آخر جاوید میاں داد سے کوئی خوش کیوں نہیں ہے؟

ان کے ایک قریبی دوست کہتے ہیں کہ جاوید میں ایک شرارتی بچہ چھپا ہوا ہے جو کبھی بھی دوسروں کے قابو میں نہیں آتا اور موقع ملتے ہی ایسی شرارت کر جاتا ہے جو دوسروں کو ناگوار گزرتی ہے۔

ستمبر 2014 کی اس تصویرمیں جاوید میاں داد آئی سی سی ورلڈکپ 2015 کی ٹرافی کے ساتھ پوز دے رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان کرکٹ کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی شارجہ کے ہیرو جاوید میاں داد کا نام سرفہرست ہوگا۔ ایک بے مثال بلے باز اور پھرتیلے فیلڈر کی حیثیت سے تو وہ سب سے آگے ہی ہیں لیکن نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک مکمل مکتب بھی ہیں۔

پورے کیریئر میں ان کی کرکٹ پر نظر اور مہارت صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری ٹیم کے لیے نظر آتی تھی۔ وہ جتنا اپنی کارکردگی پر نظر رکھتے تھے اتنی ہی دوسروں کی بھی رہنمائی کرتے تھے ۔

کم عمری میں ہی قومی ٹیم تک پہنچنے میں ان کی انتھک محنت اور بے نظیر ٹیلنٹ کا عمل دخل تھا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز کرنے سے پہلے وہ کرکٹ کا پہلا عالمی ورلڈ کپ کھیل چکے تھے ۔

جاوید میاں داد کا آغاز ہی عوامی تھا۔  کراچی جیمخانہ گراؤنڈ سے ابتدا کرنے والے جاوید کم عمری میں ہی بڑے شاٹ کھیلنے کے لیےمشہور ہوگئے تھے۔ والد کی جیمخانہ کی ممبر شپ نے انہیں فائدہ پہنچایا اور وہ محمد برادران کی نظر میں آگئے۔ جب مشتاق محمد کی سفارش پر ان کو موقع ملا تو انہوں نے مایوس نہیں کیا۔

پہلے ہی ٹیسٹ میں سنچری نے کرکٹ کے حلقوں کو متوجہ کردیا اور وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی بن گئے جس نے اپنی پہلی سیریز میں ڈبل سنچری بنا ڈالی۔ کراچی ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 206 رنز بناکر وہ دنیائے کرکٹ میں چھاگئے۔ اس ٹیسٹ میں وہ پہلی دفعہ چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرنے آئے اور پھر سارے کیریئر میں کوئی ان سے یہ پوزیشن چھین نہ سکا۔

1980  میں بھارت کا دورہ پاکستان ٹیم کے لیے کچھ اچھا نہ تھا۔ سارے بڑے کھلاڑیوں کی موجودگی میں کپتان آصف اقبال ٹیم کوشکستوں سے نہ بچاسکے۔ اگرچہ بھارتی ٹیم اس وقت ایک کمزور ترین ٹیم سمجھی جاتی تھی لیکن پاکستان 6 میں سے 2 ٹیسٹ میں شکست کھا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ شکست پاکستان میں کرکٹ شائقین سے برداشت نہ ہوئی اور ایک شور مچ گیا۔ میڈیا کے شور اور عوامی ردعمل کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نور خان نے کپتان آصف اقبال کو فارغ کرکے نوجوان جاوید میاں داد کو 23 سال کی عمر  میں کپتان مقرر کردیا۔

آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز میں جاوید میاں داد کی کپتانی تو اگرچہ کامیاب رہی اور پاکستان سیریز جیت گیا لیکن کئی سینیئر کھلاڑیوں کی موجودگی میں کھلنڈرانہ انداز میں ان کی کپتانی ایک امتحان بن گئی۔

نوجوانی اور پھر مزاج میں تفریح کا عنصر جاوید میاں داد کا سینئیر کھلاڑیوں کو بہت گراں گزرتا تھا۔ کئی مواقع پر جاوید کو ان کاتعاون بھی نہیں مل پاتا تھا، لیکن وہ کسی کے دباؤ میں نہ آتے تھے اور جہاں کمی پڑتی خود ہی اس کو پورا کردیتے تھے۔

اس دوران ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے ساتھ سیریز جاوید میاں داد کی کپتانی میں کھیلی گئیں جو پاکستان ہار گیا، البتہ پاکستان نے پہلی دفعہ آسٹریلیا کو اس کی ہی سرزمین پر  اننگز سے شکست دی۔ ملبورن ٹیسٹ میں جاوید میاں داد نے جہاں بہترین کپتانی کی وہیں ان کا ڈینس للی کے ساتھ تنازع بھی خوب مشہور ہوا، جہاں کینگرو کے انداز میں ان کی چھلانگوں نے ڈینس للی کو اتنا مشتعل کیا کہ وہ مارنے کو دوڑے، جس پر جواب میں جاوید نے بھی بلا اٹھا لیا۔

'کرکٹ کے پینتھر' کا خطاب حاصل کرنے والے جاوید میاں داد کی کپتانی کا پہلا دور مختصر رہا۔ 1982  میں سری لنکا کے خلاف سیریز میں ٹیم کے نو کھلاڑیوں نے ان کی کپتانی میں کھیلنے سے انکار کردیا، جن میں کرکٹ مبصر  سکندر بخت اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان بھی شامل تھے۔

اس وقت کے بورڈ نے کھلاڑیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا اور نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کرکے ٹیسٹ ٹیم کا اعلان کردیا۔ تاہم مرحوم وسیم راجہ اور اقبال قاسم نے آخری لمحات میں اپنے دوست جاوید میاں داد کی کپتانی میں کھیلنے پر رضامندی ظاہر کردی۔   پاکستان یہ ٹیسٹ تو جیت گیا لیکن اگلے ٹیسٹ میں پاکستان مشکلات کا شکار ہوا جس پر میڈیا اور حکومت کے دباؤ پر بورڈ مجبور ہوگیا کہ جاوید سے کپتانی واپس لے لی جائے۔

سیریز کے آخری ٹیسٹ میں لاہور میں تمام باغی کھلاڑیوں نے اس شرط پر شرکت کی کہ آئندہ سیریز میں جاوید کپتان نہیں ہوں گے۔ جاوید میاں داد اس کے بعد کپتان اس وقت ہی بنے جب عمران خان یا تو دستیاب نہ تھے یا ریٹائر ہوچکے تھے۔

عمران خان کی کپتانی میں جاوید میاں داد نے اپنے طرز عمل یا کھیل کے انداز سے کبھی ظاہر نہیں ہونے دیا کہ ان کے خلاف کبھی عمران خان نے بغاوت کی تھی۔ یہی جاوید کی شخصیت کا ایک اہم رخ ہے کہ وہ انتقام پر یقین نہیں رکھتے۔

جاوید میاں داد ہمیشہ پورے جوش اور جیت کے جذبے سے کھیلے ہیں۔ کئی ایسے میچز اور سیریز ہیں جس میں انہوں نے جوانمردی سے بیٹنگ کرکے پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔1988 کا ویسٹ انڈیز کا دورہ اس کی ایک مثال ہے جہاں انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے جسم پر گیندیں روکتے رہے لیکن ہمت نہ ہاری۔

جاوید میاں داد کو اپنے کھیل اور مہارت پر بہت اعتماد تھا، اسی لیے وہ دنیا کے تیز ترین بولرز کو ہیلمٹ کے بغیر کھیلتے رہے ہیں۔ ہیلمٹ کا استعمال انہوں نے اس وقت شروع  کیا جب ڈینس للی کی ایک گیند انہیں سر کے پیچھے لگی اور وہ بے ہوش ہوگئے۔

جاوید میاں داد کی تکنیک بھی خود ساختہ تھی۔ وہ شارٹ پچ گیندیں بھی فرنٹ فٹ پر کھیلنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کے کچھ اصول تھے، وہ کبھی سپنر کو سیدھا شاٹ نہیں مارتے تھے اور نہ ہی مس فیلڈ پر رنز لیتے تھے ۔

ان کی ایک صلاحیت ایسی تھی جس سے دوسرے بولرز اور بیٹسمین پریشان ہوجاتے تھے۔ وہ ان کی ہر وقت بولنے کی عادت تھی۔ وہ جب بیٹنگ کرتے تھے تو مخالف بولر کو تنگ کرتے تاکہ وہ غصہ میں آجائے اور غلط بولنگ کرے اور فیلڈنگ کرتے وقت مخالف بلے باز کو اتنا تنگ کرتے کہ وہ عاجز آجاتا اور اپنی توجہ کھودیتا۔

1992 کے ورلڈ کپ میں ان کی شمولیت کمر کی تکلیف کی وجہ سے غیر یقینی تھی لیکن وہ پھر بھی کھیلے اور جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ فائنل میں بخار کے عالم میں انہوں نے بہترین بیٹنگ کرکے لوگوں کے دل جیت لیے ۔

عمران خان کے بعد انہوں نے ایک سیریز میں کپتانی کی لیکن وہ ایک بار پھر سازشوں کا شکار ہوگئے اور جلد ہی کپتانی چھوڑنا پڑی۔اس دفعہ بورڈ بھی ان کے پیچھے نہیں کھڑا ہوا جس سے ان کی ہمت ٹوٹ گئی۔

ورلڈکپ کے جیتنے کے بعد جاوید نے بہت کم میچ کھیلے۔1996 کے ورلڈ کپ میں وہ شامل تو تھے لیکن دلبرداشتہ ہوچکے تھے یہاں تک کہ جنوبی افریقہ سے میچ سے ایک رات قبل وہ کراچی میں فنکشن اٹینڈ کر رہے تھے، اسی ورلڈکپ میں بھارت سے آخری میچ کے  بعد جاوید میاں داد  بالآخر ریٹائر ہوگئے۔

20 سال پر محیط ان کے کیریئر کا اختتام کچھ اچھا نہ تھا۔ ایک بڑے کھلاڑی کی حیثیت سے وہ ایک یادگار رخصت کے مستحق تھے لیکن جتنا شاندار ان کا کیریئر تھا اتنی ہی خاموشی سے انہوں نے ہمیشہ کے لیے پیڈز اتار دیے۔

کھلاڑی کی حیثیت سے ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد 1998 میں انہیں کوچنگ کی پیشکش ہوئی جو انہوں نے اس شرط پر قبول کی کہ وہ خود مختار ہوں گے لیکن اب دور بدل چکا تھا اور پلئیرز  پاور سر چڑھ کر بول رہی تھی۔ ان کی کوچنگ میں پاکستان نے کینیڈا میں سہارا کپ جیتا اور بھارت کے ساتھ طویل عرصے کے بعد ہونے والے ٹیسٹ سیریز کے چنئی ٹیسٹ میں تاریخی فتح حاصل کی۔

اسی دورے میں ان کے ٹیم کے بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ اختلافات سامنے آئے۔ ایک سابق اوپنر نے تو بقول شخصے ان پر بلا اٹھالیا جبکہ سابق فاسٹ بولر نے بات چیت بند کردی۔

جاوید میاں داد پر ایک الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ مالی فوائد کے پیچھے ہمیشہ بھاگتے رہے۔شارجہ کے مشہور چھکے پر ملنے والی ایک بیش قیمت گاڑی اور دوسرے انعامات کو لے کر ٹیم میں ان کے تنازعات ہوئے۔  کوچنگ کے دور میں بھی کچھ ایسے ہی تنازعات سامنے آئے اور نتیجے میں ان کو کوچنگ سے ہاتھ دھونے پڑے۔

2003 کے ورلڈکپ میں شرمناک شکست کے بعد وہ ایک بار پھر کوچ بنے اور ان کو ٹیم کو دوبارہ تعمیر کرنے کا ہدف دیا گیا جو انہوں نے بخوبی انجام دیا لیکن ان کی ہر وقت بولنے کی عادت نے ایک بار پھر اختلافات کو جنم دیا۔ اس دفعہ ان کو کرکٹ بورڈ میں جدیدیت کے علمبردار چند عہدیداروں نے ہدف بنالیا اور ماڈرن کوچنگ کے نام پر آنجہانی باب وولمر کو ان کی جگہ لایا گیا، جن کو جاوید ہمیشہ لیپ ٹاپ کوچ کہتے رہے۔

جاوید میاں داد ایک عظیم کرکٹر اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار شخص ہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ لگی لپٹی نہیں رکھتے اور اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ ان کی مہارت اور تجربے کا پاکستان میں کوئی ثانی نہیں۔ وہ بیٹنگ میں کئی نئی تکنیکس کے بانی ہیں۔ ریورس سوئپ اگرچہ مشتاق محمد کی ایجاد ہے لیکن جاوید میاں داد نے اس میں جدت پیدا کی اور آج اس کو کرکٹ کا اہم حصہ بنادیا ۔

اس قدر خدمات اور شاندار کیریئر کے باوجود جاوید میاں داد کو نہ تو اس کا صلہ مل سکا اور نہ ہی ان کے تجربے اور مہارت کا فائدہ اٹھایا جاسکا۔ ان سے جونیئر اور کم مہارت کے کھلاڑی کوچ اور سیلیکٹر بنتے رہے اور فائدے اٹھاتے رہے لیکن دنیائے کرکٹ کا یہ عظیم بلے باز گھر پر بیٹھ کر کڑھتا رہا۔ لٹل ماسٹر سنیل گواسکر نے ایک دفعہ کہا تھا کہ اگر جاوید کسی مغربی ملک میں ہوتا تو اب تک اپنے جیسے سینکڑوں  بلے باز تیار کردیتا لیکن اس کی بدقسمتی کہ وہ برصغیر میں ہے جہاں کرکٹ مہارت نہیں تعلقات پر چلتی ہے۔

ایک مہان بلے باز کی صلاحیتوں اور تجربے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا جاتا؟ اس سوال کا جواب تو ظاہر ہے یہ ہے کہ ارباب اختیار  ان سےخوش نہیں ہیں لیکن ان کے ایک قریبی دوست کہتے ہیں کہ جاوید میں ایک شرارتی بچہ چھپا ہوا ہے جو کبھی بھی دوسروں کے قابو میں نہیں آتا اور موقع ملتے ہی ایسی شرارت کر جاتا ہے جو دوسروں کو ناگوار گزرتی ہے۔

جاوید میاں داد کے ساتھ 15 سال گراؤنڈ اور ڈریسنگ روم میں ساتھ وقت گزارنے والے عمران خان کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی اگر ان کے تجربے اور مہارت سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکے تو پھر ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے آخر جاوید میاں داد سے کوئی خوش کیوں نہیں ہے؟

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ