بھارت پر آئی پی ایل کرانے کا زبردست دباؤ

لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی دباؤ محسوس کرنے والے سٹار کھلاڑی بھارتی کرکٹ حکام پر لیگ کا مختصر ورژن کروانے پر زور دے رہے ہیں۔

آئی پی ایل سیزن سے بھارتی معیشت کو تقریباً 11 ارب ڈالرز کا فائدہ ہوتا ہے (اے ایف پی)

لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی دباؤ محسوس کرنے والے سٹار کھلاڑی بھارتی کرکٹ حکام پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کا مختصر ورژن کروانے پر زور دے رہے ہیں۔

کرونا وبا کے پیش نظر دنیا کا امیر ترین کرکٹ ٹورنامنٹ 15 اپریل تک موخر ہے۔ خیال رہے کہ بھارت میں جاری 21 روزہ لاک ڈاؤن بھی 15 اپریل تک جاری رہنا ہے۔ 

بھارت میں کرونا وبا سے ہونے والی اموات میں اضافے اور ملک کا عالمی دنیا سے سفری رابطہ نہ ہونے کے باعث اگلے تین مہینے تک یہاں کھیلوں کا انعقاد ممکن نظر نہیں آتا۔
سبق انگلش بلے باز کیون پیٹرسن نے سٹار سپورٹس سے گفتگو میں کہا 'بہت جلدی بھی ہوا تو لیگ جولائی، اگست تک ہی ممکن ہے۔ میرا ماننا ہے کہ آئی پی ایل کو ہونا چاہیے اور دنیا میں موجود ہر کھلاڑی آئی پی ایل کھیلنے کے لیے بے چین ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پیٹرسن نے مشورہ دیا کہ اس ٹورنامنٹ کو آٹھ ٹیموں تک محدود کر کے آٹھ ہفتوں کے لیے بند دروازوں یعنی خالی میدانوں میں کھیلا جا سکتا ہے۔ 'یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں فرنچائزز کو کچھ پیسہ مل جائے گا۔ اس مقصد کے لیے تین میدان منتخب کیے جا سکتے ہیں جو مداحوں کے لیے بند ہوں۔'

آئی پی ایل بھارتی کرکٹ بورڈ کے لیے منافع کمانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ یہ لیگ بھارتی معیشت میں 11 ارب ڈالرز کا اضافہ کرتی ہے۔ 

سابق بھارتی بلے باز سنجے منجریکر کا کہنا ہے کہ یہ لیگ، جس میں بین سٹوکس، ڈیوڈ وارنر، پیٹ کمنز اور ویراٹ کوہلی جیسے کھلاڑی موجود ہیں، وائرس زدہ معیشت میں نئی جان ڈال دے گی۔

'حکام سے کلیئرنس ملتے ہی آئی پی ایل فوری طور پر ہونی چاہیے۔ یہ معیشت کو ایک زبردست موقع دے گی کیونکہ جب آپ آئی پی ایل کی بات کرتے ہیں تو یہ صرف بھارتیوں، کوہلی یا دھونی کے لیے نہیں بلکہ ان سب کے لیے ہے جو آئی پی ایل سے روزی کما رہے ہیں۔'

سٹوکس اور کمنز پہلے ہی آئی پی ایل میں شرکت کے لیے رضامندی ظاہر کر چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل