خزانہ خالی ہے اس لیے گُھگھو گھوڑے پر گزارا کریں: وزیر داخلہ 

ایوان بالا میں ہونے والے اجلاس میں ووٹنگ کے ذریعے اراکین سینیٹ و قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل مسترد کردیا گیا۔

بل کے حق میں 16 جبکہ  مخالفت میں 29 ووٹ ڈالے گئے۔ ( تصویر: سینیٹ آف پاکستان فیس بک پیج)

پاکستان کے ایوان بالا میں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سمیت سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل مسترد ہوگیا۔

پیر کو ہونے والے سینیٹ اجلاس کے دوران اراکین سینیٹ اور قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ بھی مسترد کر دیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے تنخواہوں میں اضافے کے بل کی مخالفت کی جبکہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی)، نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ)، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ (جے یو آئی ف) نے تنخواہوں میں اضافے کے بل کی حمایت کی۔

بل کے حق میں 16 جبکہ مخالفت میں 29 ووٹ ڈالے گئے۔

سینیٹ اجلاس میں جب اراکین پارلیمان کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر بحث ہوئی تو وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’ایک شخص نے خراب معاشی حالات میں بیٹے کو گھگھو گھوڑا اور بہترین حالات میں بلیک سٹیلین لے کر دیا۔ اس لیے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ملکی معاشی حالات ٹھیک ہیں تو تنخواہوں میں اضافہ کریں ورنہ گھگھو گھوڑے پر گزارا کریں۔‘

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مسکراتے ہوئے چیئرمین سینیٹ پر جملہ کسا: ’چیئرمین صاحب آج بہت خوش ہیں لیکن تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوگا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے تنخواہوں میں اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک پوسٹر دیکھا جس میں لکھا تھا: ’ہم سیاست کرتے ہیں عبادت کے لیے۔ اس لیے سیاست عبادت کے لیے کریں، عبادت میں ثواب ملتا ہے تنخواہ نہیں۔‘

مسلم لیگ ن کے سینیٹر راجہ ظفر الحق نے بھی واضح کیا کہ اُن کی جماعت تنخواہوں میں اضافے کے بل کی مخالفت کرتی ہے۔ 

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی ملک میں شدید اقتصادی بحران ہے، جب ملک کی معاشی صورت حال بہتر ہو تو تب مراعات لینی چاہییں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جبکہ حکمران جماعت کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ’تنخواہیں بڑھائیں گے لیکن ابھی مناسب وقت نہیں ہے۔ ابھی جو تنخواہ ہے تمام اراکین پارلیمنٹ اسی پر گزارا کریں۔‘

دوسری جانب پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے اراکین پارلیمان کی تنخواہوں میں اضافے کے بل کی حمایت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ ’ہم بطور سینیٹر 17 گریڈ کے افسر سے کم تنخواہ لے رہے ہیں اور ملک میں ججز اور جرنیلوں کی تنخواہیں زیادہ ہیں، اس لیے تنخواہ میں اضافہ ہونا چاہیے۔‘

ایم کیو ایم کے سینیٹر بیرسٹر سیف نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں بہت ہی کم ہیں، انہیں بڑھانے کی ضرورت یقینی طور پر ہے لیکن کچھ لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ تنخواہ نہیں بڑھنی چاہیے تو جس کو زیادہ تنخواہ نہیں چاہیے وہ نہ لیں، کسی خیراتی ادارے کو دان کر دیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ قانونی طور پر تنخواہ بڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ’یہ بات غلط ہے کہ سب سیاست دان امیر کبیر ہوتے ہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ کئی لوگ ایسے ہیں جو اسی تنخواہ پر گزارا کرتے ہیں اور اُن کا اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔‘

حکمران جماعت کے سینیٹر شبلی فراز نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تنخواہوں کا توازن درست نہیں ہے۔ اصولی طور پر میں تنخواہ بڑھنے کی حمایت کرتا ہوں لیکن اس وقت ملکی معیشت اس قابل نہیں کہ ہم اپنی تنخواہیں بڑھا لیں، اس سے عوام کو اچھا تاثر نہیں جائے گا، اس لیے اس بل کی مخالفت کرتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ یہ بل آزاد امیدوار نصیب اللہ بازئی نے دیگر پانچ آزاد امیدواروں کی جانب سے سینیٹ میں پیش کیا تھا۔ آزاد امیدواروں کے گروپ نے حکمران جماعت تحریک انصاف کی سینیٹ میں حمایت کی تھی، لیکن بل کی منظوری میں انہیں پی ٹی آئی کی حمایت حاصل نہ ہو سکی۔

بل مسترد ہونے کے بعد نصیب اللہ بازئی نے کہا کہ ’ان سب سینیٹرز نے بل پیش کرنے کے حوالے سے صبح حمایت کی تھی لیکن اب سب بدل گئے ہیں۔ مجھے پتہ ہوتا تو میں یہ بل پیش ہی نہ کرتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان