چولستان ڈیزرٹ ریلی: گاڑی کی طاقت اہم یا ڈرائیور کی مہارت؟

ریلی میں حصہ لینے والے ڈرائیور اپنی گاڑیوں میں مہنگے اور طاقت ور پارٹس استعمال کرتے ہیں لیکن کیا یہ ان کی جیت کی ضمانت بھی ہوتے ہیں؟

موٹر ریسنگ کا شمار دنیا کے مہنگے اور خطرناک کھیلوں میں ہوتا ہے اور پاکستان میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔

ملک میں ہر سال ہونے والے سب سے بڑے موٹر سپورٹس ایونٹ ’چولستان ڈیزرٹ ریلی‘ میں جس ڈرائیور کی جتنی جیب، اس کا اپنی گاڑی پر اتنا ہی خرچہ۔ مقصد ہوتا ہے کہ گاڑی میں زیادہ سے زیادہ رفتار کے ساتھ صحرائی ٹریک کے نشیب و فراز طے کیے جائیں۔

دفاعی چیمپیئن نادر مگسی کی ٹیم کے رکن رب نواز شاہ کے بقول ان کی گاڑی کے ’چار شاکس تقریباً ساڑھے چار لاکھ کے آتے ہیں۔‘

نادر ٹاپ کیٹیگری ’اے‘ میں حصہ لیتے ہیں، جس میں گاڑی کا انجن کم از کم 4000 سی سی کا ہوتا ہے۔

ایسا نہیں کہ گاڑی چھوٹی ہو تو خرچہ کم ہو گا۔ 1800 سی سی تک گاڑیوں کی کیٹیگری ’ڈی‘ میں لاہور سے حصہ لینے والے فواد ڈار کے مطابق انہوں نے ریس کے لیے اپنی گاڑی کی اصلی حالت کو تقریباً پورا ہی بدل ڈالا۔ انہوں نے گاڑی کو تیز رفتار بنانے کے لیے بہتر کوالٹی کے شاکس، سپرنگ اور کولنگ سسٹم وغیرہ ڈلوائے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریلی میں شرکت کے لیے رجسٹریشن کے دوران فواد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اگر وہ پرزے تبدیل نہ کریں تو ان سے ریلی مکمل بھی نہ ہو پائے۔

’ڈرائیونگ میں اہم یہ ہے کہ آپ نے گاڑی توڑنی نہیں ہے، ریس مکمل کرنی ہے۔ جو ریس مکمل کر لیتا ہے، وہ تقریباً فاتح ہوتا ہے۔‘

چولستان جیپ ریلی کے لیے ڈرائیوروں کو 500 کلو میٹر کا فاصلہ دو راؤنڈز میں طے کرنا ہوتا ہے۔ یہ ٹریک پنجاب کے تین جنوب مشرقی اضلاع بہاول نگر، بہاول پور اور رحیم یار خان کی صحرائی پٹی سے گزرتا ہے۔

ملتان کے صادق خاکوانی نے گذشتہ سال پہلی دفعہ ریلی میں حصہ لیا تھا لیکن گاڑی نے ساتھ نہ دیا اور وہ ریس مکمل نہ کر سکے۔

اس دفعہ انہوں نے اپنی گاڑی میں 5700 سی سی کا انجن رکھوایا ہے۔ ان کے بقول ’ان ریلیوں میں رفتار کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ سسپینشن ہی چاہیے ہوتا ہے۔‘

تمام تر تبدیلیوں اور اخراجات کے باوجود ڈرائیور کی مہارت بھی لازم ہے۔ رب نواز شاہ کہتے ہیں: ’نادر مگسی صاحب ٹھنڈے دماغ سے گاڑی چلاتے ہیں۔ جوش کے ساتھ نہیں چلاتے۔‘

چولستان ڈیزرٹ ریلی کا ریکارڈ رہا ہے کہ اس میں کبھی کسی ڈرائیور کا جانی نقصان ہوا نہ کبھی کوئی دیکھنے والا کسی گاڑی کی زد میں آیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا