس امن منصوبے کی آڑ میں مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کو تحفظ فراہم کیا جانا فلسطینیوں کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہے۔

ڈن نے کہا: ’جیسا کہ فلسطینی عوام اور ان کی قیادت کمزور ہے تاہم ان میں ہمیشہ کی طرح ’نہ‘ کہنے کی صلاحیت ہے۔ وہ اب بھی ایسا ہی کریں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ اس منصوبے سے فلسطین کی تحریک کو کتنا نقصان ہو گا۔ ڈن کے مطابق اس منصوبے کے تحت وہ دن دور نہیں جب فلسطینی آزاد ریاست کی جدوجہد سے ہٹ کر جنوبی افریقہ کی طرح محض اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہوں گے۔

عرب دنیا کیا کہتی ہے؟

فلسطینیوں کی جانب سے مسترد کیے جانے کے باوجود ٹرمپ کے اس منصوبے کو عرب دنیا میں امریکہ کے متعدد اتحادیوں نے خوش آمدید کہا ہے جو ایران کی مخالفت میں ٹرمپ اور نتن یاہو کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

منگل کو وائٹ ہاؤس میں جب صدر ٹرمپ نتن یاہو کی موجودگی میں اس منصوبے کا اعلان کر رہے تھے تو اس تقریب میں بحرین، عمان اور متحدہ عرب امارات کے سفیر بھی موجود تھے۔ ان خلیجی ممالک میں سے کوئی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔

اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے ملک مصر نے فلسطینیوں کو ’ٹرمپ پلان‘ کا مکمل جائزہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔

کونسل آف فارن ریلیشنز کے صدر رچرڈ ہاس نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا: ’فلسطینی مکمل طور پر اس منصوبے کو مسترد کرنے کی کوشش کریں گے لیکن انہیں اس کوشش کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے اور وہ براہ راست مذاکرات کے لیے آمادہ ہو جائیں جہاں وہ اپنی مرضی کے مطالبات پیش کر سکیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کر دینے سے دو ریاستی حل کے لیے موجود امیدوں پر پانی پھر جائے گا اور (اسرائیلی) قبضے کا راستہ ہموار جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا