وبائی برقعہ اور عزتِ نفس

کرونا کی وبا اور لاک ڈاؤن کے دوران نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی سکینہ کی کہانی۔

لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ خود کو رسوا ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، حساس لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو رسوا ہوتا ہوا بھی نہیں دیکھ سکتے(اے ایف پی)

شہر میں وبا پھوٹی تو خیمہ بستی میں غم اور خوشی کی ملی جلی سی ایک لہر دوڑ گئی۔ خوشی اس بات کی تھی کہ سکینہ سدھر گئی ہے۔ غم اس بات کا تھا کہ سکینہ کیوں سُدھر گئی ہے۔

سکینہ کا تعلق جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقے سے ہے۔ آنکھ کھولی تو ماں اور بہن کو دوسروں کے برتن مانجھتے دیکھا۔ باپ گھر سے کچھ دور سرکاری ہسپتال کی پارکنگ میں گاڑیاں دھوتا تھا۔ دن بھر ٹائر رگڑنے کے بعد شام کو لوٹتا تو روپیہ پیسہ کم غم غصہ زیادہ لے کر آتا تھا۔ دن بھر جو دوڑ دھوپ وہ کاٹتا تھا اس کا حساب شام کو بچوں کے ساتھ برابر کرتا تھا۔

یہ تیسری پود تھی جو کم عمری کی کمائی، سیٹھوں کی باج گزاری اور زمانے کی جھڑکیاں سہہ رہی تھی۔ اسی لیے ذلت و خواری کو تقدیر کا لکھا جان کر انہوں نے قبول کر لیا تھا۔ یہ خیال ان کے دل میں بیٹھ چکا تھا کہ ہم اچھے لوگ نہیں ہیں۔ ہم اچھے لوگ ہوتے تو پھر خوش حال بھی ہوتے۔

ضرور کوئی گناہ ہمارے پُرکھوں نے کیا ہے جس کی سزا ہم نے عمر بھر کاٹنی ہے۔ آسودہ حال لوگوں کا یہ حق ہے کہ وہ ہماری تحقیر کریں۔ ان کی برابری کا اگر ہم تصور بھی کریں تو ہمیں خدا کی مار پڑنی چاہیے۔ تعلیم پر تو ویسے بھی ہمارا کوئی حق نہیں ہے، عزت و برابری جیسے خیال سے بھی ہمیں جنم جنم دور رہنا چاہیے۔

سکینہ دیکھ رہی تھی کہ خاندان میں عزت اسی کی ہے جو پیدا گیری کر سکتا ہو۔ ایک دمڑی کے لیے جو پوری چمڑی ادھڑوا دے وہ سیانا ہے۔ آؤ بھگت کر کے کام نکلوانے والا بہت ذہین ہے۔ صاحب کے اضافی چونچلے سنبھالنے سے جو انکار کر دے وہ کم بختی کا مارا ہے۔ دوسروں کے گھر کھانا کھانے کی بجائے اپنا پیٹ جو گھر لے آئے وہ لڑکی کام کی ہے نہ کاج کی ہے، دشمن اناج کی ہے۔

سکینہ کی پھپھو کا لڑکا خالد اپنی خاندانی ریت روایت سے ہٹا ہوا تھا۔ دودھ کے دانت اس نے بھی محنت مزدوری پر ہی توڑے، مگر عقل داڑھ لکھائی پڑھائی میں جان مارتے ہوئے نکلی تھی۔

گیارہویں جماعت میں تھا کہ میونسپل آفس میں عارضی کلرک بھرتی ہو گیا۔ شام کے وقت ایک دوست کے ابا کے میڈیکل سٹور پر بھی بیٹھنے لگا۔ دو چار پیسے وہ یہاں بھی جوڑلیتا تھا۔ ان دو کاموں میں جان کھپا کر جتنے پیسے ہاتھ آتے تھے وہ چھوٹے بھائی کی آدھی کمائی سے بھی کم بنتے تھے۔

یہ اُس کی اہلیت اور قابلیت پر ایک سوالیہ نشان تھا۔ سکینہ نے اپنی پھپھو کو ہمیشہ اسی فکر میں پایا کہ خالد دا کیہہ بنڑ سی۔ پھپھو نے چھوٹے بیٹے کی آدھی اور اپنی پوری کمائی تعویذ گنڈوں اور جھاڑ پھونک میں جھونک دی تھی کہ بگڑا بچہ کسی طرح واپس ٹھیک راستے پر آ جائے۔

سکینہ عمر کے اس حصے میں تھی کہ جب انسان کو اپنی ترجیحات خود طے کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ وہ اچھے برے اور ٹھیک غلط کے پہلے سے بنے ہوئے معیارات پر چیزوں کو پرکھتا ہے۔ عمر کے اسی حصے میں ہونے والی وارداتیں ہوتی ہیں جس میں انسان کا پیر الجھ کر رہ جاتا ہے۔ بعد میں ذہن کسی اور نتیجے پر پہنچ بھی جائے تو بات اتنی الجھ چکی ہوتی ہے کہ دو ہی راستے بچ پاتے ہیں۔ اب تک جو جیسا ہے اسے ویسا ہی قبول کرلیا جائے یا پھر خاندان بھر کی ملامت گوارا کر کے بغاوت کردی جائے۔

باقیوں کی طرح سکینہ کا خیال بھی اب تک یہی تھا کہ والدین نے ہمیں پیدا کرکے ہم پر احسان کیا ہے۔ ہماری پیدائش کا صلہ یہ ہے کہ باپ سے سوال نہیں کرنا اور ماں سے شکایت نہیں کرنی۔ سکینہ نے بھی چٹیا باندھی، دوپٹہ کسا اور ماں کے ساتھ گھر گھر برتن کی منجھائی اور کپڑوں کی دھلائی میں لگ گئی۔ ماں کو سیٹھانیوں سے ملنے والی گالم گفتار میں بھی وہ حصہ دار ہوگئی۔ ماں کے ہاتھوں ٹوٹنے والی چیزوں اور خراب ہونے والے کاموں کا الزام اپنے سر لینے کو سکینہ حاضر باش رہنے لگی۔

لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ خود کو رسوا ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ حساس لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو رسوا ہوتا ہوا بھی نہیں دیکھ سکتے۔ کسی کی عزتِ نفس کی خاطر اپنی عزت کی قیمت چکانی پڑجائے تو خوشی سے چکاتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔

سکینہ کے باپ کے کان میں کسی نے یہ بات ڈال دی کہ جتنے پیسے تمہیں یہاں تین گاڑیوں کے ملتے ہیں اتنے اسلام آباد میں ایک گاڑی کے مل جاتے ہیں۔ اس بات نے پورے گھرانے کو راتوں رات آبائی علاقے سے اٹھایا اور شہرِ اقتدار کی ایک کچی بستی میں پہنچا دیا۔ عمر کے ساتھ ساتھ یہاں سکینہ کی آب وہوا بھی بدل گئی۔

تجربے اور مشاہدے کا وہ موڑ آ گیا جب تصورات اور خیالات کی کچی دیواریں ایک کے بعد ایک زمین بوس ہونے لگتی ہیں۔ دل کے کعبے سے پرانے بتوں کا ملبہ اٹھایا جاتا ہے اور نئے خدا بسائے جاتے ہیں۔ سوال اور تجسس کی دھوپ پھیل رہی ہوتی ہے اور سکون کا سایہ سمٹ رہا ہوتا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ اب پیچھے کو دوڑ لگانی ہے یا آگے کو بڑھنا ہے۔ قیامت کو سینے میں ابھی اور بھی ذرا تھام کے رکھنا ہے یا وقت سے پہلے حشر اٹھانا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد کی پراسرار گلیوں میں دو سال تک جوتیاں چٹخنے کے بعد سکینہ کو ایک بات سمجھ آ گئی کہ بڑے سے اس شہر میں چھوٹے سے کچھ لوگ بستے ہیں۔ شرافت اور گھمنڈ کا فرق اس پر واضح ہونا شروع ہو گیا تھا۔ استحصال کی ساری وارداتیں اس پر کھلنے لگی تھیں۔ وہ اب باسانی سمجھ سکتی تھی کہ ضرورت کی منڈیوں میں ہماری مجبوریاں کس طرح نیلام ہوتی ہیں۔

آگہی کی یہ آگ جیسے جیسے بڑھتی جا رہی تھی سکینہ کم آمیز ہوتی جا رہی تھی۔ یار دوستوں اور ہم جولیوں سے وہ کنی کترانے لگی تھی۔ اب وہ بولتی کم سنتی زیادہ تھی۔ سنتی بھی کیا تھی بس سر ہلاتی تھی اور اچھا، ہاں، جی، صحیح، ٹھیک ہے اور بالکل بالکل کرتی رہتی تھی۔ گھر میں روپے پیسوں کی گنتیوں، غم شادی، تعزیتوں عیادتوں، میلاد اور نوحوں کی محفلوں میں اس کی شرکت واجبی سی ہو گئی تھی۔

گھر والوں کی نظر میں اس سارے بدلاو کا اِتنا ہی مطلب نکل پایا کہ سکینہ کا اسلام آباد میں دل نہیں لگ رہا۔ رشتوں میں تقدس کے حوالے حائل ہو جائیں تو اعتبار رخصت ہوجاتا ہے۔ بے اعتباری کے تعلق میں آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں، صورتِ حال کا درست تجزیہ نہیں کر سکتے۔

 سکینہ کی طرف سے وہ ساری شکایتیں آنا شروع ہو گئیں جو کسی کو خاندان کی بری عورت ثابت کرنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ ایک معلمہ نے سکینہ کو کام سے اس لیے نکال دیا کہ درس کے بعد اس نے ایک سخت سوال پوچھ لیا تھا۔

ایک سیٹھ نے اسے اس لیے تھپڑ جڑ دیا کہ اس نے گاڑی پر کپڑا مارنے کے اضافی پیسے مانگ لیے تھے۔ سکینہ کا خیال تھا کہ میرے گھر والے سیٹھ صاحب کے تھپڑ کا کم از کم برا تو منائیں گے۔ یہ دیکھ کر اُس کی چُپ اور بھی گہری ہو گئی کہ ماں سیٹھ صاحب سے معافی مانگ رہی ہے اور مجھے غلطی کا احساس دلایا جا رہا ہے۔

ماں کے اصرار پر سکینہ اسی کام پر دوبارہ لوٹی تو صاحب نے بڑے لاڈ پیار سے کہا، ’بیٹا کوئی کام بندہ پیار محبت میں بھی کردیتا ہے۔ میں اس لیے تو کام نہیں کہتا کہ تم کوئی نوکرانی ہو، تم تو میری بیٹی رانی ہو۔‘ سکینہ کہنا نہیں چاہتی تھی مگر کہے بغیر رہ نہیں پائی کہ، اپنی بیٹی نائلہ سے آپ نے کتنی بار کپڑا لگوایا ہے؟

یہ شکایتیں ابھی تھمی نہیں تھیں کہ سکینہ کے بود وباش میں بھی فرق نظر آنا شروع ہو گیا۔ وہ گھروں سے ملنے والے استعمال شدہ کپڑوں پر ایک غلط سی نگاہ ڈالنے کی بھی روادار نہیں تھی۔ پائی پیسے جوڑ کر وہ شوخ رنگ کپڑے لے کر آتی وہی پہن کر کام پر بھی چلی جاتی تھی۔

وہ پہلے کانوں میں ہینڈز فری ٹھونس کر آئٹم سانگ لگاتی تھی پھر جاڑو پوچا سنبھالتی تھی۔ تہواروں پر اضافی محنتانہ مانگنے سے اس کی جان جاتی تھی۔ عیدی مانگنے کی بجائے سیٹھوں کے چھوٹے بچوں میں عیدی بانٹا کرتی تھی۔ کسی کی سالگرہ ہوتی تو ایک چاکلیٹ کا ہی سہی، مگر تحفہ ضرور دیتی تھی۔

کپڑوں کی رنگا رنگی ابھی ہضم ہوئی نہیں تھی کہ سکینہ مارکیٹ سے جینز کی پینٹ خرید لائی۔ گھر والوں کا غصہ قابو میں رکھنے کے لیے پہلے اس نے ایک بڑی قمیص کے نیچے پینٹ پہننا شروع کی۔ کچھ وقت بعد شرٹ بھی پہننا شروع کر دی۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے سکینہ کچھ اٹھانے کے لیے ایک طرف کو جھکی تو دوسری طرف سے اس کی شرٹ اٹھ گئی۔ کمر ننگی ہونے پر ابا نے سکینہ کو ایسے نشانے پر لیا جیسے برسوں سے نشانہ باندھ کر بیٹھے ہوں۔ ’تیکوں شرم نئی آندی؟ اپنی عزت دا تیکوں خیال کے نئی اسا دی عزت وی رول چھوڑی ہئی۔‘

لعنت ملامت جاری تھی کہ سکینہ اٹھی اور پیر پٹختی ہوئی باہر اپنی بہن نجمہ کے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔

نجمہ نے کہا، ’ابو ٹھیک تا آکھدے پئے ہن۔‘

غصے میں تلملاتی ہوئی سکینہ کھڑی ہوئی، کمر سے شرٹ اٹھائی اور چیخ چلا کر بولی ، ’یہ وہی کمر ہے جو قمیص پہن کر بھی روز تجھے نظر آتی تھی۔ آج شرٹ میں نظر آ گئی تو قیامت آ گئی؟ مسئلہ شرٹ سے ہوتا ہے اور بیچ میں کمر کو گھسیڑ دیتے ہو تم لوگ۔ لخ دی لانت۔‘

نجمہ خاموشی سے قمیص میں بٹن ٹاکتی رہی، جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ بڑے ہی اطمینان کے ساتھ بولی، ’لیکن اِن کپڑوں میں عزت تو چھپتی ناں۔‘

یہ سن کر سکینہ بے بس سی ہو گئی۔ آنکھیں جو بھر آئی تھیں، چھلک پڑیں اور چپ چاپ بیٹھ گئی۔ کافی دیر خاموشی سے نجمہ کو دیکھتی رہی۔ آہستگی سے بولی، ’یار نجمہ! تجھے نہیں لگتا کہ عزت سے بھی بڑی چیز عزتِ نفس ہوتی ہے؟ تجھے کیا لگتا ہے مجھے عزت چھپانے کی پڑی وی ہے۔ یہ جو مانگ مانگ کے کپڑے ہم پہنتے ہیں ناں، ان میں عزت تو چھپ جاتی ہے پر یقین کر نجمہ، عزتِ نفس نہیں چھپتی۔‘

دانتوں سے دھاگہ توڑتے ہوئے نجمہ نے کہا، ’یہ نفس مفس کی بھلا اے میکوں نئی پتہ، سیدھی جی گال اے اپنا کردار ٹھیک کر۔‘

پہناوے اور چال ڈھال کی وجہ سے رشتے داروں نے سکینہ کے ناجائز تعلقات کی داستانیں نیل کے ساحل سے کاشغر کی خاک تک پھیلا دی تھیں۔ جہاں دو لوگ ملتے وہ سکینہ کی بدچلنی کے قصے لے کر بیٹھ جاتے۔ یہ بات تو زبان زدِ عام رہی کہ سکینہ ضرور منہ کالا کرواتی ہے جو اتنے اچھے کپڑے پہنتی ہے۔ سکینہ نے تعلیم حاصل نہیں کی تھی، وہ کہیں کلرک بھی نہیں لگی تھی، کسی میڈیکل سٹور پر کام بھی نہیں کررہی تھی، اس کے باوجود اس کے نام کی اتنی دھول اڑ چکی تھی کہ بگڑا ہوا خالد یاد داشتوں اور تذکروں سے گم ہو گیا۔ مرد خود مختاری کے لیے غیر روایتی راستے پر بیس قدم بھی اٹھالے تو زیادہ سے زیادہ باغی کہلاتا ہے۔ عورت ایک قدم اٹھالے تو کم از کم بھی بدچلن کہلاتی ہے۔

سکینہ زندگی کے پرپیج راستوں پر چپ چاپ چل رہی تھی کہ شہر میں وبا پھوٹ گئی۔ تیزی سے پھیلتی ہوئی وبا کو روکنے کے لیے حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے شٹر گر گئے، چمنیاں ٹھنڈی ہو گئیں، دروازے بند ہو گئے اور پہیے جام ہو گئے۔ جن گھروں سے روزی روٹی آتی تھی وہاں سے جواب آنے لگے۔ فاقے اتنے زور کے پڑے کہ سکینہ کی خود مختاری بھی جواب دے گئی۔

سکینہ کے والدین ڈیڑھ کمرے کا مکان واپس کیا اور کچی آبادی سے کچھ دور خیمہ بستی میں دو جھونپڑیاں لگا کے بیٹھ گئے۔ ایک صبح سکینہ واحد بچ جانے والے گھر پر کام کرنے گئی تو جلدی واپس آ گئی۔ اماں نے پوچھا، ’جلدی آ گئیں؟ خیریت تو ہے؟‘

سکینہ کانوں سے ہینڈز فری نکالتے ہوئے بولی، ’وہ جو میرا نیا باپ پیدا ہوا تھا نا، اُس نے اپنی بیٹی رانی کو کام سے نکال دیا ہے۔‘

حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ گزر بسر کے واسطے اب کچھ بیچنے کو بھی نہیں رہا۔ رمضان اور عید کے دن آئے تو نوبت ہاتھ پھیلانے تک پہنچ گئی۔ بے بسی کے اس عرصے میں اور بھی بہت سی خبریں اڑتی اڑاتی آئیں، مگر سب خبروں پر یہ خبر بازی لے گئی کہ سکینہ نے برقعہ لینا شروع کر دیا ہے۔ گھر والوں کی نظر میں اس کایہ پلٹ کا کُل ملا کے یہ مطلب نکلا کہ جب خدا کا عذاب آتا ہے تو ٹیڑھی سے ٹیڑھی دُم بھی سیدھی ہو جاتی ہے۔

سکینہ کو سمجھ نہیں آئی کہ گھر والوں کے اِس اندازے پر خوش ہوا جائے کہ ماتم کیا جائے۔ یہ سوچ کر اُس نے خود کو تسلی دے لی کہ چلو اس تبدیلی کی وجہ سے گھر والے کچھ دن سیدھے منہ بات تو کریں گے۔ کیا فرق پڑتا ہے اگر انہیں لگتا ہے کہ میں نے برقعے میں اپنی عزت کو ڈھانپا ہوا ہے۔ اب ضروری تو نہیں کہ یہ بات بھی انہیں سمجھائی جائے کہ خیرات میں گھی کا ایک کنستر دیتے ہوئے جب کوئی اللہ والا آپ کی تصویر لیتا ہے تو عزت نفس پر کس درجے کی قیامت گزرتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ