کرونا وائرس سے ایک انٹرویو

کرونا وائرس سے ایک انٹرویو کی کہانی، یہ انٹرویو ہماری زندگی کا تلخ ترین تجربہ ثابت ہوا۔

کرونا نے قہقہہ لگایا اور کہا: ’دیکھو میاں، تمہیں اپنی ہی تاریخ معلوم نہیں ہے۔ تم نے کبھی بھی کسی بھی وبا کے خلاف جنگ نہیں جیتی ہے۔

ہم انٹرویو لینے کے لیے کہاں جائیں، اسی سوچ میں گم تھے کہ ہر گلی، ہر کوچے سے کرونا (کورونا) کا شور سنائی دینے لگا۔ سو زیادہ دور جانے کی بجائے قریبی محلے میں ہی ایک گھر میں ملاقات کے لیے چلے گئے۔

میڈیا کے ساتھیوں نے کرونا سے اِس قدر ڈرایا ہوا ہے کہ ہم تو کیا، ہمارے کیمرے اور مائیک بھی پلاسٹک میں لپٹے ہوئے تھے۔ داخل ہوتے ہی عادتاً سلام عرض کرتے کرتے رُک گئے۔ ارے بھائی، اگر کرونا سلامت رہے تو ہم لوگ کہاں جائیں۔ دُور سے ہاتھ کا اشارہ دے کر ہم بیٹھ گئے۔

کروناجی پورے رعب کے ساتھ صوفے پر براجمان تھے۔ ہم سے پوچھا: ’کچھ لیں گے؟‘

گھبراہٹ کے مارے ہمارے منہ سے نکلا: ’سوالات کے جوابات کے فوراً بعد اجازت لیں گے۔‘

کرونا جی مسکرائے: ’آپ جانتے ہیں، ہم کسی سے ملتے نہیں ہیں۔ عاجزی کے ساتھ رہتے ہیں۔ آپ کے بھرپور اصرار پر آپ کو بلوا لیا ہے، ورنہ ہمیں اِس قسم کی پبلسٹی پسند نہیں ہے۔ پہلے ہی آپ کا ایک دوست ہمارے انٹرویو کی آڑ میں اپنی ذاتی عناد اور فرقہ وارانہ گند پھیلا چکا ہے۔ امید ہے آپ ایسی حرکت نہیں کریں گے۔‘

’ہم زیادہ وقت نہیں لیں گے، بس مختصر چند سوالات کے جوابات مِل جائیں تو ہماری تھوڑی واہ واہی ہو جائے گی،‘  ہم نے عرض کی۔

پہلا سوال کیا: ’آپ کا مقصد کیا ہے؟‘

’ہمارا مقصد عین وہی ہے، جو کسی بھی صاحبِ شعور کا ہونا چاہیے۔ ہم زندگی چاہتے ہیں۔ اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کی۔‘ کرونا نے تپاک کے ساتھ جواب دیا۔

’مگر آپ کی زندگی کا مطلب تو انسانوں کی موت ہے۔ آپ انسانوں کا قتل چاہتے ہیں؟ کیا کسی قوم کو قتل کر کے اپنی نسل کو دوام بخشنا شعور کی علامت ہے؟‘ ہم نے قدرے پریشانی سے پوچھا۔

کرونا جی نے ٹانگ پر ٹانگ ٹکائی، ایک ساعت کھڑکی سے باہر کا جائزہ لیا، ہماری طرف دیکھے بغیر گویا ہوئے، ’آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ انسان میری وجہ سے نہیں مر رہے ہیں۔ یہ محض آپ کے میڈیا کا پراپیگنڈا ہے۔ کوئی ایک انسان بھی کرونا کی وجہ سے نہیں مرا ہے۔ یہ تمام کی تمام اموات جو آپ متواتر گِن رہے ہیں، یہ لاپروائی اور بیوقوفی کی بنا پر ہوئی ہیں۔ آپ خود بتایئے، اگر دودھ کا برتن کھُلا چھوڑا جائے اور بلّی اُس برتن میں منہ مار دے، تو دودھ کے ضائع ہونے کی ذمہ داری بلّی پر عائد ہو گی یا بے احتیاطی کرنے والے فرد پر؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’مگر بلی اگر نہ ہوتی تو دودھ ضائع ہونے سے بچ جاتا۔ بلی کو اس الزام سے مکمل بری کرنا انصاف تو نہیں ہے،‘ ہم نے دلیل ردّ کرنے کی کوشش کی۔

کرونا جی نے جواب دیا، ’آپ کی بات جس قدر خوبصورت ہے، اُسی قدر غلط بھی ہے۔ آپ دراصل بحیثیت قوم اِس المیے کا شکار ہیں۔ آپ آدم زاد ہمیشہ سے اپنی غلطی کا الزام کسی دوسرے پر ڈالتے آئے ہیں۔ جنت سے نکالے گئے، تو ابلیس کا قصور۔ کشمیر ہاتھ سے گیا، ہندو کا قصور۔ بنگلہ دیش بن گیا، بھارت کا قصور۔ طالبان آ گئے، مارشل لا کا قصور۔ ہتھیار ڈالے، سیاست دان کا قصور۔ امریکہ ہر بات میں کہتا ہے چائنا کا قصور اور چائنہ کہتا ہے امریکہ کا قصور۔ جب تک آدمیت اپنی غلطیوں کا بوجھ خود اُٹھانے کے قابل نہیں ہوگی، کسی مصیبت سے کیسے لڑے گی؟‘

ہم سے رہا نہ گیا، آواز میں جھنجھلاہٹ پیدا ہو گئی اور اعتراض باندھا: ’دیکھیے میاں کرونا، ہم ہر جنگ جیتے ہیں۔ آپ کوئی پہلی وبا نہیں ہیں جس سے ہمارا پالا پڑا ہے۔ ہم انسان ہمیشہ سرخ رو ہوئے ہیں اور اِس مرتبہ بھی ہم سرخ رو ہوں گے اور آپ کو بھی ہرا دیں گے۔‘

کرونا نے قہقہہ لگایا اور کہا: ’دیکھو میاں، تمہیں اپنی ہی تاریخ معلوم نہیں ہے۔ تم نے کبھی بھی کسی بھی وبا کے خلاف جنگ نہیں جیتی ہے۔ بلکہ جب تک جنگ سمجھ کر اس سے لڑتے رہے، مار کھاتے رہے۔ اپنی پسماندگی پر تکیہ کرتے ہو۔ دیکھو تو سہی، تم ڈاکٹروں کو بھی عزت دینے کے لیے محض سپاہی پکار پاتے ہو۔ مجھے وبا کہتے ہو کیونکہ تمہیں لگتا ہے انسان میری وجہ سے مر رہے ہیں۔ بھلا کبھی یہ گنتی کی ہے کہ جنگ کی وجہ سے کتنی اموات ہوئی ہیں؟ اور انسانوں کی وجہ سے جو باقی زندگی تباہ ہو رہی ہے، اُس کے بارے میں کیا خیال ہے؟

’اگر وبا اُسے کہتے ہیں کہ جس کی وجہ سے کسی قسم کی زندگی کا نقصان ہو، تو میاں دنیا کی سب سے بڑی وبا تو تم آدم زاد ہو۔ مجھے تم لوگوں میں جینا پسند ہے ہی نہیں۔ میں تو تمہاری اجتماعی روح کو جگانے آیا ہوں۔ جس دن یہ روح جاگ گئی، میں لوٹ جاؤں گا۔ مجھے نہ تو تمہاری دنیا میں کوئی دلچسپی ہے، اور نہ ہی تمہاری زندگی اور موت میں۔ مجھے اپنی ہمیشہ کی زندگی میں دلچسپی ہے۔‘

’میں چاہتا ہوں کہ تاریخ میں زندہ رہوں اور تمہاری آئندہ نسلیں میرا شکریہ ادا کریں کہ میری وجہ سے تم لوگ ہوش میں آئے اور زمین کو آئندہ نسلوں کے رہنے کے قابل چھوڑ کر گئے۔ میاں، جب تک مجھے جنگ میں اپنا مقابل سمجھ کر لڑتے رہو گے، مرتے رہو گے۔ جنگ جیتنے کے جنون کو چھوڑ کر علم و فطرت کی طرف دھیان دو۔‘

’میری وجہ سے تمہیں پتہ چلا ہے کہ آسمان کا اصل رنگ کیا ہوتا ہے۔ میری وجہ سے تمہارے شہروں کا موسم بہتر ہو رہا ہے، میری وجہ سے تمہیں اس دھویں، گرد و غبار، آلودگی اور شور سے نجات ملی ہے جسے تم نے اپنے ساتھی انسانوں پر مسلط کر رکھا تھا۔‘

’میں نے چینلوں پر سیٹلائٹ تصویریں دیکھی ہیں جن میں پتہ چلتا ہے کہ تمہارے ملک، جنگل، سمندر اور جھیلیں کتنی صاف ستھری ہو گئی ہیں۔‘

’اور تمہارے برعکس میری وجہ سے تمام حیات کا فائدہ ہوا ہے جن کا وجود تم انسان دنیا سے مٹانے پر تلے ہوئے تھے۔ تم نے وہ تصویریں نہیں دیکھیں کہ بےچارے جنگلی جانوروں کو پہلی بار سکھ کا سانس لینے کا موقع ملا ہے اور وہ بےچارے آزادی سے ادھر ادھر گھومنے کے قابل ہوئے ہیں، ورنہ تم نے تو ان کے لیے زمین تنگ کر دی تھی۔‘

کرونا نے سامنے پڑے ہوئے پانی کے گلاس سے ایک گھونٹ بھرا اور دوبارہ رواں ہو گئے۔

’یہی نہیں، میں نے تمہیں احساس دلایا ہے کہ تمام دنیا ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور کوئی ملک کوئی قوم اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کھڑی کر کے ترقی کرنے کا نہیں سوچ سکتی۔ میں نے تمہیں موقع دیا ہے کہ مل کر ایک صفحے پر نہیں بلکہ ایک سطر پر آ جاؤ اور اجتماعی مسائل کا اجتماعی حل ڈھونڈو۔‘

’مگر جو خبریں میں ٹی وی پر دیکھتا ہوں، اس سے تو لگتا ہے کہ تم نے کچھ زیادہ سبق نہیں سیکھا، اس لیے میں نے اپنا قیام تھوڑا اور طویل کر دیا ہے۔ دیکھتے ہیں کون جیتتا ہے، کون ہارتا ہے۔‘    

یہ باتیں سننے کے بعد ہم سے شرمندگی کے مارے اجازت بھی طلب نہ ہو پائی اور اپنا ماتھے سے پسینہ پونچھتے اپنا سا منہ لے کر وہاں سے چلے آئے۔ گھر پہنچ کر 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھوتے رہے اور سوچتے رہے، سوچتے رہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ