کرونا وبا: آپ اس مرتبہ عید کیسے منائیں گے؟

پاکستان میں کرونا وبا کی وجہ سے اموات میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں لوگ عید کس طرح منانے کا ارادہ رکھتے ہیں، دیکھیے اس ویڈیو میں۔

 زندگی کا ایک  بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ کس طرح غمگین منظر نامے میں رنگ بھر کر اسے حسین اور خوبصورت بنایا جائے۔  شاعر  عرش ملسیانی کے ایک شعر کا آخری مصرعہ اس بات  کی  خوب ترجمانی کرتا ہے

~ اس حال میں جینا لازم ہے، جس حال میں جینا مشکل ہے۔

پاکستان میں عید کی آمد آمد ہے۔ یہ تہوار  بنیادی طور پر اجتماعی جشن کا نام ہے۔ عید کے دن ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارک باد دینا اور ایک دوسرے  کےہاں آنا جانا  ہماری روایت ہے۔

تاہم اس بار عید کی آمد ایسے حالات میں ہو رہی ہے جب  ملک میں کرونا (کورونا) وبا  کی وجہ سے اموات میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔ پچھلے دو مہینوں سے جاری کرونا وبا  کے پیش نظر اس عید پر  گھروں سے نکلنے، گلے ملنے اور ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے سے اس کے پھیلنے کا  خطرہ ہے۔  تو پھر کیسے ہوگی یہ عید؟

 اس حوالے سے ہم نے کچھ خواتین سے بات کی ہے کہ وہ گھروں میں رہ کر یہ تہوارکس طرح منانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

 خیبر پختونخوا  کی رکن اسمبلی عائشہ بانو کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ ایک  ماں بھی ہیں لہٰذا اس عید پر وہ کوشش کریں گی کہ گھر والوں کے لیے ایک خوشی کا ماحول پیدا کریں ۔

’میرا زیادہ وقت شاید کچن میں بچوں کے لیے کوکنگ میں گزرے ،لیکن میری پوری کوشش ہوگی کہ میں یہ  عید اپنے اور بچوں کے لیے خوبصورت بناؤں۔ یہ بات سوچنی چاہیے کہ ہماری عید کی خوشی  بہت قریبی لوگوں سے  ملتی ہے، لہٰذا بحیثیت  ایک بیٹی، بیوی اور ماں کے، میں سب کو خوش رکھوں ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ْاس  لیے مہندی بھی لگے گی، نئے کپڑے بھی پہنے جائیں گے اور سب کے پسند کے  کھانے بھی بنیں گے۔ میری ساس کو میرے ہاتھ کا شیر خرما بہت پسند ہے تو وہ بھی ضرور پکاؤں گی۔‘

خواتین کے مسائل پر  ایک بہت بڑے فیس بک گروپ ’پاکستانی سسٹرز‘ کی ایڈمن افرا حسن  کے مطابق  وہ یہ عید گھر پر رہ کراحتیاط سے کریں گی کیونکہ پوری دنیا کو کرونا وائرس کا سامنا ہے ۔

’میں یہ عید گھر پر اپنے شوہر اور والد کے ساتھ گزاروں گی اوراسے سپیشل بناؤں گی۔ میری کوشش  ہو گی کہ  میں کھانے کی نئی  ترکیبیں آزماؤں  اور اپنے گھر والوں کو متاثر کروں۔ مجھے امید ہے کہ باقی لوگ بھی ایسے ہی عید سپیشل بنائیں گے۔ '

انہوں نے مزید کہا  کہ شاید وہ اس دفعہ نئے کپڑے نہ خرید سکیں اور اپنے رشتہ داروں اور بہن بھائیوں سےنہ مل سکیں  لیکن یہ دوری اختیار کرنے سے سب کی جانیں بچ سکتی ہیں۔

سماجی کارکن وفا وزیرنے بتایا  وہ اس عید کو بھرپور انداز سے گھر پر رہ کر منائیں گی۔ ’میں یہ عید گھر پر اپنے والدین کے ساتھ گزاروں گی۔ اس عید پر بھی میٹھے لذیذ پکوان پکائے جائیں گے اور جس طرح روایت ہے کہ پاکستان

میں عید پر سویاں پکاتے ہیں،لہٰذا ہمارے گھر میں بھی سویاں جس کو ہم مقامی زبان میں’سمیوں‘ بولتے ہیں ، وہ بھی پکائیں گے، چھوٹوں کو عیدی دیں گے اور بڑوں سے وصول کریں گے ۔'

صدف اقبال ایک سماجی ادارے میں کام کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس عید پر اپنی دوستوں اور رشتہ داروں کو فون کریں گی۔ ’اس کے علاوہ میری وہ سہیلیاں جو کرونا وائرس سے بہت احتیاط برتتی رہی ہیں، صرف ان سے ملنے کی کوشش کروں گی۔ اس کے علاوہ ڈیزرٹ بناؤں گی، انجوائے کروں گی۔ آپ بھی اپنا خیال رکھیں ۔ سب کو عید مبارک ہو۔ ‘

ٹرانس جینڈر ڈولفن ایان نے بھی عید کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ عید  کرونا وائرس کی وجہ سے باقی عیدوں سے مختلف ہے لہٰذا  وہ گھر پر ہی دوستوں کے ساتھ  عید کا دن گزارنے کا اہتمام کریں گی۔

’ہم کھانے بنائیں گے، میوزک سنیں گے، گیمز کھیلیں گے، تو  آپ لوگ بھی اپنے اہل خانہ  کے ساتھ  ایسے ہی عید منائیں۔ سب  کو عید مبارک۔ ‘

 آپ  نے اس عید کے لیے کیا سوچا ہوا ہے،اسے کس طرح منائیں گے؟ انڈپینڈنٹ اردو پر اپنے تبصرے بھیج کر ضرور بتائیے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا