کراٹے کھیلنے والی سعودی خواتین

سعودی خواتین کے بااختیار ہونے کا تازہ مظاہرہ کراٹے کے اس بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں ہوا ہے۔

رواں ماہ جدہ اور اور ریاض سے خواتین کھلاڑیوں نے عرب وومن سپورٹس ٹورنامنٹ شارجہ میں پہلی دفعہ حصہ لیا۔

جدہ کے ایشیا مارشل آرٹ ڈیفنس کلب کی سارہ حسین مختار نے عرب نیوز کو بتایا کہ انہوں نے کراٹے آسٹریلیا سے سیکھے اور دو مرتبہ بلیک بیلٹ حاصل کی۔ جب وہ جدہ آئیں تو کراٹے جاری رکھنا آسان نہیں تھا۔

شامہ عبدالعزیز یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر سارہ حسین مختار نے کہا: ’پہلی مشکل خواتین کی تربیت کے لیے جدہ میں موزوں جگہ ڈھونڈنے میں ہوئی۔ یہ کام آسان نہیں تھا۔ دوسری مشکل لوگوں کو قائل کرنے میں ہوئی کہ کراٹے یا مجموعی طور پر مارشل آرٹس خواتین کے خلاف نہیں ہیں۔ دراصل ان سے خواتین کو اپنا دفاع کرنے میں مدد ملتی ہے، خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے، خود مختاری پیدا ہوتی ہے، خواتین کے لیے ان میں بہت سے فائدے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرب وومن سپورٹس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی کراٹے کی ایک اور کھلاڑی زینب الانصاری تھیں جو جدہ کے شاہ فیصل سپیشلسٹ انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر میں نرس ہیں۔ ان کے مطابق کراٹے کھیلنے کے لیے بچپن ہی سے ان کے والد نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ پھر ان کی شادی بھی کراٹے کے ایک کھلاڑی سے ہوئی چنانچہ انہیں زندگی بھر اپنا شوق جاری رکھنے میں رکاوٹ پیدا نہ ہوئی۔

عمومی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ سعودی عرب کی خواتین آزاد نہیں لیکن زینب الانصاری کی رائے اس بارے میں منفرد ہے۔  وہ کہتی ہیں: ’آزادی کا زیادہ مطلب ذمہ داری ہے۔ آزادی وہ نہیں کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔ آزادی ذہن میں ہوتی ہے۔ روشن خیال ہونا بھی آزادی ہے لیکن کراٹے مجھے ذمہ داری اور خوداحتسابی سکھاتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل