جولائی تک پاکستان میں دو لاکھ کرونا کیسز ہو سکتے ہیں: عالمی ادارہ صحت

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹرجنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسیس نے کہا ہے کہ اگر پاکستان میں مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو جولائی کے وسط تک ملک میں مریضوں کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں اب تک 115 سے زائد اضلاع اس وائرس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں ( اے ایف پی)

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ اگر کرونا (کورونا) وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اگر پاکستان میں مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو جولائی کے وسط تک ملک میں مریضوں کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹرجنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسیس نے پاکستان میں کرونا وائرس پر قابو پانے کے قومی منصوبے کے آغاز پر ورچوئل کانفرنس کے ذریعے خطاب میں کہا کہ وائرس پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب تک 115 سے زائد اضلاع اس وائرس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں جن میں زیادہ تر پنجاب اور سندھ میں ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے پاکستان کے بارے میں سلسلہ وار ٹوئٹس میں کہا گیا ہے کہ وبائی مرض سے پاکستان کے صحت کے نظام پر اضافی دباؤ پڑا ہے اور وائرس سے متاثرہ افراد کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ سلسلہ وار ٹوئٹس  ڈائریکٹرجنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسیس کے خطاب کے حوالے سے کی گئی ہیں۔

ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسیس کے مطابق وبائی مرض کے پاکستانی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ’ملک میں غریبوں کی تعداد دگنی ہو سکتی ہے۔ ہمیں ایک مربوط حکمت عملی کے تحت مل کر کام کرنا ہو گا۔‘

انہوں نے کہا کہ تیزی سے پھیلتے اس مرض کے پیش نظر زیادہ اور فوری فنڈز کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

’حکومتی منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے  ساڑھے 59 لاکھ ڈالرز کی ضرورت ہے۔ منصوبے کے تحت یہ رقم کمزور ترین طبقات کی معاونت، رابطے میں بہتری، وائرس کے پھیلاؤ پر نظر رکھنے اور لیبارٹریوں، انتظامات میں اضافے، وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات اور مختلف برادریوں میں کو متحرک کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے درخواست کی کہ اقوام متحدہ کے نظام کے تحت تمام فریق اور دوسرے عالمی اور مقامی پارٹنر منصوبے کے تحت حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس پاکستان کے لیے حقیقی خطرہ ہے، اس کے اثرات کو کم کرنے کا انحصار ایک منظم اور مضبوط حکمت عملی پر ہے۔

ڈائریکٹرجنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسیس نے کہا کہ ’ہمیں نہ صرف وائرس کے خاتمے کے منصوبے پر عمل کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے بلکہ وسائل بھی اکٹھے کرنے ہوں گے تاکہ فوری جواب اور صحت کا نظام مضبوط بنانے کے ضمن میں انہیں اُس جگہ تک پہنچایا جا سکے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘

’عالمی ادارہ صحت وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور زندگیاں بچانے کے لیے پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان