چندے سے بنی اکیڈمی جس نے شاہین آفریدی دیا

ضلع خیبر کے علاقے جمرود کی کرکٹ اکیڈمی اب تک پاکستان اور افغانستان کو ’کئی بڑے کرکٹر دے چکی ہے۔‘

افغان سرحد سے متصل  پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں اونچے اونچے پہاڑوں،سخت چٹانوں اور پتھریلی زمین پر واقع ضلع خیبر کھیلوں کے حوالے سے ذرخیز ہے۔

اس علاقے نے  بیس بال، ہاکی، مارشل آرٹ، فٹ بال، اتھلیٹکس اور کرکٹ میں کئی نامور کھلاڑی پیدا کیے۔

یوں تو ضلع خیبر میں کئی کھیلوں کو پسند کیا جاتا ہے لیکن شاہد خان آفریدی کا تعلق یہاں سے ہونے کی  بنا پر نوجوانوں کا کرکٹ سے لگاؤ جنون کی حد تک ہے۔

علاقے میں کھیلوں کی سہولیات کی عدم دستیابی کے باوجود بڑے بڑے کھلاڑیوں کے نام سامنے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں کے  لوگ کھیلوں سے محبت رکھتے اور باصلاحیت ہیں۔

یہاں پہلی کرکٹ اکیڈمی کی بنیاد رکھنے والے حاجی تیمور آفریدی نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے  2003,2004 میں دوستوں کے ساتھ مل کر جمرود میں ’خیبر کرکٹ اکیڈمی‘ کی بنیاد رکھی اور اس کی بڑی وجہ سابق فاٹا میں کرکٹ کے کم وسائل تھے۔

 انہوں نے بتایا کہ ماضی میں خیبر کے نوجوان کھلاڑی  پشاور کا رخ کر تے تھے تو ان کے ذہن میں ایسی کرکٹ اکیڈمی بنانے کا خیال آیا جہاں سے بہترین کھلاڑی نکل کر سامنے آئیں۔

’ابتدا میں کافی مشکلات تھیں کیونکہ وکٹ کی تیاری، نیٹ اور دیگر سامان کی خریداری ضروری تھی لیکن علاقے کے مخیر لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور چندے پر اکیڈمی میں ایک وکٹ تیار ہوئی جس کی تعداد اب چار ہو گئی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اکیڈمی میں کھلاڑیوں سے فیس نہیں لی جاتی بلکہ انہیں بال، بیٹ، گلاؤز، پیڈز اور ہیلمٹ سمیت دیگر سامان بھی مہیا کیا جاتا ہے۔

حاجی تیمور کے مطابق اکیڈمی نے پاکستان قومی ٹیم کو کئی بڑے نام مثلاً  شاہین شاہ آفریدی، عثمان شینواری اور ریاض آفریدی دیے جبکہ پاکستان سپر لیگ کے سیزن تھری اور فور میں ثمین گل اور سمیع خان نے پشاور زلمی کی نمائندگی کر رکھی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’افغانستان  کرکٹ ٹیم کے راشد ارمان اور کریم صادق نے بھی اسی اکیڈمی سے کرکٹ کھیلی جبکہ پاکستان انڈر 13،16اور انڈر19میں  اویس آفریدی اور فرہاد سمیت دیگر کھلاڑی کھیل چکے ہیں۔‘

حاجی تیمورنے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس وقت اکیڈمی میں دو سو کے قریب کھلاڑی سکول ٹائم کے بعد پریکٹس کرتے ہیں، جن میں افغانستان کے کھلاڑی  بھی شامل ہیں۔ ’کھلاڑیوں کی کوچنگ کے لیے علاقے کے فرسٹ کلاس کرکٹرز موجود ہیں جبکہ ٹریننگ کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کی اخلاقی تربیت بھی ہوتی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اکیڈمی کی وکٹس کی تیاری میں معاونت کرتا ہے اور دیگر اخراجات علاقے کے مخیر حضرات اور دوست پورے کرتے ہیں۔

حاجی تیمور کے مطابق  قبائلی اضلاع جب خیبر پختونخوا میں ضم نہیں ہوئے تھے تب فاٹا ریجن کی اپنی ٹیم تھی جس میں کھلاڑی ٹرائلز کے بعد ٹیم میں شامل ہوتے تھے لیکن اب فاٹا ضم ہوگیا ہے تو پہلے کی نسبت مقابلہ سخت ہوگیا کیونکہ خیبر پختونخوا ٹیم کے لیے کھلاڑیوں کی سلیکشن ہوتی ہے ،اس کے باوجود اکیڈمی سے کئی کھلاڑی خیبر پختونخوا ٹیم میں منتخب ہوچکے ہیں۔

انہوں نے  بتایا کہ وہ پشاور زلمی کے  سپورٹر ہیں  لیکن کراچی کنگز جس انداز سے کھیل رہاہے لگتا ہے کہ دیگر ٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔

 اکیڈمی میں باؤلنگ کوچ عبدالمنا ن نے،جنہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ہے،  اندپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہاں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے خاص کر فاسٹ بالرز کا۔’ ہم  کوشش کرتے ہیں کہ  وہ آگے جائے،پاکستان سپر لیگ کرکٹ کے فروغ اور نئے ٹیلنٹ کے لیے مفید ثابت ہورہاہے ۔’میں پی ایس ایل  فائیومیں کرچی کنگز کو سپورٹ کرتا ہوں اور نسیم شاہ پسندیدہ کھلاڑی ہیں۔ ‘

گذشتہ پی ایس ایل میں پشاور زلمی کی نمائندگی کرنےوالے سمیع خان نے بتایا کہ انہوں نے انڈر 16سے لے کر فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ہے ۔ انہوں نے اس اکیڈمی سے پریکٹس کاآغاز کیا اور اب بھی کھیل رہے ہیں۔

 اکیڈمی میں زیر تربیت افغانستان کے صوبہ لوگر سے تعلق رکھنے والے شومیل خان نے انڈپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی قومی ٹیم کے کریم صادق اور یامین احمد زئی نے  اسی اکیڈمی سے کرکٹ سیکھی لہٰذا وہ بھی چاہتے ہیں کہ یہاں پر کرکٹ پریکٹس کرکے  قومی ٹیم میں جگہ بنائیں۔

 اکیڈمی میں زیر تربیت اسامہ طارق اور وکیل خان نے بھی مستقبل میں پاکستان  ٹیم میں جگہ بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ ہے، اس لیے یہاں پر کرکٹ کھیلتے ہیں تاکہ آگے جاکر پاکستان کا نام روشن کر سکیں ۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ