کرونا ریلیف پیکج سے سود کی ادائیگی خطرناک قدم ہے: ماہر معیشت

نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی شیری رحمان نے اپنے پریس ریلیز میں کہا کہ حکومت کے پاس نہ کوئی پالیسی ہے نہ کوئی وژن۔  کیا ملک سے کرونا ختم ہو گیا ہے؟ کیا آپ کو کرونا سے لڑنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کرنے؟

(اے ایف پی)

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاور پلانٹس کے قرضوں کی ادائیگی کی مدت میں توسیع اور کرونا ریلیف پیکج سے توانائی کے شعبے میں سود کی ادائیگیوں کے لیے تقریباً 10 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے وفاقی حکومت کے کرونا ریلیف پیکج سے سود کی ادائیگی کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کرونا ریلیف پیکج سے قرضوں کے سود کی ادائیگی انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام ہوگا۔

شیری رحمان نے کہا کہ حکومت کے پاس نہ کوئی پالیسی ہے نہ کوئی وژن۔  کیا ملک سے کرونا ختم ہو گیا ہے؟ کیا آپ کو کرونا سے لڑنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کرنے؟ کیا آپ کو ابھی کرونا ریلیف پیکج کی ضرورت نہیں؟

شیری رحمان نے کہا کہ کرونا ریلیف پیکج سے اربوں روپے سود کی ادائیگی کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

کرونا ریلیف پیکج کسی فرد یا جماعت کا نہیں، کرونا ریلیف پیکج سے صوبوں کی مالی مدد کرنے کے بجائے سود ادا کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا کرونا ریلیف پیکج کی منتقلی متعلق صوبوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے؟

اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس میں غیر ملکی تجارتی قرضوں کی ری شیڈولنگ کے خلاف بھی فیصلہ کیا گیا، کیونکہ انہوں نے جی-20 ممبران کے ساتھ تقریبا 2.04 ارب ڈالر کی امداد سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ای سی سی نے صلاحیتی چارجز کو کم کرنے کے لیے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) اور جنریشن کمپنیوں سے مذاکرات کے حوالے سے شرائط کی بھی منظوری دے دی۔

ای سی سی نے پاکستان انرجی سکوک۔ 2 کو چھ ماہ کی مدت کے لیے سود کی ادائیگی میں خلا روکنے کے انتظام کے تحت پیکج سے 10 ارب روپے مختص کرنے کی اجازت بھی دی۔

اس میں نیشنل الیکٹرک اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم کی تجویز بھی پیش کی گئی جس کی سفارش کرنے والی کمیٹی کے سربراہ مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور سادگی ڈاکٹر عشرت حسین تھے۔

ماہرمعاشیات ڈاکٹر پرویز طاہر نے بھی کرونا ریلیف فنڈز کے ذریعے توانائی سے متعلق قرضوں کے سود کی ادائیگی کو خطرناک قراردیا جب کہ وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے اس بارے کوئی موقف نہیں دیا۔

کرونا ریلیف پیکج کے استعمال کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

وفاقی کابینہ کی منظوری کے تحت ای سی سی نے اقتصادی امور ڈویژن کو جی -20 گروپ کے قرض سے ریلیف کے لیے ایک یادداشت پر دستخط کرنے کی اجازت دی۔اس اقدام کے تحت پاکستان کو جی -20 کے قرض سے نجات کے اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پیرس کلب کے قرض دہندگان سمیت تمام سرکاری دو طرفہ قرض دہندگان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سابق چیف اکنامسٹ سربراہ پلاننگ کمیشن پاکستان ڈاکٹر پرویز طاہر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا حکومت کی جانب سے کرونا ریلیف پیکجز کا قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال حیران کن ہے۔ اس صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ معیشت کس حد تک بدحالی کا شکار ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا پوری دنیا کرونا وائرس سے انسانوں  کو بچانے کے اقدامات کر رہی ہے لیکن پاکستان میں کرونا ریلیف پیکجز میں جمع رقم بجلی کے قرضوں میں لگانا عقل مندی نہیں۔کیونکہ لوگوں نے تو یہ فنڈز کرونا سے بچاؤ اور مریضوں پر خرچ کرنے کے لئے جمع کرائے۔

انہوں نے کہا کہ ان قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر بھی کی جاسکتی تھی مگر اس وقت صرف انسانوں کو بچانے میں وسائل استعمال ہونے چاہییں۔انہوں نے کہا کہ معیشت کے اشاریے بھی منفی میں جاچکے ہیں جب کہ اس قسم کے اقدام سے مزید بحرانی کیفیت جنم لے سکتی ہے۔ کرونا ریلیف پیکجز کا اس طرح استعمال خطرناک ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس بالکل فسکل سپیس ختم ہوچکی ہے۔

واضع رہے ان فیصلوں سے متعلق حکومتی موقف جاننے کے لیے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب اور وفاقی وزیر صنعت وپیداوار حماد اظہرسے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے اس بارے میں کوئی موقف نہیں دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت