چھ طریقے جن سے جوڑے قرنطینہ میں بہتر وقت گزار سکتے ہیں

بیشتر جوڑوں کو اس صورت حال میں ںئے ضابطوں اور حفاظتی اقدامات سے خود کو ہم آہنگ کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی، پر ماہرین پرامید ہیں کہ یہ وقت تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے صرف کیا جا سکتا ہے۔

ریلیشن شپ کے ماہرین کے مطابق اپنے معمولات کی ترجیحات طے کرنے سے لے کر مثبت باتوں پر غور کرنے تک چھ ایسی چیزیں ہیں جن کو قرنطینہ میں رہنے والے جڑوں کو جاننے کی ضرورت ہے۔ (تصاویر: پکسابے)

کرونا وائرس کا پھیلاؤ دنیا بھر میں جاری ہے جیسے روکنے کے لیے لاکھوں افراد اپنے گھروں میں قید ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے جوڑے جو ایک ساتھ رہتے ہیں یا جنہوں نے اکھٹے قرنطینہ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے، موجودہ حالات میں ان کے پاس ایک دوسرے کی صحبت میں گزارنے کے لیے لامحدود وقت ہو گا۔

یہ بات قابل فہم ہے کہ بیشتر جوڑوں کو اس صورت حال میں ںئے ضابطوں اور حفاظتی اقدامات سے خود کو ہم آہنگ کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔

خوش قسمتی سے ریلیشن شپ کے ماہرین پرامید ہیں کہ یہ وقت تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے صرف کیا جا سکتا ہے اور بالآخر رشتے میں بندھتے ہوئے لوگ اس وقت کو اپنی اور اپنے ساتھی کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے استعمال کر سکیں گے۔

ریلیشن شپ کے ماہرین کے مطابق اپنے معمولات کی ترجیحات طے کرنے سے لے کر مثبت باتوں پر غور کرنے تک چھ ایسی چیزیں ہیں جن کو قرنطینہ میں رہنے والے جڑوں کو جاننے کی ضرورت ہے۔

اپنے انفرادی معمولات پر قائم رہنے کی کوشش کریں

بہت سارے لوگوں کے لیے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث لاک ڈاؤن اور سماجی دوری جیسے احتیاطی تدابیر کا مطلب ہے آپ کی کیریئر سے دوری۔

اس کے نتیجے میں لوگوں کے جاگنے کے لیے وقف وقت اور صبح کے معمول کے کاموں کو تبدیل یا نظرانداز کردیا گیا ہے۔

لیکن ایک لائسنس یافتہ کلینیکل ماہر نفسیات، ڈیٹنگ ریلیشن شپ کوچ اور 'رپورٹ ریلیشن شپ' کی بانی  ڈاکٹر جینیفر بی روڈز کے مطابق جوڑوں کو جو سب سے اہم کام کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ وہ قرنطینہ سے پہلے کے اپنے روزمرہ کاموں کی زیادہ سے زیادہ پیروی کریں۔

 

روڈز نے 'دی انڈپینڈنٹ' کو بتایا: 'مجھے لگتا ہے کہ واقعتاً یہ ایک موقع ہے کہ ہمیں خود کا خیال رکھنے جیسے معمولات پر عمل کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے یا تو گھر سے کام کرنے سے  معمولات ختم ہو گئے ہیں یا ان کی جگہ لے لی گئی ہے ، لیکن اب لوگ اپنے شریک حیات یا ساتھی کے ساتھ بیٹھے ہیں۔'

تعلقات کو آسانی سے چلانے کے لیے روڈز نے کہا کہ جوڑوں کو اپنے معمولات کو ذہن میں رکھنا چاہیے اور ان کی پیروی کرتے رہنا چاہیے۔

روڈز نے کہا: 'یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے معمولات کو ذہن میں رکھیں اور اپنے معمول کے مطابق زندگی گزاریں اور آپ کے ساتھی کی ضروریات آپ کو اسے ختم کرنے پر مجبور نہ کرے۔ اگر آپ اپنے ساتھی کے بیدار ہونے سے پہلے اٹھ کر یا چل کر صبح کی خاموشی سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو آپ کو 'جلدی اٹھنے' کی ضرورت ہے۔

اس کا مطلب بھی ورزش کو ترجیح دینی ہے جس طرح آپ اپنی عام زندگی کے دوران دیتے تھے۔ جیسا کہ روڈز نے کہا کہ جسموں کو حرکت دینا اضطراب اور افسردگی کو دور رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

مثبت باتوں پر توجہ دیں

یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ مثبت چیزوں پر توجہ مرکوز کرنا اس وقت مشکل ہوسکتا ہے، روڈز نے ہمیں بتایا کہ ایسا کرنے سے یہ یقینی بن سکتا ہے کہ آپ کو اپنے ساتھی سے غیر ضروری طور پر لڑنا جھگڑنا نہیں پڑے گا۔

روڈز نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: 'یہ واقعی ذہنیت کی تبدیلی ہے۔ اپنے ساتھی کی یہ خامیاں دیکھنے کے بجائے کہ انہوں نے لانڈری کو ہیمپر میں نہیں ڈالا یا شاور نہیں لیا، آپ اس پر توجہ دیں کہ 'میں خوش ہوں'،  'ہم ساتھ ہیں' یا میرا ساتھی برتن دھو رہا ہے' یا 'مجھے واقعی میں پسند ہے کہ آپ 'وائرس سے متعلق حقائق پر خود کو اپ ٹو ڈیٹ رکھتے ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روڈز نے کہا: 'خود کو زیادہ مثبت رکھنے کے طریقے بنائیں کیوں کہ ابھی ہم سب منفی توانائی جذب کر رہے ہیں۔'

 

آپ کو جنسی تعلقات کے بارے میں بات کرنی چاہیے

خواہ آپ زیادہ سیکس کر رہے ہوں یا اس سے کم ، ماہرین جوڑوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ جتنا بھی سیکس کریں وہ تشویش کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔

ایک لائسنس یافتہ ماہر نفسیات، تعلقات کی ماہر اور سسمین کاؤنسلنگ کی بانی ریچل اے سسمین نے ہمیں بتایا: 'یہ (سیکس) ایسی چیز نہیں ہے جس پر ابھی آپ کو زیادہ توجہ دینی چاہیے۔'

'اگر آپ یہ کم کر رہے ہیں تو میں یہ نہیں کہوں گی کہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں آپ کو بہت زیادہ فکر مند ہونا چاہیے۔ اگر آپ زیادہ سیکس کر رہے ہیں تو یہ آپ کے لیے اچھا ہے۔'

تاہم سسمین کے مطابق جنسی تعلقات کے بارے میں گفتگو ہونی چاہیے۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے یا اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ اور آپ کا ساتھی اس حوالے سے ہم خیال نہیں ہیں۔

سسمین نے کہا: 'اگر آپ کو پریشانی ہو رہی ہے تو ایک دوسرے کے ساتھ نرمی برتیں اور اس بارے میں بات کریں۔ میں تصور کرسکتی ہوں کہ ایک شخص یہ کہہ رہا ہے: 'اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کرنے کو چلو سیکس کرتے ہیں' اور دوسرا یہ کہہ رہا ہے: 'کیا آپ کا دماغ خراب ہے، یہ وہ آخری کام ہے جو میں کرنا چاہتا ہوں۔'

روڈز نے یہ بھی مشورہ دیا کہ جوڑے اپنی جنسی زندگی پر تبادلہ خیال کرتے رہیں کیوں کہ مرد اور خواتین تناؤ سے نمٹنے کے لیے مختلف طرح کے طریقے آزماتے ہیں۔

روڈز کے مطابق: 'جنس مخالف سے تعلقات میں رہنے والی خواتین کو زیادہ کثرت سے سیکس کرنے کے لیے 'دباؤ' کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوں کہ مرد اکثر جنسی سرگرمی کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ خواتین عام طور پر اپنی جنسی خواہش سے محروم ہوجاتی ہیں۔'

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ جنسی تعلقات کسی مسئلے کا سبب نہ بنے، روڈز نے ہمیں بتایا: 'کوئی کیسا محسوس کر رہا ہے اس کے بارے میں کھل کر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔'

انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ دونوں پارٹنرز کو ان لمحوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے شعوری کوششیں کرنے کی ضرورت ہوگی کیوں کہ ہم بہت زیادہ اضطراب جذب کر رہے ہیں جس سے اس بات کا امکان ہے کہ یہ اضطراب بیڈ روم  کی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر دے گا۔

ہاتھوں کا استعمال کریں

روڈز نے کہا: 'جن کاموں کے لیے آپ کے ہاتھوں کی ضرورت ہوتی ہیں وہ آپ قرنطینہ کے دوران بھی ہاتھوں سے ہی کریں کیوں کہ ہاتھوں کا چھونا دل کے چکرا کو متحرک کرتا ہے اور اعصابی نظام کو پرسکون بناتا ہے۔'

روڈز کے مطابق کھانا پکانا، خاص طور پر اگر یہ ایک ایسی ریسیپی ہے جو آپ کے بچپن کی یادوں کو تازہ کر دے، یا پزل جوڑنا اچھے آپشنز ہیں۔

انہوں نے کہا: 'میرے خیال میں اسے سنجیدہ نوعیت کا نہیں بنانا اور ایسی چیزیں تلاش کرنا ہے جو تفریح کے لیے ہوں لیکن جسم کے کسی حصے کو متحرک کریں۔ اپنے ہاتھ استعمال کریں اور 24 گھنٹے صرف نیٹ فلکس نہ دیکھیں۔'

اپنے تعلقات کو بزنس یا سٹارٹ اپ کے طور پر سوچیں

خاص طور پر بچوں والے جوڑوں کے لیے قرنطینہ کا مطلب عام کرداروں میں مختلف ہو گا کیوں کہ والدین کو بچوں کو تعلیم دینے جیسی اضافی ذمہ داریاں اٹھانا پڑتی ہیں۔

سسمین نے کہا: 'ہر ایک کی زندگی بدل گئی ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ ایک روایتی خاندان ہیں، تب بھی آپ کی زندگی بدل گئی ہے۔'

سسمین کے مطابق ان تبدیلیوں کے ساتھ جوڑوں کو نئی ذمہ داریوں کو قبول کرنے اور اپنے پارٹنرز کی مدد کرنے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ظاہر ہے کہ ابھی بہت زیادہ کام کرنا ہے۔

اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ 'والدین میں سے جس کا بھی کردار بدل گیا ہے، دوسرے پارٹنر کو تعاون کرنا اور اس کے لیے راضی ہونا چاہیے۔'

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ یہ تبدیلیاں ہر ممکن حد تک ہموار ہوں، سسمین نے جوڑوں کو مل بیٹھ کر ایک ایسا منصوبہ وضع کرنے کا مشورہ دیا ہے جو ان کے لیے کارآمد بھی ہو۔

ایسا کرنے کا ایک طریقہ جو روڈز نے بتایا وہ یہ ہے کہ اسے ایک سٹارٹ اپ کی طرح لیا جائے۔

 

ان کے بقول: 'میرے خیال میں والدین کے لیے اتوار کی سہ پہر کو مل بیٹھ کر آئندہ ہفتے کے لیے ذمہ داریاں بانٹنے کی منصوبہ بندی کرنا بہتر رہے گا۔'

روڈز نے کہا کسی بھی کاروبار کی طرح اس بات پر گفتگو کرنے سے کہ کون سے کام کرنے ہیں اور کون سے نہیں کرنے، جوڑے اس مایوسی سے نمٹنے کے قابل ہو جائیں گے جو ایک دوسرے کے ساتھ قید ہو کر رہنے سے پیدا ہو جاتی ہے۔

سسمین کے مطابق یہ حکمت عملی فوری اور وقتی پریشانی کو حل کرنے کے علاوہ طویل مدت کے لیے بھی جوڑوں کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا: 'ہر کوئی زیادہ محنت کر رہا ہے۔ آپ کو یہ قبول کرنا پڑے گا لیکن یہ بھی کہ یہ ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گا۔ آپ یہ جتنا بہتر کریں گے آپ کا خاندن اتنا مضبوط ہوگا۔'

اپنے ساتھی سے ہمدردی رکھیں

ماہرین کی نظر میں تعلقات کے لیے انتہائی اہم چیز یہ ہے کہ جوڑے اس مشکل وقت کے دوران اپنے ساتھیوں سے ہمدردی کا اظہار کریں۔

سسمین کے مطابق جوڑوں میں اب تک جو سب سے بڑا مسئلہ وہ دیکھ رہی ہیں وہ ان کی ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا فقدان ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی مشکل سے گزر چکے ہیں جیسے ملازمت سے محروم ہونا تو بھی وہ ہمدردی کا اظہار نہیں کرتے۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ صنفی لحاظ سے بھی ہوتا ہے۔ سسمین نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے مشکلات کے اس دور میں مردوں کو کہتے سنا ہے کہ 'مجھے مضبوط بننا ہو گا' جب کہ خواتین اکثر ہمدردی اور توجہ چاہتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین کے لیے اپنے پارٹنرز کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کیوں کہ وہ اپنے شوہروں کو کمزور یا ٹوٹتے ہوئے دیکھنے کی عادی نہیں ہیں۔

لیکن اپنے ساتھیوں کی ان پریشانیوں اور خوف جن کا ان کو سامنا ہے، کو سمجھنے سے جوڑے بالآخر مضبوط ہو سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی گھر