کرونا وائرس: پاکستان میں کم شرح اموات کی وجہ کیا ہے؟ 

انڈپینڈنٹ اردو نے مختلف ماہرین سمیت کچھ تحقیقی مقالوں کا مطالعہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آیا پاکستان میں کم شرح اموات کی وجوہات کیا ہیں۔

پاکستان میں اب تک 54 ہزار سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے (اے ایف پی)

محمد سلیم (فرضی نام) کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے ہے۔ تین ہفتے پہلے ان کی والدہ میں کرونا (کورونا) کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں تو انہیں ہسپتال لیجایا گیا جہاں ان سے ٹیسٹ کے لیے نمونے لے کر لیبارٹری بھیج دیے گئے۔

ٹیسٹ نتیجہ آیا تو مثبت تھا۔ سلیم والدہ کو ٹیسٹ کے نمونے دینے کے بعد واپس گھر لے گئے کیونکہ ٹیسٹ کے مثبت آنے کی صورت میں والدہ کو ہسپتال یا قرنطینہ مرکز کی بجائے گھر میں آئسولیٹ کر لیں گے۔

چار دن بعد ان کی والدہ گھر میں ہی انتقال کر گئیں۔ تاہم اب مسئلہ جنازے اور تدفین کا تھا۔ سلیم نے ضلعی انتظامیہ کو بتائے بغیر والدہ کی تدفین کے انتظامات کیے جس میں ان کے رشتہ داروں سمیت دیگر افراد نے بھی شرکت کی۔

سلیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی والدہ کی موت کا ریکارڈ نہ ہسپتال میں موجود ہے اور نہ ضلعی انتظامیہ کو معلوم ہے کہ فلاں گھر میں کوئی خاتون کرونا سے انتقال کر گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا، ’میں نے ضلعی انتظامیہ کو خبردار نہیں کیا تھا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری والدہ کی موت کے بعد بھی کوئی بےحرمتی ہو اور ان کے اپنے گھر والے بھی ان کو نہ دیکھ سکیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے پاکستان میں کرونا سے اموات کی کم شرح کے وجوہات کو جانے کی کوشش کی ہے۔ اب تک اموات کی شرح پر کوئی تحقیقی مقالہ یا کوئی سرکاری یا غیرسرکاری تجزیہ سامنے آیا ہے جس میں کم شرح اموات کے وجوہات بیان کی گئی ہوں۔

ہم نے مختلف ماہرین سمیت کچھ تحقیقی مقالوں کا مطالعہ کر کے کوشش کی ہے کہ کم شرح اموات کی وجوہات قارئین کے سامنے پیش کر سکیں۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں سے ایک کے کرونا یونٹ کے انچارج ڈاکٹر سعود اسلام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا، ’سلیم کی والدہ کی طرح شاید بہت سی ایسی اموات گھروں میں ہوئیں ہوں گی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کرونا وائرس کو اب شرم سے جوڑ دیا گیا ہے۔‘

حکومت کی جانب سے تصدیق شدہ کرونا موت کے بعد میت لواحقین کے حوالے نہیں کی جاتی، تدفین بھی مختصر رکھی جاتی ہے اور پسماندہ گان کو تعزیت کا سلسلہ بھی محدود رکھنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔

ڈاکٹر سعود نے بتایا کہ یہ بھی ہم نے دیکھا ہے کہ زیادہ تر مریض انتہائی نگہداشت کی حالت میں ہسپتال لایا جاتا ہے تو وہ یا تو راستے میں اور یا ہسپتال پہنچتے ہی انتقال کر جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ ’اب ان مریضوں کا ہمیں پتہ نہیں ہوتا کہ یہ کس وجہ سے انتقال کر جاتے ہیں۔ ہسپتال میں پروٹوکول کے مطابق صرف ان مشتبہ مریضوں کا کرونا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جو ہسپتال میں داخل ہوں اور ہسپتال میں انتقال کر جائیں۔ اگر کوئی مریض گھر یا ہسپتال لے جانے کے دوران انتقال کر جائے تو ان کا ٹیسٹ نہیں کیا جاتا۔‘

ڈاکٹر سعود سے جب پوچھا کہ ہسپتال سے کرونا اموات کا ڈیٹا کیسے اکھٹا کیا جاتا ہے، تو اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے ایک سافٹ وئیر بنایا ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر کرونا مریض کے حوالے سے ڈیٹا درج کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سافٹ وئیر میں ہر مریض کے نام کے سامنے سٹیٹس دیا جاتا ہے کہ آیا مریض کی حالت نارمل ہے، سنگین ہے یا انتقال کر گئے ہیں اور یہی میکینزم تقریباً سارے ہسپتالوں میں ہے۔

ڈاکٹر سعود نے بتایا کہ آئی ہی ایم ایس سافٹ ویئر میں ڈیٹا کی آزاد ذرائع سے ویریفیکیشن کی جاتی ہے جس میں وہ متعلقہ ہسپتال یا شعبے کو بتاتے ہیں کہ فلاں جگہ یا کیس میں یہ مسئلہ ہے اس لیے اس کو درست کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ان آزاد ذرائع میں باہر اداروں کے ماہرین بھی شامل ہیں جو مختلف اوقات میں اس ڈیٹا کو چیک کرتے ہے جبکہ وفاقی سطح پر بھی اس ڈیٹا کو ایکسس ہوتا ہے اور وہ بھی اس کو مانیٹر کرتے ہیں۔

’نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی سمیت تقریبا 12 اداروں کے ساتھ ہسپتال سے ہم ڈیٹا شیئر کرتے ہیں۔ اس میں اگر کوئی مسئلہ ہو مثال کے طور ہر اگر کوئی مریض کے ریمارکس دو دن پہلے نیگیٹیو کرونا ہے اور پھر ڈیٹا میں کسی مسئلے کی وجہ سے پازٹیو لکھا گیا ہے یا ریمارکس کا خانہ خالی ہے تو پچھلے ڈیٹا سے کمپئر کر کے اس پر یہ ادارے سوالات اٹھاتے ہیں اور اسی کو پھر درست کیا جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر سعود سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں باقی صوبوں کے مقابلے میں اموات کی شرح  شاید زیادہ اس لیے ہے کہ یہاں کرونا کے حوالے سے ڈیٹا اکھٹا کرنے کا میکینزم بہت بہتر ہے اور ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی ہسپتال میں کرونا کا مریض انتقال کر جائے اور وہ ریکارڈ پر موجود نہ ہو۔

تاہم صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا بھی سمجھتے ہیں کہ صوبے میں کرونا سے اموات کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ یہاں پر عالمی ادارہ صحت کے پروٹوکول پر من وعن عمل کرنا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ گذشتہ ہفتے ایک خصوصی انٹرویو میں تیمور جھگڑا کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کی پروٹوکول کے مطابق ہم تصدیق شدہ کرونا کے مریض سمیت اگر مشتبہ مریض بھی انتقال کر جائے تو ان کا ٹیسٹ کراتے ہیں۔

انہوں نے بتایا ’عالمی ادارہ صحت کا پروٹوکول ہے کہ تصدیق شدہ و مشتبہ مریض جو انتقال کر جائے ان کی ایک جیسے پروٹوکول کے تحت تدفین کی جائے گی۔ ہم ان کے ٹیسٹ بھی کراتے ہیں جس میں بعض میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔‘

’میں نہیں سمجھتا کہ دوسرے صوبے اس طرح کرتے ہیں اور شاید یہی دیگر صوبوں میں کم شرح اموات کی وجہ ہو۔‘

دیگر صوبوں کے حوالے سے گذشتہ ماہ سندھ میں پاکستان میں سب بڑے ایمبولینس سروس ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ سندھ میں ان کے پاس بہت سی ایسی لاشیں آتی ہیں جو کرونا کے مشتبہ یعنی ان میں کرونا کے علامات پائی جاتی ہیں۔

اسی حوالے سے مئی کے اوائل میں کراچی کے جناح ہسپتال کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے صوبائی محکمہ صحت کو ایک خط بھی لکھا تھا کہ ان کے ہسپتال میں گذشتہ سال کے انہیں مہینوں کے مقابلے میں اموات کی شرح زیادہ ہے۔ اس لیے یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ اموات زیادہ کیوں ہوئی ہیں۔

تیمور جھگڑا کے مطابق کہ باقی صوبے کرونا کے مشتبہ مریضوں کے ہلاکتوں کی ٹیسٹ نہیں کراتے۔ اس حوالے سے سندھ اور پنجاب حکومت کے حکومتی عہدیداروں سے انڈپینڈنٹ اردو نے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کا موقف جان سکیں لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

خیبر پختونخوا میں 22 مئی کے اعدادوشمار کے مطابق کرونا کے مریضوں کی تعداد 7391 ہے جبکہ اموات کی تعداد 381 ہے۔ صوبے میں شرح اموات دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ 5.2 فیصد ہے یعنی ہر 100 کرونا کے مریضوں میں پانچ انتقال کر جاتے ہیں۔

تیمور سلیم صوبے میں زیادہ شرح اموات کی ایک وجہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ شاید ہمارے صوبے میں کرونا کے کیس زیادہ ہوں لیکن ابھی تک سامنے نہیں آئے ہوں اور ٹیسٹ کرانے سے ہی پتہ چلے گا۔

تاہم گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران تیمور نے بتایا کہ صوبے میں پچھلے دنوں اوسط روزانہ 10 اموات کرونا سے ہو رہی ہیں اور یہ تعداد اسی پر روک گئی ہے جبکہ نئے کیس 160-200 کے درمیان بڑھ رہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صوبے میں اموات سمیت نئے کیس بھی روزانہ کی بنیاد پر ایک خاص تعداد پر آ کر روک گئے ہیں۔

تاہم پورے ملک کے اعدادوشمار کو اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں شرح اموات باقی دنیا کے مقابلے میں قدرے کم ہے۔تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 52 ہزار 427 ہیں اور اموات کی تعداد 1101 ہے۔

ملک میں اموات کی شرح دو فیصد ہے یعنی ہر 100 کرونا کے مریضوں میں دو افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں کرونا کی شرح اموات  کی دیگر صوبوں اور ملک کے مجموعی شرح اموات سے زیادہ ہونے کی وجوہات پر بات تو ہوگئی تاہم ملک میں کم شرح اموات کہ مختلف وجوہات ماہرین بیان کرتے ہیں۔

کیا کرونا سے اموات دسمبر میں شروع ہوئی تھی؟

بعض ماہرین سمجھتے ہیں کہ شاید پاکستان میں کرونا دسمبر سے ملک میں پھیلنا شروع ہو گئی ہو لیکن ٹیسٹ نہ ہونے کہ وجہ سے حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی ہوگی۔

اسی دعوے کو پرکھنے کے لیے ہم نے صوبے کے تین بڑے ہسپتالوں کے جنوری 2019 سے لے کر اب تک کی اموات کی تعداد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا ہے جس کی کاپی انڈپینڈنٹ کے پاس موجود ہے۔

ان سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جنوری 2019 سے لے کر مئی 2020 تک صوبے کے بڑے سرکاری ہسپتال جن میں لیڈی ریڈنگ، خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس شامل ہیں، مجموعی طور پر کرونا اور دیگر امراض سے 16 ہزار 316 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس میں کرونا کا کوئی مریض شامل نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں کرونا کا پہلا مشتبہ مریض 26 فروری کو سامنے آیا تھا اور اس کے بعد مارچ میں جا کر ملک میں کرونا کے ٹیسٹ کرانا شروع ہوئے تھے۔

اموات کے ماہانہ اعدادوشمار کو اگر دیکھا جائے تو باقی مہینوں کے مقابلے میں دسمبر میں 1414 جبکہ جنوری کے مہینے میں 1585 افراد ان تین ہسپتالوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ 

جب سے پاکستان میں کرونا کے ٹیسٹ اور ان سے اموات کو ریکارڈ کرنا شروع کیا گیا تو اعدادوشمار میں فرق بھی سامنے نظر آ رہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق جنوری کے مقابلے میں فروری میں اموات کی تعداد کم ہو کر 1334 اور مارچ میں 1174 ہوئی ہے۔

تاہم خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ پبلک ہیلتھ کے ڈین ڈاکٹر ضیا الحق  سجھتے ہیں کہ دسمبر اور جنوری میں چونکہ سردی زیادہ ہوتی ہیں اور یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہر سال انہیں مہینوں میں نمونیا جیسی بیماریوں سے اموات کی شرح دیگر مہینوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں۔

کیا مضبوط قوت مدافعت بھی کم شرح اموات کی وجہ ہو سکتی ہے؟

لوجولا انسٹی ٹیوٹ برائے الرجی اور امیونولاجی امریکہ کی ایک معتبر تحقیقی ادارہ ہے۔ 14 مئی کو ان اس ادارے نے کرونا اور قوت مدافعت کے مابین تعلق کے حوالے اے ایک اہم تحقیق مقالہ شائع کیا ہے جس کو امریکی ادارہ نیشنل ہیلتھ سائنسز، بل اینڈ ملینڈا فاؤنڈیشن سمیت مختلف اداروں نے فنڈ کیا تھا۔

اس تحقیقی مقالے کے مطابق 20 ایسے افراد پر تحقیق کی گئی جو کرونا سے صحت یاب ہو گئے تھے تاکہ یہ معلوم کر سکیں کہ ان افراد میں ایسی کیا مدافعت موجود تھی جس کی وجہ سے یہ صحت یاب ہو گئے۔

مقالے کے مطابق تمام صحت یاب مریضوں میں ’T Cells‘ جس کی ایک قسم اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت مضبوط کرنے کے لیے اینٹی باڈیز بناتے ہے جبکہ انہی T Cells کی ایک قسم ان خلیات کو مار دیتی ہے جس کو کرونا وائرس نے متاثر کیا ہے پایا گیا ہے۔

اسی طرح اس تحقیقی مقالے کے ایک محقق پروفیسر شان کروٹی نے بتایا کہ اس تحقیق کے لیے 2015 اور 2018 کے کچھ لوگوں کے خون کے نمونے بھی ٹیسٹ کیےگئے۔

ڈاکٹر کروٹی کے مطابق ان خون کے نمونوں میں کرونا وائرس کے ایک اور قسم ’Sars-cov-2‘ کے خلاف قوت مدافعت دیکھی گئی ہے اور ان خون کے نمونوں میں بھی وہی ’T Cells‘ پائے گئے جو کوویڈ-19 کے مریضوں میں موجود تھے۔

جن افراد کے خون کے نمونے لیے گئے تھے وہ پہلے سے سارس کرونا سے متاثر نہیں تھے تاہم ان کو عام کھانسی کرونا وائرس دو تین مرتبہ ہوا تھا۔

کروٹی نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا، ’یہ بالکل واضح تو نہیں کہا جا سکتا تاہم شاید پہلے سے موجود سارس کرونا کے خلاف مدافعت ایک وجہ اس کی ہو سکتی ہے کہ بعض علاقوں کو کووڈ19 نے زیادہ[اور بعض کو کم متاثر کیا ہے]۔‘

ڈاکٹر فہیم یونس امریکی میری لینڈ یونیورسٹی کے متعدی بیماریوں کے سربراہ ہیں۔ اسی تحقیقی مقالے پر اپنے تجزیے میں انھوں نے لکھا ہے کہ اس مقالے کے مطابق 40 سے 60 فیصد ایسے افراد جو کرونا سے متاثر نہیں ہوئے ہیں ان میں اس بیماری کے خلاف قوت مدافعت پائی گئی ہے۔

ڈاکٹر فہیم نے بتایا، ’اس کی وجہ موسمیاتی انفیکشنز ہیں جو پرانے کرونا وائرس سے لگتی ہیں اور انھی انفیکشنز نے جسم میں اینٹی باڈیز بنائے ہوں جو کووڈ19 بیماری کا جزوی مقابلہ کر سکتے ہوں۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ بعض ممالک میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد کم کیوں ہے۔‘

ڈاکٹر یاسر یوسفزئی خیبر پبلک ہیلتھ ریفرنس لیب کے جو کرونا کے سرکاری سطح ہر ٹیسٹ بھی کرتے ہیں ڈائریکٹر ہیں۔ ان سے جب اسی تحقیقی مقالے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہر ایک وائرس جب انسانی جسم میں منتقل ہو جائے تو پہلے جسم یہ کوشش شروع کر دیتے ہیں کہ پتہ لگائیں کہ یہ وائرس جسم کے اندر یا باہر سے آگیا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب جسم کو پتہ لگ جائے کہ وائرس باہر سے آگیا ہے تو انسانی جسم میں موجود T Cells متحرک ہو جاتے ہیں جس کے تین اقسام ہیں۔

ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ ان میں ایک قسم  T Cells کے دوسرے قسم کی خلیوں پر خاص کیمیکلز ریلیز کر دیتے ہیں تاکہ  وائرس سے متاثرہ خلیوں کو مار دیا جائے جبکہ جسم میں موجود B Cells اس وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بنانا شروع کر دیتے ہیں تاکہ آنے والے وقتوں میں قوت مدافعت اتنی ہوں کہ اس کا مقابلہ کیا جا سکے۔

ڈاکٹر یاسر نے مزید بتایا، ’اسی تحقیق مقالے میں سب سے بنیادی بات یہ پہلی مرتبہ واضح کیا گیا ہے کہ کووڈ19 کے خلاف طویل مدت کے لیے قوت مدافعت انسانی جسم میں ہو سکتی ہے جس سے اس وائرس کے خلاف ویکسین بنانے میں آسانی مل جائے گی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اس تحقیق میں واضح طور یہ نہیں لکھا گیا ہے کہ کچھ علاقوں کے لوگ پہلے سے کووڈ19 کے خلاف قوت مدافعت رکھتے تھے۔

ڈاکٹر یاسر زیادہ پر امیدی سے نہیں تاہم ان کے مطابق ممکنہ طور یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان سمیت ان ممالک جہاں کووڈ19 سے ہلاکتوں کی شرح کم ہے کہ وہاں پہلے اے کووڈ19 کی طرح کوئی وائرس گزرا ہوان لیکن وہ زیادہ خطرناک نہ ہوں اور لوگوں کے جام میں وہ مدافعت بن گئی ہوں جو اب کووڈ19 کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔

’پاکستان سمیت گرم مرطوب ممالک میں کوویڈ19 سے شرح اموات اور انفیکشن کی تناسب کم ہیں۔ میرے خیال میں اس کا تعلق درجہ حرارت سے ہو تاہم ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہے۔‘

نوجوانوں کی زیادہ آبادی کم شرح اموات کی وجہ؟

ڈاکٹر ضیا الحق خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ پبلک ہیلتھ کے ڈین ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کرنا قبل از وقت ہے کہ پاکستان میں کرونا سے ہلاکتوں کی شرح اموات باقی دنیا سے کم ہے۔

انہوں نے بتایا، ’میں سمجھتا ہوں ہمیں ایک دو مہینے مزید انتظار کرنا پڑے گا اور تب ہی جا کر ہمیں اندازہ ہو سکتا کے کہ پاکستان میں شرح اموات کیا ہے اور اس کے بعد اس کے سوپر تحقیق ہو سکتی ہے کہ ایسے کیا وجوہات تھے کہ شرح اموات کم رہی۔‘

تاہم ڈاکٹر ضیا اس کی ایک ممکنہ وجہ ملک میں نوجوان آبادی کا زیادہ تناسب بتاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ چونکہ کرونا سے زیادہ بڑے عمر کے لوگ متاثر ہوتے ہیں اور پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی زیادہ ہے تو ہو سکتا ہے پاکستان میں اموات کم ہوں۔

اعدودوشمار کے مطابق ملک میں اب تک کرونا سے 77 فیصد سے زائد وہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں جن کی عمریں 50 سال سے زائد تھیں۔ ان 77 فیصد میں 50 اور 60 سال عمر کے درمیان افراد میں ہلاکتیں سب سے تقریبا 30 فیصد ہوئی ہیں۔

اگر کرونا کے تصدیق شدہ کیس کی اعدادو شمار کو دیکھا جائے تو ملک میں سب سے زیادہ نوجوان آباد جن کی عمریں 20 سال سے 50 سال کے درمیان ہوں وہ متاثر ہوئے ہیں جن کا تناسب 70 فیصد سے زیادہ ہے۔

اس اعدادوشمار کا جائزہ اگر لیا جائے تو اس سے ڈاکٹر ضیا کی بات کو تقویت ملتی ہیں کہ چونکہ ملک میں نوجوانوں کی آبادی زیادہ ہے تو اس وجہ سے ہلاکتیں کم ہوئی ہیں اس کے باوجود کے سب سے زیادہ نوجوان ہی متاثر ہوئے ہیں۔

موجودہ اعدادوشمار کیا کہتے ہیں؟

یورپین سینٹر برائے ڈیزیز پریونشن اینڈ کنٹرول کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت ہر 16 دن بعد کرونا سے اموات دگنی ہو جاتی ہیں۔ مارچ کے مہینے میں اموات ہر دو دن بعد دگنی ہو رہی تھیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آج 24 مئی کو پاکستان میں اموات کی تعداد 1101 ہیں تو 14 دن بعد یعنی سات جون کو یہ تعداد 2202 تک پہنچ جائے گی۔

اسی اعدودشمار کے مطابق پاکستان 140 ممالک میں 31 ویں نمبر پر ہے جہاں ہر 16 دن بعد اموات کے تعداد دگنی ہو رہی ہیں جبکہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان میں بھی 16 جبکہ بھارت میں ہر 15 دن بعد اموات دگنی ہو رہی ہیں۔ 

ڈاکٹر ضیا سمجھتے ہیں کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد ممکن ہے کہ جون کے مہینے میں پاکستان میں اموات کی شرح اوپر چلی جائے کیونکہ ابھی تک واضح طور پر ملک میں شرح اموات بتانا قبل ازوقت ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت