تین دوائیں ملا کر دیں تو مریض جلدی ٹھیک ہو جاتے ہیں: تحقیق

محققین نے نازک حالت والے مریضوں پر بڑے پیمانے پر تحقیق پر زور دیا تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ ملا کر دی جانے والی ادویات ان کے لیے بھی ایک قابل اعتماد علاج ہوسکتا ہے یا نہیں۔

تحقیق کے دوران مریضوں کا اس طریقے سے علاج محفوظ دکھائی دیا ہے (اے ایف پی)

ہانگ کانگ میں محققین کو پتہ چلا ہے کہ اگر کرونا  وائرس کے کم بیمار مریضوں میں علامات ظاہر ہونے کے فوری بعد انہیں تین اینٹی وائرل ادویات ملا کر دی جائیں تو وہ زیادہ تیزی سے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

لانسِٹ نامی طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج کو اس کے لکھنے والوں نے ’جلدی لیکن اہم‘ کا نام  دیا ہے۔

محققین نے نازک حالت والے مریضوں پر بڑے پیمانے پر تحقیق پر زور دیا تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ ملا کر دی جانے والی ادویات ان کے لیے بھی ایک قابل اعتماد علاج ہوسکتا ہے یا نہیں۔

خبر رساں ادارے ے ایف پی کہ مطابق محققین کی ٹیم کی قیادت کرنے والے یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے پروفیسر کووک یُنگ یویئن نے کہا: ’ہم نے جو تجربہ کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ کووِڈ 19 کے مرض کی ہلکے سے درمیانے درجے کی علامات کے تین ادویات کے کاک ٹیل کے ساتھ علاج سے مریض کے جسم میں وائرس کی تعداد پر تیزی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کا اس طریقے سے علاج محفوظ دکھائی دیا ہے اور اس سے مرض کی علامات میں کمی آئی ہے۔

’اس سے مریض جسم میں وائرس کی موجودگی کی مدت میں کمی ہوگی اور اس کے جسم سے اخراج کا خطرہ کم ہو گا جس سے صحت کے کارکنوں کو لاحق خطرے میں بھی کمی آئے گی۔‘

سائنس دان کرونا وائرس کی وجہ سے پھیلنے والے مرض کے لیے ادویات علاج تلاش کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں تاہم ابھی اس کا کوئی علاج یا ویکسین دریافت نہیں کی جا سکی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نئی تحقیق اُن 127 مریضوں پر کی گئی جو کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد چھ ہسپتالوں میں داخل کیے گئے تھے۔

ان مریضوں میں 86 کو دو ہفتے تک تین ادویات کا کورس کروایا گیا۔  ان ادویات میں انٹر فیرون بِیٹا ون بی جو جگر کے علاج کے  لیے دی جاتی ہے، ایچ آئی وی کی ادویات لوپینا ور۔ ریٹوناور اور ریباورین دی گئی جو ہیپاٹائیٹس کے علاج کے لیے دی جاتی ہے، شامل تھیں۔

اکتالیس مریضوں کے ایک گروپ کو صرف  لوپیناور۔ ریٹوناور ملا کر دی گئیں۔

یہ ادویات کرونا وائرس کی انفکیشن کی علامات ظاہر کے اوسطاً پانچ دن بعد دی گئیں۔ اس کے علاوہ مریضوں کا معیار کے مطابق علاج کیا گیا جن میں آکسیجن لگانا شامل ہے۔

اس کے بعد محققین نے اس دورانیے کی پیمائش  کی جس میں مریضوں کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا۔

محققین کے علم میں آیا کہ وہ مریض جنہیں تینوں ادویات دی گئیں ان کے جسم میں وائرس پانچ سے 11 دن کی اوسط کے ساتھ  سات دن میں ختم ہو گیا۔

دوسرے گروپ کے مقابلے میں وائرس کا کم وقت میں خاتمہ اہم ہے۔ مریضوں کے دوسرے گروپ میں وائرس 12 دن میں ختم ہوا۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جن مریضوں کو تین ادویات ملا کر دی گئیں ان میں مرض کی علامات اوسطاً چار دن میں کم ہو گئیں جب کہ دوسرے مریضوں میں یہ علامات کم ہونے میں آٹھ دن لگے۔

یہ تحقیق 10 فروری اور 20 مارچ کے دوران ہانگ کانگ میں کی گئی جہاں کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے پر ہر شخص کو ہسپتال داخل کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق