کرونا اور عید: ’دکان میں ایسے داخل ہوئی جیسے چوری کرنی ہو‘

پشاور میں کپڑوں وغیرہ کی دکانوں کے مالک پابندی کے باوجود دکانوں کے شٹر بند کر کے گاہکوں کو ڈیل کر رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود گارمنٹس کی دکانیں کھولنے پر تاحال پابندی ہے (اے ایف پی)

’دکان کے پچھلے دروازے سے ایسے اندر داخل ہوئی جیسے کوئی چوری کے لیے داخل ہوتا ہے۔ شاپنگ کرنے کے دوران دکان دار بار بار یہی آواز لگاتا رہا کہ جلدی سے خریداری کریں، جیسے چوری کرتے وقت ایک چور اپنے ساتھی کو کہتا ہے ’جلدی کرو‘۔‘

یہ کہنا تھا پشاور کی رہائشی کلثوم بی بی کا، جو پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر واقع کپڑوں کی ایک بند دکان میں شاپنگ کر رہی تھیں۔

خیبر پختونخوا میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے پشاور میں کپڑوں وغیرہ کی دکانوں کے مالکان دکانوں کے فرنٹ شٹر گرا کر گاہکوں کو ڈیل کر رہے ہیں۔ کلثوم بھی عید کی شاپنگ کے لیے ایسی ہی ایک دکان میں گئیں تاکہ اپنے اور بچوں کے لیے کپڑے خرید سکیں۔

انھوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ جس دکان میں گئی تھیں اس کا پچھلی طرف سے بھی ایک دروازہ تھا۔ ’دکان دار نے سڑک کی طرف مرکزی شٹربند کیا ہوا تھا کیونکہ قانونی طور کپڑوں کی دکان کھولنے پر پابندی ہے لیکن پچھلا دروازہ کھلا تھا اور زیادہ تر خواتین اسی دروازے سے اندر جا رہی تھیں۔‘

کلثوم بی بی نے مزید بتایا کہ جب وہ دکان کے اندر گئیں تو درجنوں خواتین پہلے سے شاپنگ میں مصروف تھیں لیکن دکان دار ہر چند لمحوں بعد ایک چکر لگا کر  آواز لگاتا ’جلدی کریں، جلدی کریں، کام ختم کریں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق 'زندگی میں پہلی بار عید کے لیے اس طرح سے شاپنگ کی ہے، اس سے پہلے یاد نہیں کہ کبھی ایسا ہوا ہو۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس سال کرونا وبا کی وجہ سے عید کی شاپنگ میں وہ مزہ نہیں جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ ’دکان کے اندر ہر کوئی ایک دوسرے کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہا تھا کیونکہ ہر کوئی ڈر رہا تھا کہ ایسا نہ ہوں ساتھ والے بندے کو کرونا ہو۔‘

کرونا وبا کی وجہ سے پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ہرصنعت کو نقصان پہنچا ہے۔ عید کا تہوار کپڑوں اور جوتوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا، وہ اس تہوار کا سال بھر انتظار کرتے ہیں۔

تاہم اس سال لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور مجبوراً دکان دار فرنٹ شٹر بند کر کے اندر گاہکوں کو ڈیل کر رہے ہیں۔

پشاور کے ایک دکان دار نے بتایا کہ ان کی دکان کا فرنٹ شٹرتقریباً 10 دن سے بند ہے لیکن پچھلے دروازے سے گاہک آتے ہیں کیونکہ وہ مزید نقصان برداشت نہیں کر سکتے۔

’میں نے تقریباً 40 دن دکان مکمل طور پر بند رکھی لیکن اگر میں مزید بند کرتا تو شاید مجھے دکان ختم کرنا پڑتی۔ ابھی بھی بند شٹر کی وجہ اتنے گاہک نہیں آتے جتنے پہلے ہوتے تھے لیکن کم از کم گزارا چل رہا ہے۔‘

عید شاپنگ اتنی ضروری کیوں کہ چھپ کر کی جائے؟

اس سوال کے جواب میں پشاور کی سحرش خان نے کہا کہ کوئی بھی اس بات پر تیار نہیں کہ عید پر پرانے کپڑے اور جوتے پہنے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں بچوں کا بھی بڑا کردار ہے، وہ زیادہ اصرار کرتے ہیں کہ عید کی شاپنگ کی جائے اور والدین یہ کیسے برادشت کریں کہ ان کے بچے نئے کپڑوں اور جوتوں کے بغیرعید گزاریں۔

’جان ہے تو جہاں ہے۔ کوئی بھی شخص زندگی داؤ پر لگا کر کرونا وبا کے دنوں میں کسی پرہجوم جگہ پر جائے تو یہ زیادتی ہے۔ تاہم شاپنگ سینٹرز کے اندر اگر حکومت باقاعدہ طور پر کرونا سے بچاؤ کے حوالے سے احتیاطی تدابیر وضع کرے تو شاید اس وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔‘

خیبر پختونخوا میں کپڑوں سے وابستہ کاروبار اور درزی کے دکانیں بھی بند ہیں تاہم وہ بھی بند شٹر کے اندر اپنا کام چلا رہے ہیں جبکہ بعض نے پورا سیٹ اپ گھر میں منتقل کر رکھا ہے اور وہاں پر گاہکوں کو ڈیل کر رہے ہیں۔

ایک درزی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو انہوں نے پورا سیٹ اپ گھر منتقل کر دیا تھا۔ ’عید ہماری کمائی کے دن ہوتے ہیں اور اگر اس میں ہم اپنا کام بند کر دیتے تو ہم کیا کھاتے۔ یہی تو ہماری روزی روٹی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان