لاک ڈاؤن، سوشل میڈیا اور والدین

سوشل میڈیا جہاں اپنے آپ میں مفید ہے وہیں حد درجہ مضر و خطرناک بھی ہے۔ یہ حقیقت بھی اکثر تجربہ سے گزرتی ہے کہ بچوں کا ذہن کسی چیز سے استفادہ کرنے اور اسے مثبت پیمانے پر پرکھنے کے بجائے اس کے منفی پہلو میں اپنی دلچسپی کا اظہار کچھ زیادہ ہی کرتا ہے۔

ویسے بھی آج کے دور میں واٹس ایپ ، انسٹاگرام، ٹوئٹر، ٹک ٹاک اور فیس جیسی ایجادات کے بغیر انسان تقریباً نا مکمل ہے۔(پکسابے)

کرونا (کورونا) وائرس کے باعث لگے لاک ڈاؤن نے لوگوں کی مصروفیات محدود کردی ہیں اور لوگ گھروں میں وقت گزارنے پر مجبور ہیں۔

وقت گزاری کے لیے یوں تو بہت سے کام ہیں، کئی شوق ہیں جنہیں لاک ڈاؤن کے دوران پورا کیا جا سکتا ہے۔کچھ شوق جیسے مطالعہ لاک ڈاؤن کی بدولت ملنے والی چھٹیوں کا بہترین استعمال ہے لیکن سمارٹ فون کی بدولت اکثر لوگ لاک ڈاؤن  میں اپنے محبوب یا سوشل میڈیا سے زیادہ جڑ گئے ہیں۔

ویسے بھی آج کے دور میں واٹس ایپ ، انسٹاگرام، ٹوئٹر، ٹک ٹاک اور فیس جیسی ایجادات کے بغیر انسان تقریباً نا مکمل ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا نے انسانوں سے گہرا  رشتہ قائم کر لیا ہے۔ جدید ایجادات کی  مدد سے بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل کام چند لمحوں میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن انسانوں کا واٹس ایپ ، انسٹاگرام، ٹوئٹر اور فیس بک  اور دیگر ویب اور موبائل ایپلیکیشنز میں کھو جانا کسی مہذب معاشرے اور ہماری تہذیب و تمدن سے بالکل میل نہیں کھاتا۔

آپس میں ملنا جلنا، ایک دوسرے کا خیال رکھنا اور دکھ درد میں ایک دوسرے کے کام آنا ہماری تہزیب اور معاشرت کا اہم حصہ ہے۔ ان معاشرتی اچھائیوں کو نئی نسل تک پہنچانا ہماری ذمہ داری بھی ہے اور فرض عین بھی۔ آج کل لاک ڈاؤن نے ایک دوسرے سے ملنے سے روکا ہوا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی کے کام نہیں آسکتے یا کوئی نیکی نہیں کما سکتے۔

یہ سچ ہے کہ لاک ڈاؤن  کے دوران دنیا میں زیادہ تر لوگ سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں۔ وطن عزیز بھی اس معاملے میں کسی دوسرے ملک سے پیچھے ہرگز نہیں ہے۔ مرد، خواتین، بچے، بوڑھے، جوان، امیر، غریب، سب اپنا اچھا خاصا وقت سوشل میڈیا میں لگا رہے ہیں۔

بالخصوص نوجوان نسل کے دل و دماغ پر تو سوشل میڈیا جنون کی حد تک حاوی ہو چکا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں  دن بھر سوشل میڈیا سے چپکے رہنے کے باوجود رات میں بھی جب تک سوشل میڈیا پر کچھ وقت نہیں گزار لیتے تب تک انہیں نیند ہی نہیں آتی۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ فیس بک پر دوست بڑھتے جا رہے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوشل میڈیا پر بہت زیادہ متحرک حضرات حقیقی زندگی میں کسی ایسے کو ترستے ہیں جس سے حال دل کہہ سکیں، جس سے خوشی یا غم شیئر کر سکیں۔ دیکھا جائے تو سوشل میڈیا نے انسان کو اور زیادہ تنہا اور اپنی انا کا قیدی بنا دیا ہے۔ زندگی میں احساس کی جگہ ایموجیز نے لے لی ہے، ذات کے حصار میں بند لوگ کسی کی غم، خوشی یا دیگر احساس کو لائک اور کومنٹ کے ترازو میں تولنے لگے ہیں۔

ان باتوں سے یہ نتیجہ ہرگز نہ نکالا جائے کہ سوشل میڈیا کا استعمال غلط ہے اور ہماری نئی نسل  کو اس سے دور رہنا چاہیے۔ نہیں، اس کا مطلب یہ نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ سوشل میڈیا کا استعمال کریں لیکن جائز حد تک۔ غلط چیزوں اور فضول ایپس میں وقت گزاری نہ کریں۔

خاص طور پر والدین لاک ڈاؤن  کے دوران سوشل میڈیا سے اپنی محبت کا دم بھرنے اور اس کے فضول استعمال میں وقت صرف کرنے کے بجائے بچوں کی درست تعلیم و تربیت میں زیادہ دلچسپی لیں۔ اپنے بچوں کو انٹرنیٹ سے نہ جوڑیں اور نہ ہی ان کی تفریح کے لیے کھلونے کے طور پر سمارٹ فون کا استعمال کریں۔

سوشل میڈیا جہاں اپنے آپ میں مفید ہے وہیں حد درجہ مضر و خطرناک بھی ہے، اور ہاں یہ حقیقت بھی اکثر تجربہ سے گزرتی ہے کہ بچوں کا ذہن کسی چیز سے استفادہ کرنے اور اسے مثبت پیمانے پر پرکھنے کے بجائے اس کے منفی پہلو میں اپنی دلچسپی کا اظہار کچھ زیادہ ہی کرتا ہے۔

مادیت پرستی کے اس دور میں اگر والدین ہی اپنے بچوں  کی تربیت سے آنکھیں چرانے لگے تو پھر ایسا ہونے کا قوی امکان ہے کہ بچہ قبل از وقت ہی اپنی ساری صلاحتیوں کا جنازہ نکال دے یا اس میں موجود خداداد صلاحیتیں اس کے اندر ہی  منجمد ہو جائیں اور وہ برائیوں  سے ایسا ناطہ جوڑ لے کہ پھر اسے راہ راست پر لانا مشکل ہو جائے۔

اس لیے  تمام والدین کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عام زندگی میں بھی اور لاک ڈاؤن  کے دوران خاص طور پر سوشل میڈیا پر بیکار وقت گزاری کرنے کے بجائے زیادہ  وقت اپنے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت اور اسے ایک اچھا انسان بنانے میں لگائیں تا کہ  یہ بچے اعلیٰ اخلاق و کردار کے مالک بن سکیں ۔

 ہمارا یہ آج کل کا زوال پذیر معاشرہ جو مکمل طور پر سوشل میڈیا کے جادو کے اثر میں آ چکا ہے، بچوں کو اس کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے ان کے سوشل میڈٰیا کے استعمال پر کنٹرول وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بچے بڑوں سے دیکھ کر سیکھتے ہیں اس لیے والدین کو خصوصاً بچوں کے سامنے موبائل فون یا سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے، ایسا کر کے ہی وہ اپنے بچوں اور خاندان کو لاک ڈاؤن  کے دوران اور اس کے بعد بھی یک جان دو قالب رکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔

سوشل میڈیا ایک مایا جال ہے بہتر ہے خود بھی اس جال سے نکلیں اور اپنے بچوں کو بھی اس جال میں پھنسنے سے بچائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ