آرٹسٹ بینکسی کا نیا فن پارہ: نرس ایک سپر ہیرو

’ گیم چینجر‘ نامی اس فن پارے کا مقصد کرونا وائرس کی وبا کے دوران محنت سے کام کرنے والے طبی عملے کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

بینکسی کے اس فن پارے کو 'گیم چینجر' کا نام دیا گیا ہے۔ (اے ایف پی فوٹو/ یونیورسٹی ہاسپیٹل ساؤتھ ہیمپٹن/سٹورٹ مارٹن)

برطانوی سٹریٹ آرٹسٹ بینکسی نے ساؤتھ ہیمپٹن کے جنرل ہسپتال میں اپنے نئے فن پارے کی نقاب کشائی کی ہے جس میں ایک نرس کو سپر ہیرو دکھایا گیا ہے۔

اس فن پارے کو 'گیم چینجر' کا نام دیا گیا ہے اور اسے ہسپتال کی عمارت کے لیول سی میں دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ فن پارہ بنانے کا مقصد کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے دوران محنت سے کام کرنے والے عملے کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

فن پارے کی نقاب کشائی کے بعد پراسرار سٹریٹ آرٹسٹ بینکسی نے ہسپتال کے کارکنوں کے لیے ایک تحریر چھوڑی ہے جس میں لکھا ہے: 'اگرچہ یہ بلیک اینڈ وائیٹ ہے لیکن مجھے امید ہے کہ اس سے یہ جگہ قدرے روشن ہو جائے گی۔'

تصویر کی خاص بات یہ کہ اس میں ایک لڑکا دکھائی دیتا ہے جو کھلونا نما سپر ہیرو نرس سے کھیل رہا ہے جب کہ مشہور ہیروز بیٹ مین اور سپائیڈرمین کے لباس کوڑے دان میں پڑے  ہیں۔

اس نرس نے ٹوپی پہن رکھی ہے۔ اس کے چہرے پر نقاب ہے اوراس کے ایپرن پر سرخ رنگ کی صلیب بنی ہوئی ہے۔ نرس نے ایک بازو اٹھا بھی رکھا ہے گویا کہ وہ پرواز کر رہی ہو۔

لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم ہونے کے بعد ہر کوئی اسے دیکھ سکے گا۔

بینکسی کی ترجمان نے یہ تصدیق بھی کی ہے کہ یہ فن پارہ بالآخر نیلام کر دیا جائے تا کہ این ایچ ایس (نیشنل ہیلتھ سروسز) کے فلاحی اداروں کے لیے رقم اکٹھی کی جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یونیورسٹی ہسپتال ساؤتھ ہیمپٹن این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کی چیف ایگزیکٹو افسر پاؤلاہیڈ نے کہا:  'یہاں ساؤتھ ہیمپٹن کے ہسپتال میں ہمارا خاندان براہ راست متاثرہوا ہے اور اُسے قابل احترام عملے کے ارکان اور دوستوں سے محرومی کا صدمہ اٹھانا پڑا ہے۔

'این ایچ ایس میں اور اس کے ساتھ ہر کوئی اپنے حصے کا کام ان حالات میں شاندار انداز میں کر رہا ہے جن کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ حقیقت ہے کہ بینکسی نے خدمات کے اعتراف کے لیے ہمارا انتخاب کیا جو بڑے اعزاز کی بات ہے۔

'جونہی لوگوں کو اپنی مصروف زندگی میں چھوٹا سا وقفہ کرنے، سوچنے اور اس طرح کے فن پارے کو سراہنے کا موقع ملے گا ہسپتال میں ہر کوئی واقعی اس طرح کے فن پارے کی قدر کرے گا۔ ہر وہ فرد جو ہمارے ہسپتال میں میں کام کرتا ہے یا جس کا خیال رکھا جاتا ہے اس سے بلاشبہ اس کی بےحد حوصلہ افزائی ہو گی۔'

اس سے پہلے ہسپتال نے عملے کے ارکان 61 سالہ مائیک براؤن اور 38 سالہ کیٹی ڈیوس کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد دونوں چل بسے تھے۔

براؤن، لِینن پورٹر (بستر کی چادروں اور کمروں کی صفائی کے ذمہ دار) 20 برس سے ادارے سے وابستہ تھے۔ ہسپتال کےانتہائی نگہداشت کے یونٹ میں علاج کے بعد وہ 29 اپریل کو ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔

انہیں ہسپتال کے عملے کا جانا پہنچانا اور مقبول رکن بیان کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے رہتے تھے۔

ڈیوس بچوں کے شعبے میں کام کرتی تھیں۔ ہسپتال میں داخل ہونے سے کچھ عرصہ پہلے  ان کی طبیعت خراب تھی۔ وہ کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد 21 اپریل کو چل بسیں تھیں۔

ڈیوس ایسی نرس مانی جاتی تھیں 'کہ لوگ اُن جیسا ہونا پسند کریں گے۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ