’ٹک ٹاک کا بدصورت، غریب صارفین کی ویڈیوز دبانے کا حکم‘

لیک ہونے والی خفیہ دستاویزات کے مطابق ٹک ٹاک نے مواد کا جائزہ لینے والے اپنے موڈریٹرز کو ہدایت کی تھی کہ زیادہ بدصورت، غریب یا معذور صارفین کی پوسٹوں کی حوصلہ شکنی کریں۔

ٹک ٹاک پر ماہانہ آٹھ کروڑ ویڈوز شیئر کی جاتی ہیں(اے ایف پی)

امریکی میڈیا ویب سائٹ 'دی ’انٹرسیپٹ‘ نے لیک ہونے والی کچھ دستاویزات دیکھیں ہیں، جن کے مطابق ویڈیو شیئرنگ کی چینی ایپ ٹک ٹاک نے مواد کا جائزہ لینے والے اپنے عملے (موڈریٹرز) کو ہدایت کی تھی کہ زیادہ بدصورت، غریب یا معذور صارفین کی پوسٹوں کی حوصلہ شکنی کریں۔

دستاویزات کے مطابق ٹک ٹاک موڈریٹرز کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ انتخاب کریں کہ کون سی وی ویڈیو ایپ کی ’فار یو‘ فیڈ پر دکھائی دے گی۔

رپورٹ کے مطابق موڈریٹرزکو ایسی ویڈیوز سے بچنے کی ہدایت ملی تھی جن میں صارفین ’غیر معمول جسمانی ساخت (مثلاً چھوٹے قد، بڑے ہاتھ پاؤں یا چہرے) کے مالک ہوں بلکہ وہ صارفین بھی جو بہت موٹے یا دبلے پتلے‘ یا ’بدنما چہرے یا چہرے کے کسی بگاڑ کا شکار‘ دکھائی دیتے ہوں کیونکہ ایسی ویڈیوز کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دستاویزات کے مطابق ’اگرکردار اچھے دکھائی نہیں دیں گے تو ویڈیو کم پرکشش ہو گی۔ وہ اس لائق نہیں ہو گی کہ نئے صارفین کو انہیں دیکھنے کے لیے کہا جائے۔‘

رپورٹ کے مطابق خراب پس منظر والی ویڈیوز کوبھی ہٹا دیا گیا کیونکہ ان کے اردگرد کا ماحول زیادہ پرکشش نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ان ویڈیوز میں ’دیہی علاقوں کی غربت، گندی گلیاں، موٹے پیٹ اورناشائستہ مسکراہٹ دکھائی دے رہی تھی۔

موڈریٹرز نے ایسے صارفین کے ’ناظرین کو مصنوعی طریقے سے محدود کر کے ’مؤثر طور پر سزا دی۔‘

چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے موڈریٹرزکو مبینہ طور پر یہ بھی کہا گیا کہ سیاسی تقاریر کو سینسر کر دیں اور ایپ کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے ولے افراد پر پابندی لگا کر انہیں ’سزا‘ دیں۔

ٹک ٹاک ویب سائٹ نے ایسی کسی ہدایات  کے اب بھی موجود ہونے کی  تردید کی اور کہا کہ پلیٹ فارم کا ’مشن دنیا کی تخلیقی صلاحیت، علم اور زندگی کے قیمتی لمحات کو محفوظ بنانا ہے۔‘

ٹک ٹاک پر ماہانہ آٹھ کروڑ ویڈوز شیئر کی جاتی ہیں۔ ایپ کے ترجمان کے مطابق ان کے زیادہ تر‘ قواعد وضوابط پرانے ہیں اور ان پر رسمی طور پر کبھی عمل نہیں کیا گیا۔

ٹک ٹاک کے ترجمان جاش گارٹنر نے دی انٹرسیپٹ کو بتایا کہ ’زیادہ تر‘ ایسے قواعد پر مزید عمل نہیں کیا جا رہا یا بعض صورتوں میں ان پر کبھی عمل ہی نہیں کیا گیا۔

گارٹنر نے یہ بھی کہا کہ کشش سے عاری، معذور اور غریب صارفین سے متعلق قواعد ’دھونس جمانے کے عمل کو روکنے کے لیے ابتدائی کوشش تھی لیکن اب ان پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ ان کا استعمال پہلے ہی ترک کیا جا چکا ہے جب وہ انٹرسیپٹ کے ہاتھ لگے تھے۔‘

دی انٹرسیپٹ کی رپورٹ کے مطابق، ذرائع سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’دونوں طرح کی پالیسیوں پر کم از کم 2019 تک عمل کیا جاتا رہا ہے۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے ٹک ٹاک کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی