کرونا زدہ سیاست

ڈچ وزیر اعظم مارک روٹے نے حزب اختلاف کے رکن اور سابق سیکریٹری صحت مارٹن وین رچ کو تین ماہ کے لیے وزیر صحت بنا دیا۔ کیا پاکستان میں ایسا ممکن ہے؟

وفاقی حکومت اور سندھ میں سیاست جاری ہےاوروفاقی وزیر سندھ حکومت کو جواب دینے کے لیے روزانہ پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں(پی آئی ڈی)

اس وقت پوری دنیا میں ایک ایسی وبا پھیلی ہوئی ہے جس کے بارے میں روز نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ وبا تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

ایسی صورت میں جہاں پوری قوم کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے وہاں سیاست دان اس پر صرف سیاست کر رہے ہیں۔ ہر کوئی دوسرے پر الزام تراشیوں اور تنقید میں مصروف ہے۔

ایک زندہ دلی کی مثال نیدرلینڈز کے وزیر اعظم مارک روٹے کی جانب سے دیکھی گئی جب انہوں نے حزب اختلاف کے ایک رکن پارلمیان کو تین ماہ کے لیے صحت کا وزیر مقرر کر دیا۔ مارٹن وین رچ ماضی میں سیکریٹری صحت کی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔ کیا پاکستان میں ایسا ممکن ہے؟

اس عالمی وبا کے تناظر میں وزیر اعظم عمران خان سے بہت امید تھی کہ وہ بڑے دل کا مظاہرہ کر کہ حزب اختلاف کے اراکین سے بات چیت کریں گے اور اس وبا سے نمٹانے کی مشترکہ حکمت عملی تشکیل دیں گے۔ ایک ایسا موقع آیا بھی تھا جب قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے حکومت اور اس کے اتحادیوں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب کیا۔

اس میں وزیر اعظم اپنے خیالات کا اظہار کر کے چلتے بنے، جس پر احتجاجاً قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے واک آؤٹ کر دیا۔ انہوں نے بیان دیا کہ وزیر اعظم اس وبا کو لے کر اتنے سنجیدہ ہیں کہ وہ ہماری بات تک سننے کو تیار نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس وقت وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان ایک سرد جنگ چل رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے پر تواتر سے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ پچھلے چند دنوں سے وفاقی وزرا آئے دن پریس کانفرنس کر کے سندھ حکومت پر خراب گورننس اور کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں جس کے جواب میں سندھ حکومت کے وزرا اور ترجمان وفاقی حکومت پر الزامات لگا رہے ہیں۔

اب جب کہ یہ وقت مل کر اس وبا سے لڑنے کا ہے، ایسا نظر آ رہا ہے کہ کچھ وفاقی وزرا کرونا وائرس سے نہیں بلکہ سندھ حکومت سے لڑنے میں مصروف ہیں۔ کرونا وائرس کے پاکستان میں آنے کے بعد جب بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’یہ وقت سیاست کا نہیں ہے۔ ابھی ہمیں اس وبا سے لڑنا ہے اور عمران خان ہمارے وزیر اعظم ہیں۔ وہ لیڈ کریں ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔‘

یہ بھی دیکھا گیا کہ وزیر اعظم نے ملک کے تین صوبوں کے دورے کیے مگر سندھ کا دورہ ابھی تک نہیں کیا۔ کیا اس کی وجہ بھی سیاست ہی ہے؟

یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا ہے لیکن دیکھا اس کا الٹ جا رہا ہے۔ منگل کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے ان دو وفاقی وزرا کی حوصلہ افزائی کی جنہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کی تھی۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ وزیراعظم ان وزرا کی حوصلہ شکنی کرتے پر افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ یہی سیاست ہے۔

ہمارے ٹی وی چینل بھی ماضی کی روش پر چل کر محض سیاست پر بات کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کے بیانات کو ہوا دے رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا میں بھی جنگ کرونا سے نہیں بظاہر سیاست سے لڑی جا رہی ہے۔ ہمارے سیاست دان بالیدگی کا مظاہرہ پھر کن حالات میں کریں گے؟

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ