ٹڈی دل بم سونگھنے والے روبوٹ بن گئے

محققین نے دھماکہ خیز مواد تلاش کرنے کے لیے ٹڈی دل کی سونگھنے کی انتہائی تیز حس کو ’ہائی جیک‘ کیا ہے۔

محققین کے مطابق ٹڈی دل دھماکہ خیز مواد سونگھنے میں انتہائی ماہر ثابت ہوئے ہیں(بارن لیب)

سائنس دانوں نے ٹڈی دل کو دھماکہ خیز مواد سونگھنے والے ’سائی بورگز‘ میں بدلنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔

امریکی نیوی کے فنڈز پر ہونے والی ایک تحقیق میں محققین نے دھماکہ خیز مواد جانچنے کے لیے نیا مصنوعی طریقہ اپنانے کی بجائے ٹڈی دل کی سونگھنے کی انتہائی تیز حس کو ’ہائی جیک‘ کیا ہے۔

’دی فیوچرازم‘ کی ایک خبر کے مطابق رواں مہینے BioRxiv پر اپ لوڈ ہونے والے ایک تحقیقی مقالے کے خلاصے میں بتایا گیا کہ کس طرح سینٹ لوئس میں واشنگٹن یونیورسٹی کی ٹیم نے ٹڈی دل کے دماغوں میں الیکٹروڈز نصب کرکے انہیں ’بائیو روبوٹس‘ میں تبدیل کیا۔

امریکہ میں نیول ریسرچ کے محکمے نے اس تحقیق کے لیے 2016 میں ساڑھے سات لاکھ ڈالرز مختص کیے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مقالے کے خلاصے میں مزید بتایا گیا کہ واشنگٹن یونیورسٹی کی ٹیم نے ٹڈل دل کے دماغ کا بغور معائنہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کے دماغ میں مختلف کیمیکلز اور بو سونگھے کے دوران کون سے مختلف نیورون متحرک ہوتے ہیں۔

تحقیق کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ ٹڈل دل کے دماغ دھماکہ خیز مواد کے بخارات اور غیر ملہک دوسرے کیمیکلز کے درمیان فرق کرتے ہوئے مخصوص سگنلز جاری کرتے ہیں۔

مقالے میں دعویٰ کیا گیا کہ پہلی مرتبہ سونگھنے کے لیے استعمال ہونے والے بائیو لوجیکل نظام کو ہائی جیک کرکے ایک ’سائی بورگ سنسنگ اپروچ‘ تیار کی گئی ہے۔

ٹڈی دل کو بارودی مواد تلاش اور سونگھنے کے لیے کہاں بھیجنا ہے اور کہاں نہیں، اس کے لیے ٹیم نے ٹڈی دل کو چھوٹے پہیوں والے روبوٹس میں رکھا، جو ان ٹڈی دل کو مطلوبہ مقامات پر لے گیا۔

محققین کے مطابق ٹڈی دل دھماکہ خیز مواد سونگھنے میں انتہائی ماہر ثابت ہوئے ہیں کیونکہ وہ اس کام میں محض کچھ ملی سیکنڈز ہی لیتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق