پنجاب: کرونا ٹیسٹ کا نمونہ زائد المیعاد کٹ سے لینے کا انکشاف

ایک شخص علی رضا کے مطابق ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال منڈی بہاؤالدین میں ان کے کرونا وائرس ٹیسٹ کی کٹ زائد المیعاد نکلی اور عملے نے پوچھنے پر بتایا کہ انہیں یہی کٹس فراہم کی گئی ہیں۔

سیدعلی رضا زیدی ان زائرین میں سے ہیں جو تفتان بارڈر پر 14 روز قرنطینہ میں رہنے کے بعد ڈیرہ غازی خان پہنچے، جہاں مزید 14 روز قرنطینہ کے اختتام پر جب ان کا کرونا (کورونا) وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا تو انہیں پنجاب حکومت نے 27 مارچ کو ان کے گھر منڈی بہاؤالدین روانہ کردیا۔

علی نے انڈپینڈینٹ اردو کو بتایا کہ گھر پہنچنے کے دو روز بعد محکمہ صحت پنجاب کا عملہ ان کے گھر آیا اور انہیں یہ کہہ کر ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال منڈی بہاؤالدین لے گیا کہ ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ دوبارہ کرنا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیسٹ کے دوران وہ کٹ جو نمونہ حاصل کرنے اور لیب تک پہنچانے میں استعمال ہوتی ہے، ان کے ہاتھ لگ گئی اور بطور ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر انہوں نے اس پر درج تحریر پڑھی تو ان کی نظر مدت میعاد کی تاریخ پر پڑی جو دو برس پہلے ختم ہو چکی تھی۔

علی کہتے ہیں کہ انہوں نے ٹیسٹ لینے والے شخص کو جب یہ بات بتائی تو انہیں نے برہمی سے کہا 'ہمیں یہی کٹس دی گئی ہیں اور آپ کا نمونہ بھی اسی سے لیا جائے گا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نمونہ دینے کے بعد علی نے وہاں کوڑے دان میں موجود ان کٹس کے خالی پیکٹس کی تصویریں بھی لیں اور ان پر بھی دو سال پرانی تاریخ درج تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر نمونہ خراب کٹس پر لیا جارہا ہے تو اس کا نتیجہ غیر یقینی ہو سکتا ہے۔

اس سلسلے میں جب انڈپینڈنٹ اردو نے منڈی بہاؤالدین میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے ردعمل دیکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور مریض غلط بیانی کر رہا ہے۔

پنجاب پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کے ترجمان حافظ قیصر نے رابطہ کرنے پر کہا کہ انہیں کچھ نہیں معلوم۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر کرونا وائرس اب پھیلا ہے تو اس کی ٹیسٹنگ کٹس کی مدت میعاد پرانی کیسے ہو سکتی ہے؟

پتھالوجسٹ ڈاکٹر بابر یٰسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نمونہ لینے والی یہ کٹس کووڈ بیماریوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں جیسے سارس یا مرس وغیرہ اور ان کا ٹیسٹ کا نمونہ ایک طرح سے ہی لیا جاتا ہے، اس لیے کرونا ٹیسٹ کے لیے کٹس ایک جیسی ہو سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کٹ میں نمونہ لینے والی سواب سٹک اور اس کا ٹرانسپورٹ میڈیم اکٹھے آتے ہیں اور اگر سواب سٹک زائد المیعاد ہے تو اس کا ٹرانسپورٹ میڈیم بھی زائد المیعاد ہو گا جس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیسٹ کا نتیجہ غیر یقینی ہو گا۔

'ایسا نہیں کہ اس نمونے کا نتیجہ کچھ نہ نکلے۔ نتیجہ نکلے گا مگر ہوسکتا ہے کہ ٹیسٹ کے دوران منفی نتیجہ مثبت یا مثبت نتیجہ منفی آجائے اس لیے ان کٹس پر لیے گئے نمونوں کے ٹیسٹ کے نتیجے پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔'

ٹیسٹنگ کٹس کے حوالے سے 30 مارچ کو وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ 'صوبائی حکومتوں اور این ڈی ایم اے کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ کرونا وائرس کی غیر تصدیق شدہ کٹس کی بھرمار ہو رہی ہے۔ اگر بیمار مریض کو ٹیسٹ صحت مند ظاہر کر دے گا تو اس کا مطلب کئی جانوں کو خطرے میں ڈالنا، جب تک ڈریپ پاکستان کی اپنی کٹس کی تصدیق کرتا ہے آپ امپورٹ کریں لیکن صرف تصدیق شدہ کٹس۔'

زیادہ پڑھی جانے والی صحت