تیل کی قیمتوں میں کمی پاکستان کے لیے ایک نعمت ہے: ماہر معاشیات

سابق سیکرٹری خزانہ و پٹرولیم ڈاکٹر وقار مسعود کے مطابق اگر تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچے تو اس سے لوگوں کی آمدن میں بھی اضافہ ہو گا کیوں کہ صرف تیل ہی نہیں دیگر چیزوں کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔

مشہور ماہر معاشیات اور سابق سیکرٹری خزانہ و پٹرولیم ڈاکٹر وقار مسعود کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی حالیہ کمی عمران خان حکومت کے لیے رحمت ہے اور اس سے معیشت میں بہتری واقع ہوگی۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وقار مسعود کا کہنا تھا کہ پچھلے کچھ عرصے سے حکومت تیل کی قیمتوں میں کمی کر رہی تھی مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا کیوں کہ حکومت قیمت کم کرنے کے ساتھ ساتھ پٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا: ’حالیہ قیمتوں میں کمی کے بعد حکومت کو چاہیے کہ اس کا فائدہ عوام تک پہنچائے، جس سے معیشت کو فائدہ ہوگا۔‘

تیل کی قیمتوں میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟

ڈاکٹر وقار مسعود کے مطابق کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث عالمی معیشت سست روی کا شکار تھی، جس کا اثر پٹرولیم کے شعبے میں بھی ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں کا فیصلہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کرتی ہے اور اوپیک نے سعودی عرب اور روس سے گزارش کی تھی کہ تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لیے اپنی تیل کی پیداوار کم کریں مگر روس نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے جواب میں سعودی عرب نے بھی رعایت دینا شروع کر دی اور اب تیل کی قیمت چند دنوں میں 70 ڈالر سے 31 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔

تیل کی قیمت کے پاکستان پر اثرات

ڈاکٹر وقار مسعود کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی پاکستان کے لیے نہایت فائدہ مند ہے کیوں کہ پاکستان کا زیادہ تر خرچ تیل پر ہی آتا تھا، اس کے باعث ملک میں مہنگائی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر مسعود کے مطابق اس سے شرح سود میں بھی چار فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسلم لیگ ن کے دور سے موازنہ کرتے ہوئے ڈاکٹر وقار نے کہا کہ 2014 میں بھی ایسا بھونچال آیا تھا جس سے مسلم لیگ ن کو فائدہ ہوا تھا اور آئی ایم ایف پروگرام مکمل کرنے میں مدد ملی تھی۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’موجودہ بھونچال مسلم لیگ ن کے زمانے سے بڑا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ اس کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے۔‘

ڈاکٹر مسعود کے مطابق اگر اس کا فائدہ عوام تک پہنچے تو عوام کی آمدن میں اضافہ ہو گا کیوں کہ صرف تیل ہی نہیں دیگر چیزوں کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے بجلی اور گیس کی قیمتوں پر بھی اثر پڑے گا کیوں کہ اب بجلی اور گیس کی قیمت بڑھانے کی شاید ضرورت نہ پڑے۔

پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ موجودہ انتظام کے مطابق پاکستان تیل کے بدلے سعودی عرب کو موخر ادائیگیاں کرے گا۔ ڈاکٹر وقار سے جب پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب کے ساتھ موخر ادائیگیوں کے معاہدے کی شرائط میں تیل کی قیمت پہلے سے طے تھی تو انہوں نے بتایا کہ ’ایسا نہیں ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ موخر ادائیگیوں کا ہے اور جس مہینے میں تیل خریدا گیا، وہ ادائیگیوں اسی قیمت پر ہوں گی۔‘

انہوں نے مزید کہا موخر ادائیگی کی سہولت صرف سعودی عرب کے ساتھ ہے۔ ’ہم تیل کویت اور متحدہ عرب امارات سے بھی لیتے ہیں اور قطر سے گیس لیتے ہیں جو کہ نقد ہوتی ہے۔‘

ڈاکٹر وقار کے مطابق اس سے پاکستان کا امپورٹ بل آدھا ہو سکتا ہے اور سٹیٹ بینک کے پاس ڈالر کے ذخائر بھی بڑھ جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت