عمران خان کے لیے اعظم خان اتنے اہم کیوں ہیں؟

’عمران خان کو ایسے افسر بھی بہت پسند ہیں جو اپنے اوپر کے افسران کو بائی پاس کر کے براہ راست عمران خان کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوں اور یہ خصوصیت بھی اعظم خان میں موجود ہے۔‘

جب 2018 میں پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آئی تو عمران خان نے اعظم خان کو پرنسپل سیکرٹری مقرر کیا اور وہ ابھی تک اسی عہدے پر برقرار ہیں (فیس بک)

 

پاکستان میں حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت کے گریڈ 22 کے ایک سینئیر عہدیدار اور وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری محمد اعظم خان کافی خبروں میں رہنے لگے ہیں۔

اعظم خان کا نام حالیہ دنوں میں میڈیا پر اس لیے بھی حاوی رہا کہ جب چینی بحران کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا نام سامنے آیا تو انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اعظم خان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اعظم خان ان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔

اس کے بعد سابق مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بھی اعظم خان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ان سے کہا تھا کہ ’مشیر اطلاعات کے قلمدان سے استعفی دے دیں ورنہ آپ کو ڈی نوٹیفائی کردیا جائے گا‘۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے سابق چیف سیکرٹری ارباب شہزاد نے بھی اعظم خان پر انگلی اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کو مشیر کے عہدے سے ہٹانے میں ان کا ہاتھ تھا۔

اعظم خان کا نام میڈیا میں پاکستان تحریک انصاف کی وفاق میں حکومت کے قیام سے قبل سے وقت فو قتاً سامنے آتا رہا ہے۔ وزیر اعظم کے دست راست اور پاکستان کے سب سے اہم بیورو کریٹک عہدے پر فائز ہونے سے قبل اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اور سابق قبائلی علاقہ جات کے اسسٹنٹ چیف سیکرٹری رہ چکے ہیں جبکہ پشاور کے کمشنر سمیت اپنی ملازمت کے عرصے میں کئی اضلاع میں مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

اعظم خان 1991 میں سی ایس ایس کے ٹاپ کرنے والے افسر ہیں اور ابتدائی تعلیم ایبٹ آباد کے معروف اور معیاری آرمی برن ہال سکول سے حاصل کی جبکہ قائد اعظم یونیوسٹی اسلام آباد سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔

مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے بعد ان کو ڈسٹرکٹ منیجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی) میں تعینات کیا گیا تھا۔

جب 2018 میں پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آئی تو عمران خان نے اعظم خان کو پرنسپل سیکرٹری مقرر کیا اور وہ ابھی تک اسی عہدے پر برقرار ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اعظم خان کو جب پرنسپل سیکرٹری بنایا گیا تو وہ گریڈ 21 کے ملازم تھے اور کچھ سینیئر بیوروکریٹس کی جانب سے ان پر تنقید بھی کی جاتی رہی لیکن عمران خان کے ساتھ ’قربت کی وجہ‘ سے اعظم خان ہی اس عہدے پر گذشتہ تین سالوں سے فائز ہیں۔ تاہم بعد میں ان کو گریڈ 22 میں ترقی ملی۔

ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے کنڈرگاس گاؤں سے ہے اور وہ مردان کے خان خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ روایتی طور پر ان کے خاندان کا سیاسی جھکاؤ پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف ہے۔

اعظم خان کے ایک بھتیجے طارق سلیم مردان سے مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ بھی لے چکے ہیں۔

ان کی مردان کے ہوتی خاندان سے بھی قریبی رشتہ داری ہے۔ اعظم خان کے گاؤں کے ایک شخص نے بتایا کہ گاؤں میں ان کی دوستوں کی کوئی خاص کمپنی نہیں ہے کیونکہ وہ زیادہ وقت باہر ہی گزارتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے خاندان میں پہلے سے کوئی بیوروکریٹ اتنے اہم عہدے پر فائز نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم اعظم خان کے ایک بھائی بھی سی ایس ایس کر چکے ہیں اور آج کل ایک سرکاری محکمے میں ملازمت کر رہے ہیں۔
اعظم خان عمران خان کے لیے اتنے اہم کیوں ہیں؟
عمومی طور پر اگر دیکھا جائے تو پرنسپل سیکرٹری کا عہدہ ویسے بھی بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ وہ وزیر اعظم کو بیوروکریسی کے امور کے حوالے سے بریف بھی کرتے ہیں۔ تاہم اعظم خان میں چند خوبیاں ایسی ہیں جن کی بنیاد پر عمران خان ان کو پسند کرتے ہیں اور ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔ پاکستان میں رجحان بھی یہی رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے علاوہ باقی وزرا اعظم نے اپنے قریبی اور بااعتماد سرکاری افسران کو صوبوں سے مرکز میں لا کر اپنا پرنسپل سیکرٹری بنایا جیسا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے فواد حسن فواد کو پنجاب سے لا کر اپنا پرنسپل سیکرٹری مقرر کر دیا تھا۔

اعظم خان میں ایسے کیاخصوصیات ہیں جو عمران خان کو پسند بھی ہیں اور وہ اس قسم کے سرکاری افسران پر اعتماد بھی کرتے ہیں، اس میں ایک یہ کہ اعظم خان پیپر ورک پر یقین نہیں رکھتے۔

بہت بااعتماد اور اعظم خان کے قریب رہنے والے ایک شخص نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اعظم خان زبانی احکامات پر یقین کرتے ہیں اور اب بھی اگر کوئی جائے تو ان کے میز پر ڈھیر ساری فائلیں بغیر دستخط کے ملیں گی۔

عمران خان کو ایسے افسر بھی بہت پسند ہیں جو اپنے اوپر کے افسران کو بائی پاس کر کے براہ راست عمران خان کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوں اور یہ خصوصیت بھی اعظم خان میں موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق اعظم خان جس وقت خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری تھے تو سابق وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے ساتھ اسی بات پر طویل عرصے تک یہی تنازعہ چل رہا تھا کہ اعظم خان بعض معاملات میں ان کو بائی پاس کر کے براہ راست عمران خان سے رابطہ کرتے تھے۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی پہلی حکومت کے دور میں عمران خان نے کہا جاتا ہے کہ اعظم خان کی شخصیت کو نوٹ کر لیا تھا۔

اعظم خان کے ایک قریبی دوست نے بتایا،‘ عمران خان نے ہمیشہ اپنے قریبی سمجھے جانے والوں کو ساتھ ملا کر کھیلا ہے۔ کرکٹ میں بھی جس کے ساتھ ان کی قربت ہوتی تھی جیسا انضمام الحق، وقار یونس تو ان کے ساتھ کھیلا ہے اور جس کے ساتھ نہیں بنتی تھی تو ان کو چھوڑ دیا۔ سیاست میں بھی ان کی یہی روایت برقرار ہے اور تب ہی اعظم خان جو ان کے دل کے بہت قریب ہیں ان کو صوبے سے اٹھا کر اسلام آباد میں اپنا پرنسپل سیکرٹری بنا دیا۔

اعظم خان کے کام کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے سینیئر افسران ان کے تعریف کرتے ہیں تاہم وہ اس بات سےاتفاق کرتے ہیں کہ اعظم پیپر ورک نہٰں بلکہ زبانی احکامات دیتے تھے۔ خیبر پختونخوا کے گریڈ 20 کے عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے اعظم خان کے ساتھ کام کیا ہے اور ہمیشہ ان کو کام کرنے والا پایا ہے اور ان میں ایک خوبی یہ ہے کہ وہ سینیئر اور جونیئر کو نہیں دیکھتے بلکہ کام کو دیکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اعظم خان سیدھے منہ پر بات کرتے ہیں چاہے کتنی بڑی سطح کا اجلاس کیوں نہ ہو جس میں عمران خان ہی کیوں نہ بیٹھے ہوں۔ جو ان کو صحیح لگتا ہے اور بول دیتے ہیں۔‘

اسی حوالے سے اعظم خا ن کے ایک دوست نے بتایا کہ اعظم خان کے پاس ہر وقت کسی بھی سوال کا جواب ہوتا ہے چاہے غلط ہو یا صحیح لیکن وہ جواب ضرور دیتے ہیں۔

اعظم خان کے قائد اعظم یونیورسٹی کے وقت کے ایک کلاس فیلو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس وقت اور ابھی کے اعظم خان میں اتنا فرق نہیں ہے اور نہ ان میں اتنی تبدیلی آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اعظم خان میں ایک اچھی خوبی یہ ہے کہ وہ غرور نہیں کرتے تاہم ان کی ایک عادت ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہر چیز پر حاوی کرنا چاہتے ہیں اور یہی عادت ان کی اب بھی ہے اور اب بھی ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے ایجنڈے کو آگے کریں اور بیک بینچرز کی طرح پیچھے نہیں رہتے۔

اگرنواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد اور اعظم خان کا موازنہ کیا جائے تو فواد بنیادی طور پر ایک منظم، ریکارڈ کو محفوظ رکھنے والے افسر تھے اور یہی جہ تھی کہ ان کی گرفتاری وفاق میں سروس کے دوران ہونے والے کسی بےاصولی پر نہیں لیکن جب وہ پنجاب میں تھے تو وہاں کے ایک مسئلے پر ہوئی تھی۔

فواد حسن فواد کے مقابلے میں اعظم خان زبانی احکامات دینے والی شخصیت ہیں اور یہ ایک آفیسر کے لیے بہت خوشی کی بات ہوتی ہے جب ان کو پتہ ہوتا ہے کہ ان کے باس ان سے ہمشیہ زبانی طور پر ہی کہتے ہیں اور کبھی بھی ریکارڈ دکھانے کی بات نہیں کرتے۔

اعظم خان الزامات کیوں لگائے جاتے ہیں؟
جب سے پی ٹی آئی مرکز میں اقتدار میں آئی ہے تب سے ہی اعظم خان کو کسی نہ کسی مسئلے میں آگے کر دیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اعظم خان کا تعلق پشتون علاقے سے تو نوکر شاہی میں دیگر زبانیں بولنے والے نہیں چاہتے کہ کوئی پشتون آفیسر اتنے بڑے عہدے پر براجمان ہو تاہم اسلام آباد کی سیاست پر گہری نظریں رکھنے والے اس بات سے متفق نہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان کی یہ عادت کہ زبانی احکامات دیتے ہیں، بعض اوقات افسران کے لیے مسئلے کھڑے کر دیتی ہے۔ جہانگیر ترین کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ انہوں نے اعظم خان پر الزام لگایا لیکن عمران خان نے کسی بھی فورم پر یہ قبول نہیں کیا کہ اعظم خان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہے اور یہ سارے احکامات انہوں نے خود دیے تھے۔

مستند ذرائع کے مطابق اعظم خان بہت ہی متنازعہ شخصیت بن چکے ہیں کیونکہ ان پر لگائے گئے الزامات کی کسی حکومتی عہدیدار نے تردید نہیں کی ہے اور وہ اس سارے معاملے میں استعمال ہو رہے ہیں اور ان کا معاملہ بالواسطہ سیاست دانوں کے خلاف جاتا ہے۔ ان الزامات پر اعظم خان نے بھی ابھی تک کچھ نہیں کہا تاہم اعظم خان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے قریبی زرائع نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ اعظم خان کچھ بھی عمران خان کے حکم کے بغیر نہیں کرتے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کہہ چکے ہیں کہ ناراض لوگوں کے اعظم مخالف بیانات کچھ معنی نہیں رکھتے کیونکہ انہیں عمران خان کا بھرپور اعتماد حاصل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں نہیں سمجھتا اعظم خان عمران خان کی مرضی کے بغیر کچھ کرتے ہوں۔‘ لیکن ناراض افراد کو آخر کسی ایک کو تو نشانہ بنا کر اپنی بھڑاس نکالنے ہوتی ہے تو عمران خان کی بابت یہ تنقید اعظم خان کو سہنی پڑت ہے۔

خیبرپختونخوا میں سیاحت کے محکمے سے لے کر محمد اعظم خان انتہائی حساس وقت میں جنوبی وزیرستان کے منتظم اعلی یا پولیٹکل ایجنٹ بھی رہے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب 2002 کے بعد شدت پسندی نے پاکستان کے اس وقت کے قبائلی علاقوں کا رخ کیا تھا۔

جون 2002 میں شدت پسندوں نے وانا کے قریب اعظم ورسک کے علاقے میں پاکستان فوج پر پہلا بڑا حملہ کرکے 10 فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ جس کے بعد ریاست نے مقامی قبائل پر غیرملکی جنگجو ان کے حوالے یا انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے کئی سخت اقدامات کیے جن میں وانا کو ایندھن کی فراہمی معطل کرنے جیسے اقدامات شامل تھے۔

اس وقت اس خطرناک خطے میں شروع ہونے والی لڑائی کی کوریج کرنے والے صحافی اعظم خان کے تعاون کو آج بھی یاد کرتے ہیں۔ وہ ناصرف ان کو قبائلی علاقے میں آنے کی اجازت دینے میں فراخ دلی دکھاتے تھے بلکہ ان سے مل کر انہیں حالات سے مناسب طریقے سے آگاہ بھی کرتے تھے۔

عمران خان انتظامی امور کے بارے میں چونکہ اعظم خان سے اکثر مشورے کرتے ہیں اور وہ ان کے ساتھ اکثر ہر اجلاس میں موجود بھی ہوتے ہیں لہذا ان کے مخالفین کو یہ بات ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ جب تک اعظم خان کو عمران خان کا اعتماد حاصل ہے ان پر تنقید آگے چل کر بھی ہوتی رہے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست