منٹو کا نیا قانون اور اٹلی لاک ڈاون کا دوسرا دور

دنیا کے سب سے طویل لاک ڈاؤن کے بعد آج سے اٹلی دوبارہ کھل رہا ہے، لیکن بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔

اٹلی کا طویل لاک ڈاؤن آج پیر کے ردز  جزوی طور پر کھلنے جا رہا ہے (اے ایف پی)

منٹو کا مشہور افسانہ ’نیا قانون‘ پڑھا تھا جس میں منگو کوچوان کو اگلے آنے والے دن اور نئے قانون سے بہت سی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ وہ اس کے لیے بھرپور تیاریاں کرتا ہے۔

منگو اس قانون کے متعلق مکمل شناسائی بھی نہیں رکھتا مگر بہت پرجوش بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ منٹو کے افسانے کے مطابق یہ قانون یکم اپریل کو نافذ ہونا ہے، جو بےوقوفوں کا عالمی دن بھی ہے۔

اٹلی کا نیا قانون یکم اپریل نہیں بلکہ چار مئی یعنی آج سے لاگو ہونا ہے، لیکن اطالویوں کی حالت منگو کوچوان سے کچھ زیا مختلف نہیں۔

دو ماہ کے شدید لاک ڈاؤن کے بعد جب ایک ہفتہ قبل وزیر اعظم جسپی کونتے نے اعلان کیا کہ لاک ڈاؤن کی شرائط کو آسان بنایا جا رہا ہے تو عوام کچھ منگو کوچوان سے نظر آرہے ہیں۔ وہ پیچھے بیٹھی ہوئی سواری سے پوچھ رہے ہیں کہ چار مئی کا دن کیسا ہو گا اور کیا اس کے بعد آنے والے ہر دن پھر کرونا سے بچنا ہے، ماسک اور دستانوں کا کس قدر ساتھ رہے گا؟

انہیں کچھ کچھ پتہ بھی ہے اور بے خبر بھی ہیں۔ وزیر اعظم کے اعلان سے دو دن قبل اپنی لیب کے ایک اطالوی اسسٹنٹ پروفیسرروکو سے جب بات ہوئی تو وہ اس قدر پر امید تھے کہ  چار مئی کو یونیورسٹی آئیں گے اور پہلے کی طرح کام شروع بھی کر دیں گے۔ اور اس کا واحد جواز ان کے پاس یہ تھا کہ ’میں یہ صورتِ حال زیادہ برداشت نہیں کر سکتا۔‘

 سچ بھی یہی ہے۔ اطالوی قوم کے لیے گھروں میں قید رہنا آسان نہیں۔ دنیا کے سب سے طویل لاک ڈاؤن میں بھی یہ لوگ برتن اور وائلن لے کر بالکونی میں بیٹھ کر گانے اور بجانے لگتے ہیں۔ سریلی تانیں چھیڑتے ہیں، محلے والے بھی ان کا ساتھ دیتے ہیں اور یہ ہم آواز ہو کر مشہور اطالوی گیت  ’بیلا چاؤ‘ چھیڑ دیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہیں اپنی کھانے کی روایات پر فخر ہے، پیزا اور پاستا کو بڑی شان سے ’اپنا‘ کہتے ہیں، موسیقی کے دلدادہ ہیں۔ لاک ڈاؤن سے پہلے سڑکوں پر کئی نوجوان گٹار اٹھائے مل جاتے تھے، ورزش ان کی زندگی کا حصہ ہے، صبح وشام لمبی واک کے لیے جاتے لوگ نظرآتے تھے، ایک ایک سڑک پر کئی پیزیریا (پیزا شاپ( موجود ہیں جہاں ہر وقت نوجوانوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ یہ اور بات کہ اب یہ پیزیریا کرونا کے خوف میں شٹر تلے دبے ہیں۔

اطالویوں کا مخصوص کافی کلچر ہے، یہ سٹرانگ کافی پیتے ہیں اور چھوٹے سے کپ میں محض ایک سپ ہی پیتے ہیں۔ کافی اتنی ہی بار پیتے ہیں جتنی ہم چائے، یعنی ہر وقت، اٹھتے بیٹھتے، کھانے کے بعد، سونے سے پہلے۔ دوست آجائے تو کافی، تھک جائیں، گپ لگانی ہو، تب بھی کافی۔ آپ اگر کسی اطالوی کے ساتھ بیٹھیں اور وہ کافی کی آفر کر دے تو منع نہیں کر سکتے اور کر بھی دیں تو کوئی فائدہ نہیں، وہ آپ کو پلا کے چھوڑے گا۔

پروفیسر البرتو نے ایک دفعہ کافی کی آفر کی تھی اورجب میں نے کہا کہ ’میں کافی نہیں پیتی،‘ تو انھوں نے کہا ”ٹھیک ہے، پھر تمھیں جنگسانگ کافی سے شروع کرنا ہو گا کیونکہ یہ لائٹ ہے،‘ اور تھوڑی دیر بعد انھوں نے لیب کے چاروں طالب علموں کو اپنے کمرے میں بلا کر جنگسانگ کافی پلا دی جو واقعی لائٹ تھی اور مجھے اتنی پسند آئی کہ لاک ڈاؤن کے ان دو ماہ میں کھانے کی بقیہ چیزوں کے ساتھ جنگسانگ بھی میری ساتھی ہے۔

اطالویوں کو اپنی زبان پر بھی فخر ہے۔ مجھے یاد ہے میری ساتھی ایما نے کہا تھا، ’انگریزی بہت آسان زبان ہے، اطالوی بہت مشکل۔ اسے سیکھنا آسان نہیں۔‘ گویا یہ لوگ بھرپورانداز میں زندگی جیتے ہیں، خود سے وابستہ ہر چیز پر فخر کرتے ہیں، اس پر خوش ہوتے ہیں۔

دنیا کی نظریں اٹلی کے فیصلے اور اس کے نتائج پررہیں گی کیونکہ چین کے بعد اٹلی وہ دوسرا ملک تھا جو کرونا وائرس سے فوری طور پر اور شدید متاثر ہوا، جہاں لاک ڈاؤن کے سخت اقدامات کیے گئے اور  آج سے اس میں نرمی کی جا رہی ہے۔

ابھی تک صرف کھانے پینے کی اشیا اور فارمیسی تک رسائی ممکن تھی، کچھ عرصے قبل کتابوں کی دکانیں بھی کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اب لوگ فاصلہ اختیار کرتے ہوئے ورزش کے لیے بھی باہر جا سکیں گے، ریستورانوں سے کھانا خرید کر گھر لا سکیں گے، مرنے والوں کی آخری رسومات کی ادائیگی بھی کر سکیں گے۔ میوزیم اور ثقافتی سرگرمیاں  18مئی، بار اور بیوٹی سیلون یکم جون سے جبکہ تعلیمی ادارے ستمبر سے کھولے جائیں گے۔

وزیر اعظم نے اپنے اعلان میں لوگوں سے ذمے داری کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی اور چار مئی سے شروع ہونے والے دور کو دوسرا فیز قرار دیتے ہوئے  اسے ’وائرس کے ساتھ بقائے باہمی‘ کا نام دیا۔ ماسک اور دستانے اب بھی ضروری ہیں، سماجی دوری اختیار کرنا اب بھی لازم ہے۔ البتہ ماسک کی قیمتیں گرا کر انھیں 50 سینٹ کا کر دیا گیا ہے۔

ہر وقت سڑکوں کی رونق بننے والے یہ لوگ گھروں میں بھی بڑی شان سے قید رہے۔ انھوں نے حکومت کے ہر فیصلے پر فرض کی طرح عمل کیا۔ مگر اب انھیں اپنا کافی کلچر یاد آرہا ہے۔ انھیں پیزیریا میں دوستوں کے ساتھ بیٹھنا بھی یاد آ رہا ہے مگر اس کے ساتھ یہ لوگ جانتے ہیں کہ حالات وہ نہیں رہیں گے جو کرونا سے پہلے تھے۔ کم از کم اس سال تو نہیں۔

پروفیسر پلمبو نے دو ہفتہ قبل ایک آن لائن لیکچر کے دوران کہا تھا کہ ’میں امید کرتا ہوں اٹلی میں صورت حال جلد پہلے کی طرح ہو جائے گی۔‘ مگر پھر فوراَ تصحیح کرتے ہوئے کہنے لگے، ’پہلے کی طرح تو یقینا نہیں ہو سکے گی مگر امید کرتا ہوں کہ جو اس وقت ہے، اس سے بہتر ہو جائے۔‘

قوانین میں اس نرمی سے کئی لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ  29ہزار جانیں گنوانے اور لاک ڈاؤن کی سختیوں کو جھیلنے کے بعد نئے کیسوں کی تعداد میں جو کمی آ رہی ہے، کہیں وہ پھر سے نہ بڑھ جائیں۔

ایسے میں کئی لوگ منگو کوچوان بھی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کے سب سے طویل مدتی لاک ڈاؤن میں دو ماہ گزارنے کے بعد یہ نیا قانون ان کے لیے نجات دہندہ ہے۔

----------------------

نوٹ: نوشین حسین کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ اٹلی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ