کیا تیل کی عالمی قیمتیں گرنے سے پاکستان میں پیٹرول سستا ہوگا؟

ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی ضرورت کا بیشتر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے لیکن عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں واضح فرق کے ساتھ کم نہ ہونے کی وجہ یہاں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونا ہے۔

کرونا وائرس کی وجہ سے پیٹرول کی طلب کم ہو چکی ہے تو اس صورت میں مہنگا خریدا گیا پیٹرول بھی سستا بیچا جا سکتا ہے لیکن اس کی قیمت یا فارمولا کیا ہوگا یہ حکومت حالات کے تناظر میں طے کرتی ہے(فائل تصویر: اے ایف پی)

کرونا (کورونا) وائرس کی وجہ سے تیل کی عالمی منڈی میں بھی بھونچال آیا، جس کے نتیجے میں امریکی آئل مارکیٹ کریش کر گئی اور صفر سے بھی نیچے جا پہنچی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستانیوں کو بھی کرونا سے ہٹ کر نئی بحث کا موضوع مل گیا کہ پاکستان میں اب پیٹرول کتنا سستا ہوگا یا پاکستان کو اس کا کیا فائدہ یا نقصان ہے۔

درآمدی دستاویزات کے مطابق اس وقت پاکستان خام تیل کا 70 فیصد کے لگ بھگ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے درآمد کرتا ہے اور ملک میں موجود آئل ریفائنریز میں اس تیل کو قابل استعمال بنایا جاتا ہے جبکہ 30 فیصد کے لگ بھگ تیل کی پیداوار ملک کے اندر ہوتی ہے۔

وزارت پیٹرولیم کے حکام کے مطابق پاکستان عالمی مارکیٹ میں گراوٹ کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ پاکستان کے آئل ریزرو فل ہیں اور مزید آئل جمع کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔ اس کے علاوہ گذشتہ ایک مہینے میں پاکستان نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کوئی نئی شپمنٹ بھی درآمد نہیں کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ادارہ شماریات کے حکام کے مطابق پاکستان اپنی ضرورت کا 85 فی صد تیل درآمد کرتا ہے جبکہ پاکستان کا تیل کا سالانہ درآمدی بل 14 ارب ڈالر ہے۔ تاہم اب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی سے پاکستان کا تجارتی خسارہ پانچ ارب ڈالر کم ہونے کی امید ہے۔

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق کرونا وائرس کی صورت حال کے باعث مجموعی طور پر رواں مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں پاکستان کی پٹرولیم کی درآمدات بھی 16 فیصد کمی کے ساتھ آٹھ ارب 90 کروڑ ڈالر رہیں جو گذشتہ سال اسی عرصے میں 10 ارب 61 کروڑ ڈالر تھیں۔

ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال مارچ کے مہینے میں 13 کروڑ 69 لاکھ ڈالر کا خام تیل درآمد کیا گیا جبکہ گذشتہ برس مارچ میں 34 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا خام تیل درآمد ہوا تھا۔

پاکستان کون سا خام تیل استعمال کرتا ہے؟

سابق سیکرٹری پیٹرولیم جی اے صابری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان عرب لائٹ کروڈ آئل (خام تیل) استعمال کرتا ہے، جو خلیجی ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔

جی اے صابری کےمطابق: 'پاکستان برینٹ کروڈ آئل کی فنش پروڈکٹ استعمال کرتا ہے لیکن زیادہ دارومدار عرب لائٹ کروڈ آئل پر ہے جو کہ ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ کروڈ آئل کے مقابلے میں سستا ہے۔'

انہوں نے بتایا کہ اس کے لیے اوپیک باسکٹ کی پرائس نہیں لگائی جاتی بلکہ جس خلیجی ملک سے کروڈ آئل کی خریداری کی جاتی ہے اس لحاظ سے ہر ایک کی الگ قیمت طے کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث اب عرب لائٹ آئل کی قیمت برینٹ کروڈ آئل سے فی بیرل ڈیڑھ ڈالر زیادہ ہے۔

ڈبلیو ٹی آئی، برینٹ اور عرب لائٹ میں کیا فرق ہے؟

ڈبلیو ٹی آئی امریکی خام تیل ہے جسے ویسٹ ٹیکسس خام تیل بھی کہتے ہیں۔ اس میں سلفر کی مقدار کم ہوتی ہے۔

عالمی منڈی میں کرونا (کورونا) وائرس کی وجہ سے ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت انتہائی گراوٹ کا شکار ہوئی ہے۔ تیل کی عالمی قیمتوں کے نوٹیفکیشن کے مطابق رواں ہفتے امریکہ میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تیزی سے ختم ہونے کی خبروں کے بعد قیمتوں میں شدید مندی دیکھی گئی اور ایک دن کے دوران 37.63 ڈالر فی بیرل کی کمی ہوئی جو کہ 1983 کے بعد سے کم ترین سطح ہے۔

برینٹ کروڈ آئل کو  برینٹ سویٹ لائٹ آئل بھی کہتے ہیں۔ اس کا تعلق زیادہ تر یورپی مارکیٹ سے ہے اور یہ کوالٹی میں ڈبلیو ٹی آئی کروڈ سے بہتر تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں مختلف آئل فیلڈز کا آئل ہوتا ہے۔ اس کی قیمت آج کل 18.22 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔

عرب لائٹ کروڈ آئل میں سلفر کی مقدار ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ کروڈ سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی قیمت 19.16 ڈالر فی بیرل ہے۔ عرب لائٹ کروڈ کی قیمت مہینے میں ایک بار طے ہو جاتی ہے۔

قیمتوں میں کمی کے باعث پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کیا بنتی ہے؟

وزارت پیٹرولیم کے حکام نے اس حوالے سے بتایا: ’اس کا کوئی آئیڈل فارمولا نہیں ہوتا۔ تین ماہ کے استعمال کے لیے اگر تیل خریدا گیا ہے اور وہ بالفرض جنوری میں خریدا گیا ہے اور مارچ میں قیمتیں کم ہو گئی ہیں تو حکومت اور کمپنیاں جس قیمت پر تیل خریدتی ہیں تو وہ اس وقت اسی قیمت پر ہی فروخت کریں گی، لیکن نئی قیمت پر خریداری کے بعد صارف کے لیے کم قیمت رکھی جاتی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: 'جیسے آج کل کرونا وائرس کی وجہ سے پیٹرول کی طلب کم ہو چکی ہے تو اس صورت میں مہنگا خریدا گیا پیٹرول بھی سستا بیچا جا سکتا ہے لیکن اس کی قیمت یا فارمولا کیا ہوگا یہ حکومت حالات کے تناظر میں طے کرتی ہے اور اس کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، تاہم حکومت 30 روپے تک لیویز ٹیکس لگا سکتی ہے جو کہ جنرل سیلز ٹیکس کے علاوہ ہے۔'

پاکستان میں آئل مصنوعات کی قیمت کیسے طے کی جاتی ہے؟

سابق سیکرٹری پیٹرولیم جی اے صابری نے بتایا کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں پورے مہینے کی خام تیل کی قیمتوں کا اوسط نکال کر اُس میں ٹرانسپورٹیشن کی لاگت، مزدوری کی لاگت جس کو دوسرے لفظوں میں لینڈنگ قیمت کہا جاتا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تبدیلی شامل کرکے قیمت نکالی جاتی ہے۔ پھر حکومت اپنی ضرورت کے مطابق اس میں 17 فیصد سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی سمیت دیگر ٹیکسز شامل کرتی ہے۔

انہوں نے کہا: 'اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ عالمی منڈی میں اگر 50 فیصد فی بیرل قیمت کم ہو گئی ہے تو پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمتیں ایک ساتھ 50 فیصد کم کر دی جائیں۔'

توانائی کے ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی ضرورت کا بیشتر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے لیکن عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں واضح فرق کے ساتھ کم نہ ہونے کی وجہ پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت