پاکستان کو ’بلیک لسٹ‘ سے بچنے کے لیے مزید کیا کرنا ہو گا؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے کہا ہے کہ اگر رواں سال جون تک ایکشن پلان پر پاکستان مکمل عمل در آمد نہیں کرے گا تو پاکستان کے خلاف کارروائی ہو گی۔

چھ روزہ اجلاس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے عالمی سطح پر لیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا (ایف اے ٹی ایف)

منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے مزید چار ماہ تک پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ اگر ان چار ماہ میں پاکستان نے مکمل پلان پر عمل در آمد نہ کیا تو ایف اے ٹی ایف پاکستان کے خلاف ایکشن لے گا۔

ایکشن کے تحت ایف اے ٹی ایف اراکین کو پاکستان کے ساتھ کاروباری معاملات اور لین دین میں خصوصی توجہ دینے کی ایڈوائس جاری کر سکتا ہے۔

16 فروری سے فرانس کے شہر پیرس میں جاری ایف اے ٹی ایف ویک میں 205 ممالک اور اداروں کے آٹھ سو نمائندگان نے شرکت کی۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق ایکشن پلان میں موجود تمام ڈیڈ لائنز ختم ہو چکی ہیں۔

پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو ایف اے ٹی ایف نے تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ایکشن پلان کو مکمل کرنے میں پاکستان کی ناکامی پر شدید تشویش کا ایک بار پھر اظہار کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان نے 27 میں سے 14 آئٹمز پر عمل در آمد کیا ہے۔

اس چھ روزہ اجلاس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے عالمی سطح پر لیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو سٹریٹجک خامیاں دور کرنے کے لیے آٹھ اقدامات کا ذکر کیا ہے۔ ان اقدامات میں:

  1. منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے کیسز میں موثر اقدامات اور پابندیاں لگائی جائیں۔
  2. پاکستان کو یہ دکھانا ہے کہ مجاز اتھارٹیاں غیرقانونی پیسے ٹرانسفر کرنے والی سروسز کی نشاندہی کرنے میں معاونت کر رہی ہیں۔
  3. پاکستان کو سرحد پار پیسے کی ترسیل کے کیسز میں موثر اور ضروری پابندیاں لگانے کی صلاحیت دکھانا ہو گی۔
  4. پاکستان کو یہ دکھانا ہو گا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کی مالی معاونت کی کارروائیوں کی بڑے پیمانے پر نشاندہی اور تفتیش ہو رہی ہے اور مقرر کردہ افراد اور تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
  5. پاکستان کو ثابت کرنا ہو گا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے کیسز میں ہونے والی قانونی کارروائی موثر ہے۔
  6. پاکستان کو اقوام متحدہ کی جانب سے مقرر کردہ دہشت گردوں کے خلاف موثر مالی پابندیوں کا نفاذ کرنا ہو گا اور ان دہشت گردوں کے نام پر کام کرنے والے افراد اور تنظیموں کی جانب سے پیسے اکٹھا کرنا اور اس کی ترسیل کے خلاف بھی کارروائی کرنا ہو گی۔
  7. دہشت گردوں کی مالی معاونت کیسز میں پاکستان کو دکھانا ہو گا کہ ایسے کیسز میں وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر انتظامی اور فوجداری کارروائی ہو رہی ہے۔
  8. پاکستان کو دکھانا ہو گا کہ مقرر کردہ افراد کی ملکیت میں موجودہ سہولیات تک ان کی اب رسائی نہیں رہی۔

اس بارے میں پاکستانی وزارت خزانہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر خاطر خواہ عمل در آمد کیا ہے جس کا ثبوت نو اضافی آئٹمز کا مکمل ہونا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی جانب ایکشن پلان پر عمل در آمد کی پیش رفت کو تسلیم کیا ہے اور اعلیٰ سیاسی قیادت کے عزم کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

اجلاس میں چین نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کی تعریف کی ہے۔

چینی دفتر خارجہ کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے حوالے سے سرتوڑ کوششیں کی ہیں جسے ایف اے ٹی ایف کے بیشتر اراکین نے تسلیم کیا ہے۔‘

ٹویٹ میں مزید لکھا ہے کہ ’چین اور دیگر ممالک اس حوالے سے پاکستان کی معاونت جاری رکھیں گے۔‘

19 فروری سے شروع ہونے والے باضابطہ اجلاس میں پاکستان، ایران اور دیگر ممالک کی طرف سے مالی نظام کو خطرات سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اس کے علاوہ کوریا اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ایف اے ٹی ایف کے اجلاس  سے پہلے پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے متعدد اقدامات لیے تھے جن میں میوچل لیگل اسسٹنس ایکٹ کی منظوری اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانا شامل تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان