سالگرہ پر بلا کر 20 بچے یرغمال بنانے والے شخص کی بیوی ہلاک

میڈیا رپورٹس کے مطابق سبھاش باتھم خود پر لگائے گئے قتل کے الزامات کے بعد پورے گاؤں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تھے۔

دس گھنٹوں بعد بالآخر پولیس نے گھر پر دھاوا بولتے ہوئے سبھاش باتھم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور یرغمال بنائے گئے تمام بچوں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔ (تصویر: اے این آئی ٹوئٹر)

بھارت میں جھوٹ موٹ کی سالگرہ پر مدعو کرکے 20 بچوں کو یرغمال بنانے والے شخص کو پولیس نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا ہے جبکہ ان کی اہلیہ کو مشتعل ہجوم نے تشدد کر کے مار ڈالا۔

مسلح پولیس اور انسداد دہشت گردی یونٹ کو بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ضلع فرخ آباد کے ایک گاؤں میں جمعرات کو طلب کیا گیا جنہوں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے یرغمال بنائے گئے بچوں کو بازیاب کرایا۔

چھ ماہ سے 15 سال کی عمر کے بچے سبھاش باتھم کے گھر ان کی ایک سال کی بیٹی کی سالگرہ منانے گئے تھے۔

قتل کے ایک مقدمے میں ضمانت پر رہا ہونے والے سبھاش باتھم نے گھر مدعو کیے گئے بچوں کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنا لیا۔

اس صورت حال میں اہلکاروں نے سبھاش باتھم سے مذاکرات کیے اور انہیں چھ ماہ کے بچے کو بالکونی کے ذریعے گاؤں والوں کو حوالے کرنے پر رضا مند کر لیا۔

تاہم انہوں نے ایسا کرنے کی بجائے اپنے گھر کی کھڑکی سے فائرنگ کر کے دو پولیس اہلکاروں اور ایک دیہاتی کو زخمی کر دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دس گھنٹوں بعد بالآخر پولیس نے گھر پر دھاوا بولتے ہوئے سبھاش باتھم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور یرغمال بنائے گئے تمام بچوں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔

اتر پردیش پولیس کے ڈائریکٹر جنرل اوم پرکاش سنگھ کا کہنا تھا: ’یہ جاننے کے بعد کہ ملزم فائرنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بم سے اڑانے کی دھمکیوں کے بعد تمام سینیئر پولیس افسران نے اس پر حملے کا فیصلہ لیا تھا۔‘

اوم پرکاش نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے گھر میں گھسنے کی کوشش کی اور انکاؤنٹر کے دوران سبھاش مارا گیا۔

 مقامی میڈیا کے مطابق سبھاش نے اپنی بیوی اور بچی کو بھی یرغمال بنایا ہوا تھا اور فائرنگ کے دوران زخمی ہونے والوں میں ان کی بیوی بھی شامل تھی۔

تاہم، پولیس آپریشن ختم ہونے کے بعد مقامی افراد سبھاش کے گھر گھس گئے اور ان کی بیوی کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بچوں کو یرغمال بنانے کے پیچھے اس شخص کے کیا مقاصد تھے۔

تاہم مقامی اخبار کے رپورٹر دیپک کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ بظاہر سبھاش خود پر لگائے گئے قتل کے الزامات کے بعد پورے گاؤں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا: ’وہ سمجھتے تھے کہ قتل کے مقدمے میں ان کی گرفتاری کے پیچھے مقامی افراد کا ہاتھ تھا اور وہ اس بات کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔‘

بھارتی اخبار ’انڈیا ٹوڈے‘ کے مطابق سبھاش کو مقامی حکام سے بھی شکایات تھیں اور انہوں نے اپنے ایک خط میں شکایت کی تھی کہ مقامی حکام کی وجہ سے وہ سرکاری گھر کے حصول سے محروم رہے۔

اپنے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے پورے ملک میں سو فیصد ٹوائلٹس کی موجودگی کے دعووں کے باوجود ان کے گھر میں بیت الخلا کی سہولت موجود نہیں تھی اور ان کی بزرگ والدہ کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور تھیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا