’مجھے بھی گھر پسند ہے مگر آپ کے لیے ڈیوٹی کر رہی ہوں‘

زلزلہ ہو، سیلاب ہوں، جنگی ماحول ہو یا کرونا (کورونا) جیسی وبا کا سامنا، ان تمام حالات میں متعلقہ محکموں کے ساتھ رپورٹرز  اور کیمرہ مین آپ کو ہر محاذ پر نظر آئیں گے۔

زلزلہ ہو، سیلاب ہوں، جنگی ماحول ہو یا کرونا (کورونا) جیسی وبا کا سامنا، ان تمام حالات میں متعلقہ محکموں کے ساتھ رپورٹرز  اور کیمرہ مین آپ کو ہر محاذ پر نظر آئیں گے۔

 دنیا بھر میں پھیلنے والے وبائی مرض کرونا وائرس میں جہاں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، پولیس اور فوج سب کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں وہاں درست خبر کی فراہمی کے لیے رپورٹر اور کیمرہ مین بھی دوڑ رہے ہوتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ وائرس اُن کو بھی لگ سکتا ہے۔

ایسی ہی ایک صحافی مہوش قماس بھی ہیں جو صحت کے حوالے سے خبروں پر نظر رکھتیں ہیں۔

ان حالات میں اپنی صحاتی ذمہ داریوں کو نبھانے کے حوالے سے مہوش قماس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے کام بہت بڑھ گیا ہے اور 24 گھنٹے الرٹ رہنا پڑھتا ہے۔

’کرونا وائرس پہ رپوٹ کے لیے جب ہسپتال یا فیلڈ میں جاتی ہوں تو ڈر تب لگتا ہے جب کوئی قریب آتا ہے اور کہتا ہے کہ کرونا کا ٹیسٹ کرانے آئے ہیں اور انتظامات ٹھیک نہیں یا ڈاکٹر ہماری بات نہیں سن رہے۔ اس وقت ڈر لگتا ہے کہیں اُن سے یہ وائرس ہمیں نہ ہو جائے۔‘

مہوش کا تعلق نوشہرہ سے ہے تاہم وہ ملازمت کی وجہ سے اسلام آباد میں ایک ہاسٹل میں رہتی ہیں۔

گھر والوں کے بارے میں مہوش کہتی ہیں کہ دن میں دس بار فون کر کے پوچھتے ہیں کہ گلوز پہنے ہیں ماسک پہنا ہے سینٹائزر پاس ہے کہ نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے کہ انہی دنوں لاہور میں چینل 24 کے دو ملازمین کو کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور اسلام آباد میں بھی 92 نیوز سے جڑے ایک اہلکار کا ٹیسٹ مثبت پایا گیا۔

اس سلسلے میں صحافیوں کے تخفظ کی کمیٹی نے کرونا وائرس کی رپورٹنگ کے دوران احتیاطی تدابیر جاری کی ہیں جن کے مطابق 50 برس سے زائد عمر کے صحافی اور حاملہ خواتین صحافی احتیاط کریں، جبکہ فیلڈ پر جانے والے رپورٹرز کیمرہ مین ضروری سامان جس میں ہینڈ سینیٹائزر، گلوز، ماسک، صابن، ٹشو پیپر پاس رکھیں۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے معاملات کی رپورٹنگ میں ذہنی اثرات سے بھی آگاہ رہیں۔ کیونکہ آئسولیشن وارڈ یا کرونا وائرس کے مریض کی رپورٹنگ کے دوران آپ ذہنی ٹراما سے گزر سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت