فلورنس نائٹ انگیل نے ’سیلف آئسولیشن‘ میں وقت کیسے گزارا؟

نائٹ انگیل نے 'سیلف آئسولیشن' کے دوران 'نوٹس آن نرسنگ' لکھنے کے علاوہ کریمیئن جنگ کے دوران ہونے والی طبی ناکامیوں پر ایک بااثر اور جامع رپورٹ لکھی اور ہسپتال کے ڈیزائن پر ایک کتاب تحریر کی۔

12 مئی، 2015 کی اس تصویر میں نرسز امرتسر کے سرکاری ہسپتال میں نرسز کے عالمی دن اور فلورنس نائٹنگیلکی 195ویں سالگرہ پر ان کی تصویر کے سامنے موم بتیاں جلا رہی ہیں (اے ایف پی)

جدید نرسنگ کی بانی فلورنس نائٹ انگیل200 سال قبل پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے اس شعبے میں انقلاب برپا کر کے شہرت حاصل کی۔

انیسویں صدی میں زخمی فوجیوں کی دیکھ بھال اور نرسوں کی تربیت کے بارے میں ان کے طرزِ عمل نے ان گنت جانیں بچائیں اور بے شمار زندگیوں کو بہتر بنایا۔

صحت مند رہنے کے بارے میں ان کے رہمنا اصولوں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے جیسا کہ سیاست دانوں کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا جا رہا ہے کہ کس طرح کرونا وائرس سے لڑنا بہتر ہے۔

مثال کے طور پر اگرچہ نائٹ انگیل 60 سال کی عمر تک اس خیال سے مکمل طور پر متفق نہیں تھیں کہ بہت سی بیماریاں مخصوص مائیکروآرگینزمز کی، جنہیں عام طور پر جراثیم کہتے ہیں، وجہ سے ہوتی ہیں لیکن وہ ہاتھ دھونے کی اہمیت سے بخوبی واقف تھیں۔

انہوں نے اپنی کتاب 'نوٹس آن نرسنگ' (1860) میں لکھا: 'ہر نرس کو دن میں بارہا اپنے ہاتھ دھوتے رہنا چاہیے۔ اگر وہ چہرہ بھی دھو لیں تو زیادہ بہتر ہے۔'

کریمیئن جنگ (1853-1856) کے دوران نائٹ انگیل نے برطانیہ کے فوجی ہسپتالوں میں ہاتھ دھونے اور دیگر حفظان صحت کے طریقوں کو نافذ کیا تھا۔ یہ نسبتاً نیا مشورہ تھا جو سب سے پہلے ہنگری کے ڈاکٹر اِگناز سیمیلویس نے 1840 کی دہائی میں عام کیا تھا۔ اس عمل سے زچگی کے وارڈز میں اموات کی شرح میں ڈرامائی کمی دیکھی گئی۔

نائٹ انگیلکی شعبہِ صحت عامہ میں موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت انہیں بین الاقوامی طبی پیش رفت اور تحقیق کی توجہ حاصل دلانے کا محض ایک پہلو تھا۔ اپنے بہت سے ہم عصر طبی ماہرین کی طرح نائٹ انگیلبھی گھر کو بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مداخلت کا ایک اہم مقام تصور کرتی تھیں۔

یہ وہ جگہ تھی جہاں زیادہ تر لوگ متعدی بیماریوں میں مبتلا اور اس کا شکار بنتے تھے۔ (آج بھی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے جیسا کہ چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس کی 75 سے80  فیصد منتقلی خاندان کے افراد میں ایک دوسرے سے ہوئی)۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'نوٹس آن نرسنگ' ایک نرسنگ مینوئل سے کہیں زیادہ صحت عامہ کی ایک کتاب تھی۔ اس میں عوام اور خاص طور پر خواتین کو مشورہ دیا گیا کہ اُس وقت کے عالمی نظریات کے مطابق گھروں کو کیسے صحت افزا بنایا جائے۔

اس میں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے جو سیدھے سادے مشورے دیے گئے، ان میں یہ بھی شامل تھا کہ آتش دانوں سے زیادہ دھوئیں سے کیسے بچا جائے( آگ کو بہت دھیما نہ ہونے دیں اور کوئلے زیادہ نہ ہونے دیں) اور یہ کہ دیواروں کے لیے سب سے محفوظ مادے کون سے ہیں (وال پیپرز کی بجائے آئل پینٹس زیادہ محفوظ ہیں)۔

نائٹ انگیل نے عوام کو سختی سے مشورہ دیا کہ زیادہ سے زیادہ روشنی کے حصول اور ہوا کے گزر کے لیے کھڑکیاں کھولیں اور گھروں میں جامد اور آلودہ ہوا کے باہر نکالنے کا بندوبست کریں۔ انہوں نے ہیضے اور ٹائیفائیڈ جیسی پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے نکاسی آب کو بہتر بنانے کا بھی مشورہ دیا۔

ان کی نظر میں گھر میں موجود تمام چیزوں کو صاف رکھنا چاہیے۔  انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں لکھا کہ 'گھر میں موجود گرد آلود قالین اور گندا فرنیچر ہوا کو اتنا ہی آلودہ کرتے ہیں جتنا تہہ خانے میں گوبر کے ڈھیر۔'

'نوٹس آن نرسنگ' میں گھروں کی خواتین پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کی صحت کی خاطر اپنے گھر کے ہر سوراخ اور کونے کو باقاعدگی سے صاف کریں۔

لیکن نائٹ انگیل صحت سے متعلق اس سے بھی زیادہ جامع نقطہ نظر پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے فوجیوں کو بحالی کے دوران بوریت اور شراب نوشی کا شکار بننے سے بچانے کے لیے پڑھنے، لکھنے اور سماجی سرگرمیوں کی ترغیب دی۔

اچھی ریاضی دان

نائٹ انگیلجب بڑی ہو رہی تھیں تو ان کے والد نے انہیں شماریاتی کا مضمون، جو اس وقت تعلیمی میدان میں نیا نیا متعارف کرایا جا رہا تھا، منتخب کرنے کا مشورہ دیا اور ان کے لیے ایک ریاضی کا ٹیوٹر بھی رکھ چھوڑا۔ کریمیئن جنگ کے دوران اور اس کے بعد نائٹ انگیلنے مختلف شعبوں کی افادیت کو ثابت کرنے کے ایک انداز کے طور پر ریاضی میں عبور حاصل کر لیا۔

ریاضی کو طب کے شعبے میں استعمال کرتے ہوئے وہ اپنے مشہور ڈائیاگرامز کی تیاری کرتی رہیں جس میں انہوں نے جنگ کے دوران زخموں کے برعکس بیماریوں کی وجہ سے فوجیوں کی زیادہ ہلاکتوں کے تناسب کا انکشاف کیا۔ اس کے بعد وہ 1858 میں لندن کے شماریاتی سوسائٹی میں داخلہ لینے والی پہلی خاتون بن گئیں۔

بعد ازاں انہوں نے برٹش انڈیا میں فوجی سٹیشنز پر صحت کی صورت حال اور آسٹریلیا میں مقامی آبادی کی شرح اموات جیسے اعداد و شمار حاصل کرنے کے لیے سوال نامے تیار کیے۔ ان کا رہنما اصول یہ تھا کہ قابل اعتماد پیمائش قائم کرنے کے بعد ہی صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے سے نمٹا جا سکتا ہے۔

1857 میں کریمیئن جنگ سے واپس آنے کے ایک سال کے بعد نائٹ انگیلکو شدید بیماری لاحق ہوگئی، اب خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بروزلوسیس نامی فلو جیسے  کسی انفیکشن کی وجہ سے ہوا ہو گا۔ اس کے بعد کی زندگی میں زیادہ تر انہیں نہ ختم ہونے والے درد کا سامنا کرنا پڑا جب کہ وہ اکثر چلنے یا بستر چھوڑنے سے قاصر رہتی تھیں۔

معزور قرار دیے جانے کے بعد انہوں نے انفیکشن کے خوف کی بجائے درد اور تھکاوٹ کی وجہ سے خود پر تنہائی کا ایک اصول نافذ کیا، یہ خود ساختہ تنہائی کی یہ ایک شکل تھی جس کا اطلاق ان کے خاندان کے قریب ترین ارکان پر بھی لاگو تھا (حالانکہ اس وقت بھی ان کے ملازم اور مہمان ان سے مل سکتے تھے)۔

مکمل طور پر گھر سے کام کرنے کے اپنے پہلے سالوں کے دوران نائٹ انگیلکی کارکردگی غیر معمولی تھی۔ 'نوٹس آن نرسنگ' لکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے کریمیئن جنگ کے دوران ہونے والی طبی ناکامیوں پر 900 صفحات کی ایک بااثر رپورٹ لکھی اور ہسپتال کے ڈیزائن پر ایک کتاب تحریر کی۔

اس کے علاوہ 1860 میں لندن کے سینٹ تھامس ہسپتال میں نرسوں کے لیے نائٹ انگیلٹریننگ سکول کے قیام اور 1861 میں کنگز کالج ہسپتال میں دائیوں کے لیے تربیتی پروگرام کے آغاز کے ساتھ انہوں نے کئی نئے ہسپتالوں کے ڈیزائنز کے حوالے سے مفید مشورے بھی دیے۔

1860 کی دہائی کے اختتام تک نائٹ انگیلنے ورک ہاؤس انفرمیریز میں اصلاحات کی تجویز پیش کی تاکہ انہیں اعلیٰ معیار کے ٹیکس دہندگان کی مالی اعانت سے چلائے جانے والے ہسپتالوں میں تبدیل کیا جا سکے اور ہندوستان میں صحت و صفائی اور سماجی اصلاحات پر بھی کام کیا۔

یہ سب کارنامے انہوں نے گھر پر رہتے ہوئے سرانجام دیے (حالانکہ حکومتی وزرا کبھی کبھار ملاقاتوں کے لیے ان کے گھر آتے تھے)۔

یہ سب کہنے کے بعد یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ نائٹ انگیلکی سیلف آئسولیشن اس تنہائی کی ایک مراعات یافتہ شکل تھی۔ ان کے والد کی خوش حالی، جو ڈربی شائر میں کان کنی کی مرہون منت تھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی۔

وہ لندن میں ایک اعلیٰ مکان میں رہتی تھیں جس میں ان کی مدد، خریداری اور کھانا پکانے کے لیے مختلف معاونین اور ملازمین تھے اور ان پر اولاد کی دیکھ بھال کی کوئی ذمہ داری بھی نہیں تھی۔ ان کا پورا وقت لکھنے پڑھنے میں صرف ہوتا تھا۔

لہذا جدید نرسنگ اور صحت عامہ کے لیے فلورنس نائٹ انگیلکی خدمات کو یاد کرنے کا یہ مناسب وقت ہے۔ تاہم اگر ہم تنہائی کے دوران ان جیسی اعلیٰ کارکردگی اور صلاحیتوں کے معیار پر پورا نہیں اترتے تو ہمیں برا بھی محسوس نہیں کرنا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ