’کیسا لگا میرا مذاق‘

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بالآخر اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے دستبرداری اختیار کرنے کے راز سے پردہ اٹھا ہی دیا۔

بھارتی وزیراعظم   نریندر مودی کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے بارے میں وضاحتی بیان سامنے آنے کے بعد صارفین کے ہاتھ تنقید اور طنز و مزاح کا ایک اور موقع لگ گیا (تصویر: اے ایف پی)

گذشتہ روز سنسنی اور قیاس آرائیوں کو جنم دینے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بالآخر اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے دستبرداری اختیار کرنے کے راز سے پردہ اٹھا ہی دیا۔

پیر کو نریندر مودی نے بظاہر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر پوسٹ کیے گئے اپنے پیغام میں لکھا تھا: ’اس اتوار سے سوچ رہا ہوں کہ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کروں۔ آپ کو اس بارے میں آگاہ کروں گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ بھارتی وزیراعظم نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اس فیصلے کے پیچھے کیا وجہ ہے، تاہم سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر صارفین کی جانب سے تبصروں اور قیاس آرائیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور ہر کوئی اپنی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اندازے لگا رہا تھا۔

اور آج اپنی ایک ٹویٹ میں وزیراعظم مودی نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھا: ’خواتین کے عالمی دن پر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان خواتین کے نام کردوں گا جن کی زندگیوں اور ان کے کارناموں نے ہمیں متاثر کیا ہے۔ اس سے انہیں لاکھوں افراد میں تحریک پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ کیا آپ ایسی خاتون ہیں یا کیا آپ کسی ایسی متاثر کن خواتین کو جانتے ہیں؟ اس طرح کی کہانیاں  ’شی انسائرز اَس‘کا ہیش ٹیگ استعمال کرکے شیئر کریں۔‘

 نریندر مودی کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے بارے میں وضاحتی بیان سامنے آنے کے بعد صارفین کے ہاتھ تنقید اور طنز و مزاح کا ایک اور موقع لگ گیا۔

کرناٹک سے کانگریس کے رہنما سری واتسا نے مودی پر طنز کرتے ہوئے لکھا: ’ان کی جماعت ریپ کرنے والوں کا دفاع کرتی ہے۔ انہوں نے اناؤ اور ریپ کے دیگر واقعات پر لب کشائی تک نہیں کی۔ ان کی جماعت نے شاہین باغ کی بہادر خواتین کو بدنام کیا۔ وہ ان کو فالو کرتے ہیں جو ریپ کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ صرف مودی جیسا شخص ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو کسی کے حوالے کرنے سے خواتین کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔‘

بنٹی ٹرپ کے ہینڈل سے کی گئی ٹویٹ میں ایک صارف نے وزیراعظم مودی کی سابقیہ اہلیہ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’ہم اس خاتون سے متاثر ہیں جن کو ان کے شوہر نے غیر قانونی طور پر چھوڑ دیا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی۔ معاشرے میں ان کا مذاق اڑایا گیا لیکن انہوں نے خود اپنی زندگی کا انتخاب کیا۔۔۔‘

سکن ڈاکٹر کے نام سے ٹوئٹر صارف نے ایک میم شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’ کل سے ٹوئٹر پر یہ سب چل رہا تھا کہ وہ سوشل میڈیا چھوڑ رہے ہیں، یہ ٹوئٹر اور فیس بک کے متعصب رویے پر سخت پیغام ہے، ٹوئٹر کریش ہوجائے گا، ہم بھی ٹوئٹر چھوڑ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ اور آج مودی جی کہہ رہے ہیں: کیسا لگا میرا مذاق۔۔‘

تیواڑی نامی صارف نے لکھا: ’بھارت ایک عجیب و غریب ملک ہے جہاں والدین اور رشتہ دار آپ کو ہر روز شادی کرنے کے لیے بلیک میل کریں گے لیکن اس شخص (مودی) کی پرستش کریں گے، جنہوں نے اپنی اہلیہ اور خاندان کو محض اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ وہ ان کی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر ہیں۔‘

نریندر مودی کی حامی شویتا نامی صارف نے بھی ایک میم شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’وہ تمام بائیں بازو کے نظریات سے تعلق رکھنے والے افراد جو مودی جی کے ٹوئٹر چھوڑنے پر خوشی منا رہے تھے، کے لیے میرا پیغام: کروا لی بے عزتی۔۔‘

ٹوئٹر پر نریندر مودی کو فالو کرنے والے افراد کی تعداد پانچ کروڑ تیس لاکھ سے زائد ہے، فیس بک پر انہیں چار کروڑ چالیس لاکھ سے زائد افراد فالو کرتے ہیں جبکہ انسٹاگرام پر ان کے فالورز تین کروڑ پچاس لاکھ سے زائد ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل