کشمیر: برہان وانی کے جانشین ریاض نائیکو سمیت چار شدت پسند ہلاک

ریاض نائیکو کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر انظامیہ نے لاک ڈاؤن مزید سخت کردیا ہے تمام اضلاع میں انٹرنیٹ اور فون سروسز منقطع کردی گئی ہیں۔

 منگل اور بدھ کی درمیانی شب کے دوران سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی  جھڑپ کے بعد سکیورٹی اہلکار سری نگر کے ایک علاقے میں تعینات (اے ایف پی)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں بدھ کو دو الگ الگ جگہوں پر ہونے والی مسلح جھڑپوں میں حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو سمیت چار عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

ریاضی کے استاد سے عسکریت پسند بننے والے 33 سالہ ریاض نائیکو کشمیر میں حزب المجاہدین کے سرپرست اور تنظیم کے سابق کمانڈر برہان مظفر وانی کے جانشین تھے۔  انہوں نے 2012 میں شدت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔

برہان وانی آٹھ جولائی 2016 کو ضلع اننت ناگ کے بم ڈورہ ککرناگ نامی گاؤں میں ایک مسلح جھڑپ کے دوران اپنے دو ساتھیوں سمیت مارے گیے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں کم از کم تین ماہ تک کرفیو نافذ رہا جبکہ مظاہروں اور مسلح مزاحمت کی ایک نئی لہر شروع ہوئی تھی جس میں سو سے زائد کشمیری مارے گیے تھے۔

کشمیر میں انتظامیہ نے بدھ کو ریاض نائیکو کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر جاری لاک ڈاؤن کو مزید سخت کرتے ہوئے جنوبی کشمیر اور سری نگر کے بیشتر حصوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ تمام دس اضلاع میں انٹرنیٹ اور فون سروسز منقطع کر دی گئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ریاض نائیکو کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی جنوبی کشمیر اور سری نگر میں کچھ جگہوں پر شہری کرونا وائرس لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا جنہوں نے ردعمل میں آنسو گیس کے گولے داغے اور پیلٹ فائر کیے۔

ریاض نائیکو کو ضلع پلوامہ میں اپنے ہی آبائی گاؤں بیگ پورہ میں ایک اور ساتھی کے ہمراہ ہلاک کیا گیا ہے۔ وہ یہاں مبینہ طور پر اپنے گھر والوں سے ملنے کے لیے آئے تھے۔

کشمیر پولیس کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق ریاض نائیکو جموں وکشمیر میں حزب المجاہدین کے احیائے نو کے ماسٹر مائنڈ ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اور آڈیوز اپ لوڈ کرتے تھے جو پاکستان اور علیحدگی پسندی کے حق میں ہوتے تھے۔ وہ نوجوانوں کو عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل کرنے کے لیے بھی کافی سرگرم تھے۔

ذرائع نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ریاض نائیکو کو ہلاک کرنے کے لیے اس رہائشی مکان کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جس میں وہ موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طرفین کے درمیان جھڑپ کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔

سکیورٹی ایجنسیوں نے ریاض نائیکو کو 'اے پلس پلس' یعنی 'انتہائی مطلوب' عسکریت پسند کے زمرے میں رکھا تھا اور اس کے سر پر 12 لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔ سکیورٹی فورسز نے گذشتہ چار برسوں کے دوران انہیں گھیرنے کی کئی کوششیں کیں لیکن وہ ہر بار بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

بھارتی فوج کے مطابق بیگ پورہ جھڑپ میں حزب المجاہدین کمانڈر ریاض نائیکو سمیت دو عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

کشمیر پولیس کے سابق سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا: 'حزب المجاہدین کمانڈر ریاض نائیکو کی ہلاکت جموں وکشمیر پولیس اور سکیورٹی فورسز کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ وہ کئی پولیس اہلکاروں کے اغوا اور ہلاکت میں ملوث تھا۔'

کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات کے دوران سکیورٹی فورسز نے ضلع پلوامہ کے بیگ پورہ اور کھریو میں خفیہ اطلاعات کی بنا پر تلاشی آپریشنز شروع کیے اور دونوں جگہوں پر طرفین کے درمیان مسلح جھرپیں چھڑ گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی مسلح جھڑپوں میں ایک اعلیٰ کمانڈر سمیت چار عسکریت پسند مارے گیے۔

ضلع پلوامہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ریاض نائیکو کے آبائی گاؤں میں مسلح جھڑپ ختم ہونے کے بعد مقامی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جائے واردات پر پہنچی اور سکیورٹی فورسز پر شدید پتھرائو کیا۔ جوابی کارروائی میں کم از کم ڈیرھ درجن نوجوانوں کے شدید طور پر زخمی ہونے کی اطلاع ہے جنہیں پیلٹ اور گولیاں لگی ہیں۔

ریاض نائیکو کون تھے؟

ریاض نائیکو ضلع پلوامہ کے بیگ پورہ اونتی پورہ کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد اسداللہ نائیکو پیشے سے درزی ہیں اور ان کی والدہ زیبہ گھریلو کام کاج سنبھالتی ہیں۔

نائیکو کے دو بھائی اور ایک بہن ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے پڑوسی گاؤں گلزار پورہ سے حاصل کی تھی اور بعد ازاں ہائر سکینڈری سطح کی تعلیم نور پورہ نامی علاقے سے حاصل کی تھی جہاں انہوں نے 600 میں سے 464 نمبر حاصل کیے تھے۔

اسداللہ نائیکو کے مطابق ریاض نائیکو انجینئر بننا چاہتے تھے لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر انہیں اپنا ارادہ ترک کرنا پڑا۔ پھر گریجویٹ کورس میں داخلہ لیا جہاں سائنس اور ریاضی ان کے مضامین تھے۔ بقول اسداللہ، نائیکو ریاضی پر غیر معمولی دسترس رکھتا تھا۔

نائیکو نے اپنی گریجویشن مکمل کرنے کے بعد نجی سکولوں میں تین سال تک ریاضی کے استاد کی حیثیت سے بچوں کو پڑھایا جس دوران وہ اپنے گاؤں کے بچوں کو اپنے گھر پر مفت پڑھاتے تھے۔

2010 میں مژھل فرضی جھڑپ کے خلاف کشمیر میں پر تشدد مظاہرے بھڑک اٹھے جس دوران سری نگر میں 17 سالہ طفیل احمد متو سمیت درجنوں افراد سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارے گیے۔ مژھل فرضی چھڑپ میں تین عام شہری بھی قتل کیے گیے تھے۔

سکیورٹی فورسز نے درجنوں احتجاجیوں کو گرفتار کیا جن میں ریاض نائیکو بھی شامل تھے۔ انہیں جب 2012 میں جیل سے رہا کیا گیا تو اسی برس جون میں نائیکو نے حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کر لی۔

ریاض نائیکو نے نومبر 2018 میں قطری نشریاتی ادارہ 'الجزیرہ' کو ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے والدین انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے کشمیر سے باہر بھیجنا چاہتے تھے لیکن وہ مزاحمت کی طرف راغب تھے اور جانتے تھے کہ اگر وہ پڑھائی کے لیے کہیں چلے گئے تو گراؤنڈ پر کام نہیں کرپائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا: 'میں نے تین سال تک بچوں کو پڑھایا اور ضلع پلوامہ میں سماجی کاموں میں بھی مصروف رہا۔ میں نے یکم جون 2012 کو حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نائیکو نے الجزیرہ کو بتایا تھا: 'جب سے میں مسلح بغاوت کا حصہ بنا ہوں میری فیملی کو بہت تکلیفیں اٹھانی پڑی ہیں اور اسے مسلسل ہراسانی کا سامنا ہے۔ ہمارے گھر پر کئی بار حملہ ہوا۔ میرے بھائی، چاچاوں اور والد کو کئی بار گرفتار کیا گیا۔'

'بے شک ہم نے مسلح جدوجہد کا راستہ چنا ہے لیکن ہم امن چاہتے ہیں جنگ نہیں۔ بھارت نے ہمیں مزاحمت کا پُرتشدد طریقہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ہماری غلامی 1947 میں شروع ہوئی لیکن اگلے چالیس برسوں تک لوگوں نے بندوقیں نہیں اٹھائیں۔ بعد ازاں مسلسل جبر اور مزاحمت کے پُر امن ذرائع کو کچلنے کے بعد ہی لوگ بندوقیں اٹھانے پر مجبور ہوئے۔'

نائیکو نے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ ’کشمیری عسکریت پسند حق خود ارادیت کے حصول کے لیے اپنی آخری سانس تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ نیز بھارت سے کہا تھا کہ ہم جدوجہد کے دوران مرجائیں گے لیکن سرینڈر نہیں کریں گے۔‘

کشمیر کی بھارت نواز سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاض نائیکو کی تقدیر کا فیصلہ اُسی دن ہوگیا تھا جس دن اس نے بندوق اٹھا کر تشدد اور دہشت کا راستہ اختیار کیا تھا۔

انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا: 'ریاض نائیکو کی تقدیر کا فیصلہ اس دن ہوگیا تھا جس دن اس نے بندوق اٹھانے اور تشدد و دہشت کے راستے پر چلنے کا فیصلہ لیا تھا۔ ان کی ہلاکت لوگوں کو تشدد اور احتجاجوں پر اکسانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ اس سے لوگوں کو مزید نقصان پہنچے گا۔'

اعتدال پسندی

ریاض نائیکو اعتدال پسند سوچ رکھتے تھے۔ انہوں نے 2018 میں جاری اپنے ایک آڈیو بیان میں ہندو امرناتھ یاتریوں کو کشمیر کے مہمان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حزب المجاہدین یاتریوں پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی ہے۔

انہوں نے اسی آڈیو بیان میں مہاجر کشمیری پنڈتوں کو وطن (کشمیر) واپس لوٹنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک پنڈت خاندان کو اپنی ذاتی اراضی پر بسائیں گے ۔

اسی برس اگست میں ریاض نائیکو کی ہدایت پر عکسریت پسندوں نے مبینہ انتقامی کارروائی کے تحت پولیس اہلکاروں کے کئی قریبی رشتہ داروں کو اغوا کیا جنہیں بعد ازاں کوئی نقصان پہنچائے بغیر رہا کیا گیا۔

عسکریت پسندوں کی یہ کارروائی ریاض نائیکو کے معمر والد اسد اللہ نائیکو اور لشکر طیبہ سے وابستہ عسکریت پسند لطیف ٹائیگر کے والد غلام حسن اور دو سگے بھائیوں زبیر احمد اور ندیم احمد کی رہائی کے بعد سامنے آئی تھی۔

ریاض نائیکو نے تب اپنے ایک آڈیو بیان میں کہا تھا کہ پولیس والوں کے رشتہ داروں کو اس لیے اغوا کیا گیا تاکہ یہ پیغام دیا جاسکے کہ عسکریت پسند جب چاہیں تب ان کے گھر والوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کی لڑائی پولیس سے نہیں ہے بلکہ پولیس انہیں لڑنے کے لیے مجبور کررہی ہے۔

بارہ دن میں 30 ہلاکتیں

کشمیر میں ماہ رمضان کے آغاز سے ہی سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف شکنجہ مزید کستے ہوئے ان کے خلاف آپریشنز تیز کر دیے۔ رمضان کے پہلے بارہ دنوں کے دوران شاید ہی کوئی دن ایسا گذرا جس دن مسلح تشدد کی واردات رونما نہ ہوئی ہو۔

کشمیر میں گذشتہ بارہ دن انتہائی خونی ثابت ہوئے جس دوران عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں اور دیگر مسلح تشدد کی وارداتوں میں کم از کم 29 ہلاکتیں ہوئیں جن میں 18 عسکریت پسند، ان کے دو مبینہ ساتھی و حمایتی، تین افسروں سمیت آٹھ سکیورٹی فورسز اہلکار اور ایک 14 سالہ جسمانی طور ناخیز طالب علم بھی شامل ہیں۔

اسی عرصے کے دوران مختلف جگہوں پر ہونے والے پراسرار دھماکوں اور گرینیڈ حملوں میں کم از کم دو درجن افراد بشمول عام شہری و سکیورٹی فورسز اہلکار زخمی ہوئے۔

جہاں وادی کے اندر مسلح جھڑپوں اور دیگر مسلح کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہی ہے وہیں دوسری طرف سرحدوں پر بھی بھارت اور پاکستان کی افواج کے درمیان ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی تواتر کے ساتھ جاری ہے جس کے نتیجے میں حالیہ دنوں کے دوران کئی افراد زخمی ہوئے اور املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

سکیورٹی اداروں نے کرونا وائرس کی آڑ میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی شناخت ظاہر کرنا بند کردیا ہے اور انہیں اپنے آبائی علاقوں سے دور نامعلوم اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کے لیے مخصوص قبرستانوں میں دفنانا شروع کیا ہے۔

شمالی کشمیر کے ہندواڑہ میں چار مئی کو سکیورٹی فورسز پر حملے کے دوران جان بحق ہونے والے 14 سالہ کمسن طالب علم، جو جسمانی طور پر معذور تھے، کو بھی اپنے آبائی مقبرے کے بجائے ضلع بارہمولہ کے شیری علاقے میں ایک قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی مسلح شورش میں پہلی بار ایسا ہوا ہے جب مقامی عسکریت پسندوں کی لاشیں ان کے لواحقین کو سونپنے کے بجائے دوسرے اضلاع میں واقع مخصوص قبرستانوں میں دفنائی جارہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا