کرونا کے سائے میں قومی اسمبلی کا اجلاس، کون آنے کو تیار کون نہیں؟

پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ڈاکٹر، پولیس، عام شہری اور سیاستدان سب اس کی لپیٹ میں ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو طلب کر رکھا ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس  کاپانچ جون کو شروع ہوگا اور 12 اگست تک جاری رہے گا۔ اس دوران 12 جون کو مالی سال 21-2020 کا وفاقی بجٹ پیش کیا جائے گا اور پھر اس کی منظروری دی جائے گی۔(ریڈیو پاکستان)

پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ڈاکٹر، پولیس، عام شہری اور سیاستدان سب اس کی لپیٹ میں ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو طلب کر رکھا ہے۔

یہ اجلاس پانچ جون سے 12 اگست تک جاری رہے گا۔ اس دوران 12 جون کو مالی سال 21-2020 کا وفاقی بجٹ پیش کیا جائے گا اور پھر اس کی منظوری دی جائے گی۔

جبکہ پانچ جون کو ہی سینیٹ کا اجلاس بھی بلایا گیا ہے۔ سینیٹ کا اجلاس جمعے کی صبح دس بجے جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس سہ پہر چار بجے ہو گا۔

تاہم کرونا وائرس کے مقامی پھیلاؤ کی وجہ سے صوبائی اور قومی اراکین اسمبلی بھی کرونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں اور اب تک پانچ صوبائی اراکین کرونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر گئے ہیں۔  

ان حالات میں اجلاس ہونا چاہیے یا نہیں، اور اگر ہونا چاہیے تو کیا وہ شرکت کریں گے اور اگر کریں گے تو کن احتیاطی اقدامات کے ساتھ کریں گے۔ یہ سب جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے چند اراکین سے رابطہ کیا۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری پہلے ہی براہ راست اجلاس کے حق میں نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے میں کرونا وائرس ایک صوبائی وزیر سمیت پانچ اراکین اسمبلی کی جان لے چکا ہے جبکہ 18 اب بھی اس سے لڑ رہے ہیں۔

فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ’ہمیں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’گذشتہ ماہ کے پارلیمنٹ کے براہ راست اجلاس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ متعدد ارکان پارلیمنٹ براہ راست سیشن کے بعد کرونا کا شکار ہوچکے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں اسمبلی اجلاس ورچوئل ہونے چاہیں اور بتایا کہ وہ جمعے کہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی احسن اقبال اور محسن شاہ نواز رانجھا نے بتایا کہ وہ احتیاطی اقدامات کے ساتھ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

محسن شاہ نواز رانجھا کا کہنا تھا کہ جب باقی سب ادارے چل رہے ہیں تو پارلیمنٹ کے دروازے کیوں بند ہوں؟ انہوں نے کہا کہ اجلاس براہ راست ہی ہونا چاہیے، ورچوئل اجلاس کی کوئی منطق نہیں ہے۔

اسی طرح پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی مولا بخش چانڈیو نے بتایا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ضرور ہونا چاہیے اور براہ راست ہی ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہی واحد موقع ہوتا ہے جب حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے بات کر سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’افسوس ہے حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ گذشتہ اجلاس جو کرونا وائرس کے اقدامات کے لیے بلایا گیا تھا اس میں خود وزیراعظم ہی تشریف نہیں لائے۔‘

جب مولا بخش چانڈیو سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خود اجلاس میں تشریف لائیں گے تو انہوں نے کہا کہ تین دن پہلے اُن کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور وہ گھر پہ قرنطینہ میں ہیں۔

اسی طرح رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے کہا کہ کرونا وائرس بہت زیادہ بڑھ رہا ہے اور ساری دُنیا میں انٹرنیٹ کے استعمال کو ترجیح دیتے ہوئے ورک فرام ہوم اور عالمی سطح پر بھی ورچوئل سیشن کیے جا رہے ہیں۔ یہی طریقہ یہاں بھی اپنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست اجلاس یقینی طور پر خطرے سے خالی نہیں ہے۔

کرونا متاثرہ قانون ساز

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول اب تک کی رپورٹس کے مطابق ملک بھر سے وفاقی وزیر شہر یار آفریدی، رکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر، رکن قومی اسمبلی پیر ظہور حسین قریشی، ملک کرامت کھوکھر، گل ظفر خان، محبوب شاہ اور مولا بخش چانڈیو کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

جبکہ ارکین پنجاب اسمبلی مظفر علی شیخ، رانا عارف اقبال، ڈاکٹر اختر ملک، اراکین خیبر پختونخوا اسمبلی سے عنایت اللہ خان ، حاجی بہادر خان، سندھ اسمبلی سے ڈاکٹر سہراب سر، منگلا شرما، رانا ہمیر سنگھ، عبدالرشید اور معظم علی عباسی سمیت آٹھ اراکین کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ بلوچستان کے وزیر خزانہ ظہور بلیدی کو بھی کرونا وائرس لاحق ہو چکا ہے۔

سینیٹ کے دو ارکان سینیٹر مولانا عطا الرحمان اور سینیٹر فدا محمد میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری بھی کرونا کا شکار ہو چکے ہیں۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ بدھ کو پی ٹی آئی کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی میاں جمشیدالدین کاکاخیل کرونا کے باعث چل بسے۔ اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے ن لیگ کے رکن اسمبلی شوکت چیمہ اور سندھ کے صوبائی وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ بھی کرونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔

اس سے قبل پنجاب سے تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شاہین وفات پا چکی ہیں جبکہ بلوچستان کے رکن اسمبلی اور سابق گورنر سید فضل آفا کی بھی کرونا کی وجہ سے موت ہو چکی ہے۔ رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہوئے اور بعد ازاں دل کے دورے سے وفات پا گئے۔

کیا ورچوئل اجلاس ممکن ہے؟

گذشتہ اجلاس سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی نے فخر امام کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے جائزہ لیا تھا کہ وبا کے دور میں کیا ورچوئل اجلاس بلایا جا سکتا ہے؟

کمیٹی نے تمام قوانین اور آئین کا جائزہ لیا۔ حکومتی اراکین کی خواہش ورچوئل اجلاس کی تھی لیکن اپوزیشن نے مخالفت کی اور کہا قواعد اس بات کی اجازت نہیں دیتے اس لیے براہ راست اجلاس ہونا چاہیے۔

جس کے بعد کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ آئین اور قواعد میں قومی اسمبلی کا ورچوئل اجلاس بلانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس لیے اراکین کے لیے ضروری ہے کہ اجلاس میں ذاتی طور پر حاضر ہوکر شرکت کریں۔

کمیٹی کی سفارشات کو سامنے رکھتے ہوئے ہی قومی اسمبلی کا گذشتہ اجلاس بلایا گیا تھا جو تین دن جاری رہا تھا۔

تاہم اس حوالے سے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ’ایسا غلط ہے کہ ورچوئل اجلاس بلانے کی آئین اجازت نہیں دیتا، یہ صدر کا اختیار ہے کہ وہ ورچوئل اجلاس بھی بُلا سکتے ہیں۔‘

سینیٹ و قومی اسمبلی کے لیے ایس و پیز

حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کی مکمل فیومیگیشن کروا دی گئی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ہر سیشن کے بعد جراثیم کش سپرے کرایا جائے گا۔ تمام رپورٹروں اور اراکین اسمبلی کے لیے ماسک پہننا لازم ہو گا، اور سیشن سے قبل کرونا ٹیسٹ رپورٹ بھی لازم قرار دی گئی ہے۔

مزید یہ کہ پارلیمنٹ کے گیٹ نمبر ایک کے باہر میڈیا کوریج نہیں ہوگی۔ پارلیمنٹ کے اندر کسی بھی جگہ پر موبائل پر کامنٹ لینے سے گریز کیا جائے گا البتہ کوئی رہنما بات کرنا چاہتا ہے تو سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے ایک دو رپورٹرز ساٹس لےکر پارلیمانی گروپس میں سب سے شیئر کردیں گے۔ بجٹ دستاویزات و تقریر کی ہارڈ و سافٹ کاپیاں بروقت فراہم کی جائیں گی۔

کسی ایک ادارے (ٹی وی، اخبار اور نیوز ایجنسی)کا بجٹ کے روز کوریج کرنے والی رپورٹنگ ٹیم میں سے کوئی ایک رپورٹر بجٹ دستاویز کی ایک کاپی  گیٹ نمبر پانچ سے حاصل کرسکے گا۔ میڈیا کے لیے مختص پریس گیلری کو بھی احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا ہے تمام رپورٹرز سرکاری ٹی وی کی براہ راست کوریج سے استفادہ حاصل کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان