'ہزارہ خوش ہیں اور بلوچ ناخوش تو مسئلہ حل نہیں ہوسکتا'

جلیلہ حیدر کے مطابق 2018 میں ہزارہ برادری کو سکیورٹی دینے کا جو وعدہ ریاست نے کیا تھا وہ تقریباً پورا ہوا ہے، لیکن ریاست جبری گمشدہ افراد کے کیمپوں میں اپنے بیٹوں کے انتظار میں بیٹھی ماؤں کے بھی آنسو پونچھے۔

انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم کارکن اور وکیل جلیلہ حیدر نے 28  اپریل 2018 کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال کی تھی، جس کا مقصد ہزارہ برادری کے افراد کی سکیورٹی کی یقین دہانی تھی۔

جلیلہ کے مطابق ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد مسلسل 20 سال سے قتل عام کا شکار ہو رہے تھے، جس میں تین ہزار سے زائد ہزارہ مرد ہلاک ہوئے مگر نہ کسی کو انصاف ملا، نہ ایف آئی آر درج ہوئی اور اگر کچھ ایف آئی آرز درج ہوئیں بھی تو وہ بھی نامعوم افراد کے خلاف، لیکن کوئی ایک شخص بھی گرفتار نہ ہوا۔

بقول جلیلہ: 'اس بھوک ہڑتال میں ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ ریاست آکر ہم سے بات کرے اور ہمارے لوگوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ جان، مال اور عزت کی ذمہ داری ریاست کی ذمہ داری ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ اس بھوک ہڑتال کے پانچویں روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کیمپ میں آئے اور یہ یقین دہانی کروائی کہ وہ ہزارہ قوم کی سکیورٹی کو یقینی بنائیں گے، جس کے بعد ہم نے بھوک ہڑتال ختم کی۔

جلیلہ کے مطابق: 'اس طرح دو سال ہوگئے اور باوجود اس کے کہ 2019 میں ہونے والے ایک دھماکے میں ہزارہ برادری کے دس افراد ہلاک ہوئے، ہمارے لوگوں کا مورال بلند رہا کیونکہ سکیورٹی دینے کا جو وعدہ ریاست نے کیا تھا وہ تقریباً پورا ہوا ہے مگر یہ مسئلہ دو سال کا نہیں ہے۔'

انہوں نے مزید کہا: 'اسی طرح اگر بلوچستان میں ایک گھر میں آگ لگی ہو تو دوسرا گھر بھی خوش نہیں رہ سکتا۔ اگر ہزارہ خوش ہیں اور بلوچ ناخوش ہیں تو مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ اس لیے میں ریاست سے ایک مرتبہ پھر یہ مطالبہ کرتی ہوں کہ جبری گمشدہ افراد کے کیمپوں میں جو مائیں اپنے بچوں کے انتظار میں سسک سسک کر وفات پارہی ہیں، ان کے آنسو پونچھیں اور ان کے بیٹوں کی رہائی میں اپنا کردار ادا کریں۔ شاید تاریخ میں ہمارے پاس کچھ دعائیں اور کچھ یادیں رہ جائیں جو ہمیں تاابد زندہ رکھیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ