اس صورت حال کی طوالت پاکستانی معیشت کے لیے خطرہ: ماہرین

کرونا سے متعلق سوال پوچھنے پر اسلام آباد میں نیشنل یونی ورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں شعبہ معاشیات کے سربراہ ڈاکٹر اشفاق احمد خان کہتے ہیں: ’اس صورت حال کی طوالت پاکستان کے لیے کافی خطرناک ہو سکتی ہے۔‘

’بیماریاں سرحدوں اور پاسپورٹس کو نہیں جانتی اور نہ ہی ان کا لحاظ کرتی ہیں۔‘ تصویر: اے ایف پی

’پندرہ دن میں ستّر لاکھ روپے جیب سے چلا گیا ہے۔ اور دفتر بند کر کے گھر پر بیٹھا ہوں۔ آٹھ ملازمین کو بھی فارغ کر کے گھر بھیج دیا ہے۔۔۔ کرونا وائرس نے تو ہمارا جنازہ ہی نکال دیا ہے۔‘

یہ کہنا تھا راولپنڈی میں درمیانے درجے کی ٹریول ایجنسی کے مالک عباس علی کا۔ عباس علی کا کاروبار کرونا وائرس کی وبا کے باعث دنیا بھر میں سفری پابندیوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر ٹریول ایجنٹس کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نقصان اٹھا رہے ہیں اور سخت پریشان ہیں۔

کرونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر میں خوف و ہراس کی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ اس مہلک وبا کے باعث کئی ملکوں کی معیشتوں پر بھی برے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

معاشی ماہرین کرونا وائرس کے باعث دنیا کی معیشتوں پر بدترین خطرات کی پیشن گوئیاں کر رہے ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سابق سربراہ کرسٹینا لیگارڈ کے مطابق: ’بیماریاں سرحدوں اور پاسپورٹس کو نہیں جانتی اور نہ ہی ان کا لحاظ کرتی ہیں۔‘

امریکی ٹی وی سی این بی سی سے گفتگو میں انہوں نے دنیا کے ملکوں کو ایسے اقدامات اٹھانے کا مشورہ دیا جن سے گھریلو ماحول، ان میں رہنے والے لوگوں اور کاروباری اداروں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

کرونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر میں سب سے پہلے سیاحت سے منسلک شعبوں کو متاثر کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مختلف ممالک نے اپنی سرحدوں پر آمدورفت کی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ جبکہ دوسرے ملک بھی ایسی پابندیوں پر غور ہو رہا ہے۔

کئی ہوا باز کمپنوں کے آپریشنز مختلف حکومتوں کے فیصلوں کے باعث محدود ہر کر رہ گئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مختلف بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے مالی اعانت کے پیکجز کا اعلان کر دیا ہے۔ ان اداروں میں ورلڈ بنک، آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بنک (اے ڈی بی) سرفہرست ہیں۔

پاکستان کتنا متاثر ہو سکتا ہے؟

پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں اور مشکوک افراد کی تعداد باقی ممال کے مقابلے میں ابھی بہت زیادہ نہیں ہے۔ جبکہ ملک میں اس مہلک وائرس کے باعث کسی ہلاکت کی اطلاع بھی نہیں ہے۔

تاہم دنیا کے مختلف ملکوں خصوصا پڑوسی ممالک میں کرونا وائرس کی وبا سے ہونے والے نقصانات کے اثرات پاکستان میں بھی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ناصر اقبال کہتے ہیں: ’کرونا وائرس کی وبا پاکستان کی دوسرے ملکوں سے ہونے والی تجارت کو سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی بیرونی تجارت کا بڑا حصہ ایران، افغانستان اور یورپی ممالک سے تعلق رکھتا ہے۔‘

انہوں نے وضاحت کی کہ ان ملکوں نے تجارت پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ جس سے پاکستان متاثر ہو رہا ہے۔ جو مستقبل میں زیادہ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر ناصر اقبال نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں سیاحت سے منسلک شعبے بھی زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اور ایسا ہی پاکستان میں بھی ہو رہا ہے اور مزید ہو گا۔

ٹریول ایجنٹس ایسویسی ایشن آف پاکستان (ٹیپ) کے فوکل پرسن محمد حنیف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دنیا بھر میں ائر لائنز اپنے آپریشنز میں کمی لا رہی ہیں۔ جس سے پاکستان میں ٹریول ایجنسیوں کے کاروبار پر بہت برے اثرات پڑ رہے ہیں۔

عباس علی نے کہا کہ وہ کم از کم اسّی کلائنٹس سے رمضان کے دوران عمرے کے لیے وصولیاں کر کے غیر ملکی ائر لائنز اور ہوٹلوں کو ادائیگیاں کر چکے ہیں۔ لیکن اب آپریشنز بند ہیں اور میرے کلائنٹس باہر جا نہیں سکتے۔

’اب وہ میرے پیچھے پڑے ہیں کہ مجھے پیسے دو۔ میں کہا سے لاؤں پیسے ان کے۔‘

ڈاکٹڑ ناصر اقبال کا کہنا تھا: ’دنیا بھر کی سٹاک ایکسچینجز میں مندی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اور یہی صورت حال پاکستان میں بھی ہے۔‘

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سٹاک ایکسچینجز میں مندی کا رجحان ملک میں کاروبار میں مندی کو ظاہر کرتا ہے۔

ان کے خیال میں کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال کے طول پکڑنے کی صورت میں حالات بگڑ سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں نیشنل یونی ورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں شعبہ معاشیات کے سربراہ ڈاکٹر اشفاق احمد خان کہتے ہیں: ’اس صورت حال کی طوالت پاکستان کے لیے کافی خطرناک ہو سکتی ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا: ’اگر تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں معاشی حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو وہ ترقیاتی منصوبے کم کر دیں گے۔ جس کے نتیجے میں بڑی بڑی کمپنیاں بند ہوں گی۔ اور ان کے ملازمین کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔‘

ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے مزید کہا کہ ایسی صورت میں بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی بے روزگار ہوں گے۔ اور باہر سے آنے والے زرمبادلہ میں کمی واقع ہو گی۔ جو پاکستان کی معیشت کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی معاشی ماہرین اور معاشی اداروں کے خیال میں پاکستان کی معیشت بھی کرونا وائرس کی وبا سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔

ایشیائی ترقیاتی بنک (اے ڈی بی) کی ایک حالیہ رپورٹ نے پاکستان کو کرونا وائرس کی وبا سےکم متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

تاہم رپورٹ کے مطابق: ’بدترین صورت حال میں پاکستان  کی معیشت کو کرونا وائرس کی وبا سے پانچ بلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جن شعبوں کو زیادہ نقصان پہنچنے کا احتمال ہے ان میں زراعت، کان کنی، ہوٹلز اور ریستوران، تجارت، ذاتی اور عوامی سروسز، کاروبار اور تجارت، ہلکی اور بھاری مینوفیکچرنگ اور ٹرانسپورٹ شامل ہیں۔

اے ڈی بی کے علاوہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک ٹیم نے بھی پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران کرونا وائرس کی وبا سے پاکستان کی معیشت کو متاثر ہونے سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کو فائدہ بھی ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر اشفاق حسن خان کے مطابق: ’کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جو صورت حال پیدا ہوئی اس سے پاکستان کو فی الحال فائدہ ہو سکتا ہے۔‘

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’دنیا کے اکثر ملکوں کی معیشتیں کمزور ہوئی ہیں۔ اور ان میں تیل پیدا کرنے والے ملک بھی شامل ہیں۔ جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔ اور مزید کمی بھی خارج از امکان نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے فائدے کی بات ہے۔ اور اس سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سستا تیل خریدنے سے پاکستان کا خرچہ کم ہو گا اور یوں ادائیگیوں کا توازن (بیلنس آف پیمنٹس) بہتر ہو جائے گا۔ جبکہ بیرونی اکاؤنٹس کے خسارے میں کمی واقع ہو گی۔

ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے مزید کہا کہ اگر حکومت پاکستان تیل کی قیمتوں میں کمی کو عوام تک منتقل کر دے تو اس سے ملک میں افراط زر میں کمی لائی جا سکتی ہے۔اور سٹیٹ بنک آف پاکستان سود کی شرح میں بھی کمی کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ جس سے کاروبار بڑھے گا۔

تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ کرونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونے والے حالات طویل ہونے کی صورت میں پاکستانی معیشت پر برے اثرات پڑیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت