شہباز شریف کی واپسی میں تاخیر پر لیگی اراکین میں بے چینی

اپوزیشن جب بھی مزاحمت کی سیاست کرنے کا آغاز کرتی ہے تو نیب کی جانب سے گرفتاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ ان حالات میں انتشار کی سیاست نہیں کرنا چاہتے: رہنما مسلم لیگ ن

مسلم لیگ ن کے رہنما برجیس طاہر کے مطابق صدر شہباز شریف کے بیرون ملک قیام یا مریم نواز کی خاموشی ایک سیاسی حکمت عملی ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

پاکستانی سیاست میں اپوزیشن جماعتیں مجبوریوں یا سیاسی مصلحتوں کے باعث عوامی جذبات کی ترجمانی کرتی دکھائی نہیں دے رہیں خاص طور پر بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن اندرونی مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

ایک طرف تو پارٹی اجلاسوں میں مرکزی قیادت کی عدم موجودگی کے باعث رہنماؤں کی جانب سے تنقید ہو رہی ہے، دوسری جانب پنجاب میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقاتوں سے لگتا ہے کہ شاید اراکین پارٹی پالیسیوں سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کی رہنما عظمی بخاری کہتی ہیں کہ اپوزیشن جب بھی مزاحمت کی سیاست کرنے کا آغاز کرتی ہے تو نیب کی جانب سے گرفتاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ ان حالات میں انتشار کی سیاست نہیں کرنا چاہتے۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو گڈ گورننس اور معیشت کے مسائل درپیش ہونے کے باوجود اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ بڑی سیاسی جماعتیں اندرونی مسائل کے باعث ایک پیج پر نہیں آسکتیں جبکہ مارچ میں خطرے کی گھنٹیاں بجانے والے بھی کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔

مسلم لیگ ن کے اندرونی مسائل کیا ہیں؟

سابق وفاقی وزیر برجیس طاہر کا کہنا ہے کہ مرکزی قیادت کی غیر موجودگی میں پارٹی معاملات چلانا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو  میں انہوں نے بتایا: ’ہماری مرکزی قیادت بیرون ملک ہے اور پاکستان میں عارضی سیٹ اپ کے ذریعے معاملات چلانے کی کوشش جاری ہے۔ سینیئر رہنماؤں شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف اور احسن اقبال کو سیاسی فیصلوں کا اختیار تو دیا گیا ہے لیکن مرکزی قیادت کی عدم موجودگی میں پارٹی کو متحد رکھنا کافی مشکل ہوتا ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں مسلم لیگ ن کے پارٹی رہنما تو اجلاسوں میں ایک دوسرے پر ہی تنقید کر رہے ہیں تو فیصلے کیسے مانیں گے؟ برجیس طاہر نے جواب دیا کہ ’سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے ہر ایک کا حق ہوتا ہے۔ منگل کے روز اسلام آباد میں ہونے والے ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں، میں بھی شریک تھا جہاں بعض اراکین اسمبلی نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار ضرور کیا لیکن اسے آپسی اختلافات یا دھڑے بندی نہیں کہا جاسکتا۔ ہم پہلے دن سے میاں نواز شریف کے بیانیے پر قائم ہیں اور قائم رہیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’جہاں تک شہباز شریف کے بیرون ملک قیام یا مریم نواز کی خاموشی کا سوال ہے تو یہ سیاسی حکمت عملی ہے۔ میاں نواز شریف تحریک عدم اعتماد یا اِن ہاؤس تبدیلی نہیں چاہتے بلکہ انہوں نے واضح کردیا ہے کہ وہ دوبارہ انتخابات میں عوامی فیصلے کے ذریعے اقتدار کو ترجیح دیں گے۔‘

 برجیس طاہر نے بتایا کہ ’خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی میں ذاتی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن پارٹی کی سطح پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہماری جماعت بہت جلد مختلف شہروں میں جلسے شروع کرنے جارہی ہے جن میں عوامی ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت مخالف تحریک کا فیصلہ کریں گے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’حکومت کو اپوزیشن سے زیادہ عوام سے خطرہ ہے کیونکہ عوامی مشکلات ناقابل برداشت ہوچکی ہیں۔ ایسی صورت حال میں ناکامی پر وزیر اعظم کو خود ہی استعفیٰ دینا پڑے گا یا اسمبلیاں توڑ کر دوبارہ انتخابات کروانے ہوں گے۔‘

دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پارٹی میں کسی بھی قسم کی گروہ بندی یا اراکین اسمبلی میں عدم اعتماد کی تردید کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بعض اراکین ایسے ہوتے ہیں جن سے اپوزیشن برداشت نہیں ہوتی لہذا جو چند اراکین صوبائی اسمبلی وزیراعلیٰ پنجاب سے ملے، ان کے خلاف پارٹی کارروائی پر غور کر رہی ہے۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف صرف بیانات تک محدود کیوں ہیں اور اگر حکومتی پالیسیوں سے اختلاف ہے تو موثر احتجاج کیوں نہیں کیا جاتا؟ تو عظمیٰ بخاری نے جواب دیا کہ ’جیسے ہی اپوزیشن احتجاج کی کال یا جلسوں کا اعلان کرتی ہے، نیب کی جانب سے ان کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جبکہ کوئی کیس ثابت نہیں ہوتا، لہذا ہم حکمت عملی سے سیاسی جدوجہد کررہے ہیں۔‘

اپوزیشن مصلحتوں کا شکار کیوں؟

ویسے تو پاکستانی سیاست دانوں کو کئی بار مختلف طریقوں سے زبردستی یا ان کی مرضی سے بیرون ملک ہی قیام کرنا پڑا اور یہ قیام کئی کئی سال تک جاری رہا۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور شریف خاندان کو جلا وطنی بھی کاٹنی پڑی۔

لیکن اس بار اسیری کے دوران نواز شریف علاج کے لیے عدالت سے درخواست کرکے لندن گئے جبکہ ان کے بھائی شہباز شریف بھی ان کی دیکھ بھال کے لیے وہیں موجود ہیں۔ دوسری جانب مریم نواز جو اپنے والد کا بیانیہ لے کر عوام میں آئیں وہ بھی عرصہ دراز سے مکمل خاموش ہیں۔

شہباز شریف کی واپسی سے متعلق ابھی تک کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی اور ہر رہنما یہی کہتا ہے کہ وہ جلد واپس آجائیں گے اور مریم نواز بھی جلد عوام کے درمیان ہوں گی، لیکن مستقبل قریب میں ایسے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے لندن میں مقیم شہباز شریف سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن بات نہ ہوسکی۔

دوسری جانب مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ حکومت نواز شریف کو واپس لانے کے اقدامات کر رہی ہے، کیا ایسے حالات میں مریم نواز کو بیرون ملک جاکر والد کی تیمارداری کی اجازت سے متعلق یہ  درخواست آگے چل سکے گی؟
اس تمام صورت حال میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن اپنے مسائل میں الجھی ہوئی ہے۔

سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب اور تجزیہ کار حسن عسکری نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں مصلحتوں اور اندرونی مسائل کا شکار ہیں، اس لیے حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ مارچ میں جو بڑی تحریک کے دعوے کیے جارہے تھے وہ بھی عملی طور پر نظر نہیں آرہے کیونکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ اس لیے نہیں چلتیں کیونکہ تحریک کی قیادت پر اتفاق نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت جس طرح گڈ گورننس اور معیشت کو مستحکم کرنے میں ناکام ہے، اسے ان حالات میں مسائل کا سامنا ضرور ہے لیکن اپوزیشن اس وقت کو کیش کرانے کی پوزیشن میں نہیں، اس لیے مستقبل میں کیا ہوگا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ فی الحال اپوزیشن جماعتیں کمزور نظر آرہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صرف بیانات سے حکومت پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا، اس کے لیے عملی طور پر موثر حکمت عملی بنا کر بڑی تحریک کی ضرورت ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست