ہمیں وی پی این سے بچاؤ

بھارتی فورسز اور کشمیری ایک دوسرے سے چھپا چھپی کھیل رہے ہیں۔ حکومت کشمیریوں کو زیر کرنے کا ہر حربہ استعمال کر رہی ہے اور کشمیری ہر حربے کا توڑ تلاش کر کے حکومت کو سرپرائیز دیتے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اب شناختی کارڈ کے ساتھ ساتھ فون کی جانچ بھی کی جاتی ہے (اے ایف پی)

کشمیر میں انٹرنیٹ کی سہولت کے لیے وی پی این کا سہارا لینے والے ہزاروں افراد نہ صرف خود کو بھارتی افواج سے بچانے کی کوشش میں ہیں بلکہ اپنے موبائل فونز سے بھی ہاتھ چھڑا رہے ہیں۔

جب سے بھارتی حکومت نے وہاں ترسیل کے تمام ذرائع پر شب خون مارا ہے تب سے کشمیری اپنے عزیزوں سے رابطہ قائم کرنے میں بےشمار مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انٹرنیٹ بند کرنے کا بنیادی مقصد سوشل نیٹ ورکس تک رسائی  بند کرنا ہے تاکہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کی خبریں بیرونی دنیا سے پوشیدہ رکھی جا سکیں۔ دو ماہ پہلے حکومت نے ٹو جی سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس کی سپیڈ نہ ہونے کے برابر ہے جس کے متبادل میں بیشتر لوگ وی پی این کے ذریعے سوشل نیٹ ورک اور وٹس ایپ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

بھارتی پولیس کو جوں ہی یہ خبر موصول ہوئی کہ کشمیری انٹرنیٹ کی سپیڈ بڑھانے یا سوشل نیٹ ورک تک رسائی کے لیے وی پی این کا استعمال کر رہے ہیں تو حکومت نے پہلے ٹیلیفون کمپنیوں کو اس کو روکنے کے لے فائر وال استعمال کرنے کی صلاح دی۔

جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دل باغ سنگھ نے اعلان کر دیا کہ وی پی این کا استعمال زیادہ تر عسکریت پسند کر رہے ہیں اور ٹیلی کام سیکٹر کو ہدایت دی کہ وہ فائر وال کا استعمال کریں۔ فائر وال کے باوجود جب سوشل نیٹ ورک پر کشمیر سے کچھ ویڈیوز اور رپورٹیں بیرونی دنیا تک پہنچیں تو سکیورٹی فورسز کو راہ گیروں سے لے کر طلبہ تک کے فون کی جانچ کرنے کا حکم دیا گیا۔

اب شناختی کارڈ کے ساتھ ساتھ فون کی جانچ بھی کی جا رہی ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق سو سے زائد افراد کے خلاف وی پی این ڈاؤن لوڈ کرنے کی پاداش میں ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ہے۔

جموں میں مقیم ایک رپورٹر کہتے ہیں کہ ’یہ انسداد دہشت گردی کے نئے قانون کے تحت کشمیریوں کو مزید ہراساں کرنے کا نیا عمل شروع کیا گیا ہے تاکہ میڈیا کے بعد سوشل نیٹ ورک پر کنٹرول کیا جاسکے کیونکہ حال ہی میں گیلانی صاحب کی کئی ویڈیوز انٹرنیٹ کے بغیر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں جس کی پاداش میں ان کے گھر کے ملازم کو بھی دھر لیا گیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعض کشمیریوں نے وی پی این کے بارے میں خود ہی سوشل نیٹ ورک پر تشہیر کی اور سرکار کو ایک طرح سے چیلنج دیا کہ وہ اپنی آواز پہنچانے کا ہر وہ ذریعہ تلاش کریں گے جس پر اس نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ حکومت کو یہ چیلنج گوارا نہیں ہوا اور پولیس کے سائبر سیل کو کریک ڈاؤن کرنے کا حکم صادر کیا۔ سنا ہے کہ بعض طالب علم گھر سے نکلتے وقت فون پر وی پی این کو ڈیلیٹ کرتے ہیں اور گھر واپس آ کر پھر ڈاون لوڈ کر کے سوشل نیٹ ورک سے جڑ جاتے ہیں۔

میں نے کشمیر میں ایک خبر رساں ادارے کے سربراہ سے (جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے) پوچھا کہ کیا واقعی وی پی این رکھنے پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے تو وہ زور زور سے ہنسنے لگے۔

ہنسی ختم ہوئی تو کہنے لگے ’بھارتی فورسز اور کشمیری ایک دوسرے سے چھپا چھپی کھیل رہے ہیں۔ حکومت کشمیریوں کو زیر کرنے کا ہر حربہ استعمال کر رہی ہے اور کشمیری ہر حربے کا توڑ تلاش کر کے حکومت کو سرپرائیز دیتے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب سرکار ہمیں صرف چند سانسیں لینے کی اجازت دے گی اور ہم بھی اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئیں گے اور اس کا متبادل ضرور تلاش کریں گے۔ میرے خیال میں حکومت اب اتنی بوکھلا گئی ہے کہ وہ ذمہ دار سرکار نہیں لگتی بلکہ کسی پسماندہ علاقے کا مقامی جاگیردار دکھائی دیتی ہے۔‘

حکومت بھارت نے جموں و کشمیر کو گذشتہ چھ ماہ سے ایک جیل خانہ بنایا ہے جہاں رسائل کے تمام ذرائع بند کر دیے گئے ہیں۔ اس پابندی کی وجہ سے 14 لاکھ افراد نے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو اپنے فون واپس کر دیے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد نوجوان بےروزگار ہوگئے ہیں۔ اس سے کشمیر کی تجارت کو  تقریباً دو ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

حکومت نے نہ صرف بھارت کے اپوزیشن رہنماؤں کو کشمیر آنے سے روکا ہے بلکہ بیرونی ممالک کے نمائندوں کی رسائی بھی بند کر دی ہے۔ برطانیہ کی کشمیر امور کے پارلیمانی گروپ کی سربراہ ڈیبی ابراہیمز کو دہلی میں روک کر دبئی پہنچا دیا گیا جو پھر پاکستان پہنچ گئیں۔ اس زور زبردستی پر پوری دنیا خاموش نظر آ رہی ہے گو کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان کے دورے کے دوران 80 لاکھ آبادی کی حالت زار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بھارت سے انسانی حقوق کی پاسداری کی اپیل کی ہے۔

بعض لوگوں کو امید ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی دورے کے دوران کشمیر کے مسئلے کو اٹھائیں گے، لیکن ان کی بات کا کسی کو اعتماد نہیں بلکہ پلوامہ حملے کے بارے میں بھارت کے سیاسی حلقوں میں جو تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے اس کے عوض بعض رہنما کہتے ہیں کہ کشمیر میں عوامی مزاحمت کو دبانے کے لیے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی پھر پلوامہ جیسی کارروائی کی جائے گی تاکہ حسب روایت پاکستان پر الزام عائد کر کے کشمیر کے مسئلے کو دوبارہ پس پشت ڈالا جاسکے۔

امرسنگھ کالج میں زیرتعلیم ایک طالب علم کے مطابق ’ایک وی پی این بند کریں گے ہم دوسرا تلاش کریں گے۔ جس طرح بھارت کو کشمیری مزاج کا علم ہوگیا ہے اسی طرح کشمیریوں کو بھارت کی ہٹ دھرمی کے باوجود زندہ رہنے کا ہنر آتا ہے۔ انٹرنیٹ بند کر کے اگر بھارت سمجھتا ہے کہ ہمیں قومی دھارے میں بزور طاقت ضم کیا جائے گا تو یہ بھارت کی بدقسمتی ہے کیونکہ بھارت کے موجودہ حالات اشارہ دے رہے ہیں کہ کہیں خود بھارت کو کشمیر میں ضم نہ ہونا پڑے جیسا کہ شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں آزادی کا مطالبہ ہونے لگا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ