حکومت اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان ایک اور معاہدہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم لال مسجد کی انتظامیہ اور حکومت کے درمیان ایک مرتبہ پھر معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد مسجد کے اطراف سے تمام رکاوٹیں ہٹا لی گئی ہیں۔

حکومت اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان تنازعات گذشتہ برس سے جاری تھے اور بارہا راستے بند کیے گئے اور کھولے گئے (اے ایف پی)

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم لال مسجد کی انتظامیہ اور حکومت کے درمیان ایک مرتبہ پھر معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد مسجد کے اطراف سے تمام رکاوٹیں ہٹا لی گئی ہیں۔

حکومت اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان تنازعات گذشتہ برس سے جاری تھے اور بارہا راستے بند کیے گئے اور کھولے گئے۔

کامیاب مذاکرات کے بعد مولانا عبدالعزیز اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات سے جب اس حوالے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

تاہم ہارون رشید غازی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لال مسجد کے اطراف سے پولیس کی اضافی نفری ہٹا لی گئی ہے اور رکاوٹیں بھی ہٹا دی گئی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ’مولانا عبدالعزیز پر جو سفری پابندیاں عائد ہیں اس کے لیے حکومت نے دو ماہ کا وقت مانگا ہے۔‘

معاہدے کے اہم نکات:

  • معاہدے کے مطابق مولانا عبدالعزیز تین روز میں لال مسجد سے جامعہ حفصہ جی سیون منتقل ہوجائیں گے اور دو ماہ تک لال مسجد نہیں آسکیں گے۔
  • اس کے علاوہ لال مسجد کا کنٹرول مولانا عبدالرشید غازی کے بیٹے ہارون الرشید غازی اور مفتیان عظام کے پاس رہے گا جبکہ  مولانا عبدالعزیز دو ماہ بعد ملک بھر میں دورے کرسکیں گے۔
  • معاہدے کے مطابق جامعہ حفصہ کو ایچ الیون میں دیے گئے پلاٹ کا تنازعہ دو ماہ میں حل کر لیا جائے گا۔
  • جامعہ حفصہ ایچ الیون کے پلاٹ پر دو ماہ تک کسی فریق کا قبضہ نہیں رہے گا۔ پلاٹ پر جامعہ حفصہ اور حکومت کا ایک، ایک چوکیدار ڈیوٹی دے گا۔ پلاٹ کے گیٹ پر تالہ جامعہ حفصہ کا لگے گا۔

حکومت اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان معاہدہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کرایا۔ مولانا محمد احمد لدھیانوی نےفریقین کی طرف سے بطور ضامن معاہدے پر دستخط کیے۔

واضح رہے کہ لال مسجد تنازعہ گذشتہ برس جون سے چلا آ رہا ہے لیکن رواں برس فروری کے اوائل میں حالات اس وقت دوبارہ کشیدہ ہو گئے جب مولانا عبدالعزیز نے سرکاری مسجد میں داخل ہو کر اس کے انتظامات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے۔

تین روز یہ تنازعہ رہنے کے بعد مذاکرات کر لیے گئے لیکن 18 فروری کو دوبارہ حالات کشیدگی کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے تو حکومت نے دوبارہ راستے بند کر دیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان