شمالی وزیرستان: سرکاری افسر سمیت تین افراد قتل

پاکستان کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلرز متحرک دکھائی دینے لگے ہیں اور نماز عید سے واپسی پر گریڈ 19 کے سی ایس ایس افسر سمیت تین افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

زبید خان ایک ملنسار افسر کے طور پر جانے جاتے تھے (تصویر: مصنف)

پاکستان کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلرز متحرک دکھائی دینے لگے ہیں اور نماز عید سے واپسی پر گریڈ 19 کے سی ایس ایس افسر سمیت تین افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں پولیس سربراہ شفیع اللہ گنڈاپور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گریڈ 19 کے سی ایس ایس آفیسر زبید خان اور ان کے دو رشتہ داروں کو نامعلوم افراد نے اس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا جب یہ تینوں عیدگاہ حسو میں نماز ادا کرنے کے بعد اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔

پولیس اہلکار کے مطابق فدا حجرے کے ساتھ دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار نے ایک گلی سے نکل کر تینوں کو نشانہ بنایا اور بعد میں وہاں سے فرار ہوگئے۔

 اہلکار نے بتایا کہ زبید خان اور فرمان اللہ موقع پر دم توڑ گئے اور نعمت اللہ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقع کے بعد پولیس نے پورے علاقے کو سیل کر دیا ہے تاہم کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تینوں آپس میں کزن تھے۔ زبید خان عید کی چھٹیاں منانے اسلام آباد سے اپنے گاؤں آئے تھے جبکہ فرمان اللہ جو سابق پولیو ورکر اور نعمت اللہ جو ویٹرنری ڈاکٹر تھے پہلے سے اپنے گاؤں میں رہتے تھے۔

زبید خان کا وہ مکان جو ضرب عضب میں تباہ ہوا اور اب اس کی اینٹیں بھی باقی نہیں ہیں (انڈپینڈنٹ اردو)


زبید خان داوڑ انفارمیشن گروپ سے تھے اور تحریک انصاف حکومت کے آنے کے بعد ان کو ڈیپوٹیشن پر پاکستان ہاؤسنگ سوسائٹی میں بطور ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔

زبید خان داوڑ نے پشاور یونیورسٹی سے پولیٹکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی جس کے بعد 2002 میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیاب ہوکر انفارمشن گروپ میں چلے گئے۔

وہ مختلف اوقات میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے تھے۔ ایک قبائلی مشر کی حثیت سے ان کے سیاسی لوگوں کے ساتھ بھی تعلقات بہت اچھے تھے اور مشرف کے دورے حکومت میں سیاحت اور ثقافت کے وزیر جی جی جمال کے ساتھ سٹاف آفیسر تھے۔ اس کے بعد جب سابق گورنر شوکت اللہ سیاحت کے وزیر مقرر ہوئے تو بھی زبید خان ان کے ساتھ سٹاف آفیسر کے حثیت سے کام کر رہے تھے۔ 

زبید خان کے خاندان کا حسو خیل قبائل کے اہم قبیلے میں شمار ہوتا ہے۔ وہ ایک خوش باش اور ملنسار شخصیت تھے اور دوستوں سے ملتے وقت ہر ایک دوست کو ایک اچھے انداز سے اپنے نام سے پکارتے تھے۔ دوستوں کے ساتھ ہنسنا اور گپ شپ لگانا ان کی اہم خاصیت تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘ میں دوسرے عام شہریوں کی طرح زبید خان کے خاندان کا بھی کافی نقصان ہوا تھا۔ ان کے ایک قلعہ نما مکان کی اینٹیں تک نہ بچیں۔ ضرب عضب کے بعد وہاں پر ایک ویرانے کا منظر تھا اور مکان کا نام نشان ختم ہوگیا تھا۔ مکان میں موجود تمام سازو سامان بھی غائب ہوگیا تھا۔

زبید خان اکثر مجلسوں میں کہا کرتے تھے کہ ان کا جو مکان ضرب عضب میں تباہ ہوا اب وہ چار کروڑ روپے میں بھی دوبارہ تعمیر نہیں ہوسکتا اور ایک کروڑ روپے مالیت کا تو صرف اس میں سامان پڑا ہوا تھا۔

اس واقع سے ایک دن پہلے گاؤں مبارک شاہی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے حضرت اللہ والد محمد عالم کو ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس نے تحقیقات کا شروع کی لیکن تاحال کچھ معلوم نہ ہو سکا ہے۔

اس طرح دو دن پہلے قبائلی ضلع باجوڑ کے علاقے عنایت کلے میں موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے دو افراد کو ہلاک جبکہ دو کو زخمی کر دیا تھا۔ حملہ آور بھرے بازار سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

زیبد خان کے چچا اپنے گاؤں میں ایک سرکردہ ملک کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اور وہ پورے علاقے کے اکثر مسائل میں پیش پیش ہوتے تھے اور لوگ بھی ان کو اچھی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

شمالی وزیرستان میں جاری ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے لوگ بہت زیادہ پریشان ہے اور اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں جاری ٹارگٹ کلینگ کی وجہ شاید پشتون تحفظ موومنٹ اور شدت پسند طالبان گروپوں کے درمیان جاری محاذ آرائی ہوسکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان